08:19 am
مقبوضہ کشمیر،مودی ڈاکٹرائن 

مقبوضہ کشمیر،مودی ڈاکٹرائن 

08:19 am

مقبوضہ جموںوکشمیر میںمودی حکومت نے تاریخ کا ایک نیا، گھنائونا کھیل شروع کیا ہوا ہے ۔    قابض غیرملکی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں نے انسانیت کے خلاف یہ شروع کیا ۔ مکروہ دھندہ  یہ ہے کہ اپنے ہی سرکاری ملازمین اور لوگوں کو قتل کرو ،الزام نہتے اور معصوم کشمیریوں پر لگادو۔ اور پرامن تحریک آزادی کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کرو ۔ اس کام کیلئے بھارتی ایسے مواقع کا چنائوکرتے ہیں ۔جب دنیا میں کوئی بڑی کانفرنس ہورہی ہو۔ کوئی غیر ملکی سربراہ بھارت کا دورہ کررہا ہو۔ بھارت یا کشمیر میں کوئی مذہبی یا قومی تہوار ہو۔ 
 
  کشمیریوں کو قتل کرنے اور تقسیم کرنے کا بھارتی فارمولا بہت پرانا ہے ۔یہ انہوں نے اپنے غیر ملکی آقائوں سے سیکھا ہے ۔کشمیری قوم ان کی ہر چال کو سمجھتی ہے ۔وہ اپنے اتحاد واتفاق سے اسے ناکام  بنادیتے ہیں۔ قابض فوج 1947ء سے ہی کشمیری قوم کو تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے ۔  بھارتی کشمیری سکھوں اورمسلمانوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہیں۔سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت  کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے گائوں چھٹی سنگھ پور ہ میں بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیوں نے 36سے زائد   سکھوں کو قتل کرکے تحریک آزادی کشمیر اور حریت پسندوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی ۔ان کا جھوٹ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے نمائندوںنے بھارتیوں کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنادیا ۔انہی بھارتی ایجنسیوں،نریندرا مودی ،اور امیت شاہ کے انتہا پسند گروپ نے پلوامہ میں CRPFکے  350سے زائد دلت جوانوں کو بم دھماکے میں ہلاک کروا کے الزام تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان  پر لگانے کی کوشش کی ، لیکن پوری دنیامیںان کا بھیانک چہرہ آشکارہوا اور کشمیری قوم سرخرو ہوگئی ۔ ان کا مقصدصرف اور صرف نفرت پھیلانا اور الیکشن جیتنا تھا ۔ 
2019ء کے ماہ رمضان میں کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس دن کوئی کشمیری نوجوان شہید نہ کیا گیا ہو ۔ کسی عفت ما آب خاتون کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالا گیا ہو ۔یا کوئی گھر تباہ نہ کیا گیا ہو۔ قابض بھارتیوں نے عید کے موقع پر ایک نیا مکروہ کھیل کھیلا ،  خفیہ ایجنسیوں نے پلوامہ کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ان کشمیری نوجوانوں کو جو اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہونے اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بھارتی اداروں اور فورسز میں ملازمت کررہے ہیں ،کو قتل کرکے کشمیریوں میں اختلاف پیدا کرکے ،انہیںتقسیم کرنے کی بھونڈی کوشش کی اور بھارتی فورسز کے تین عہدیداروںکو قتل کرکے الزام نامعلوم افراد پر لگانے کی کوشش کی۔یہ وہ نامعلوم ہیں جن کے بارے میںمقبوضہ جموںوکشمیر کے بین الاقوامی شہرت یافتہ انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کہتے ہیں ۔ خرم پرویز کارکن انسانی حقوق ،مقبوضہ جموںوکشمیر ‘ عید کے موقع پر، بھارتی قتل کرواور تقسیم کرو کے منصوبے میں شکار ہونے والے کشمیری اہلکاروں میں  سب انسپکٹر فیاض احمد شاہ ولد رحیم شاہ ، سپیشل پولیس آفیسر، محمد اشرف ڈار ، سب انسپکٹر پولیس، اور محمد یعقوب شاہ جموںوکشمیرپولیس شامل ہیں ۔ علاوہ ازیںبھارتیہ جنتا پارٹی کے ضلعی صدر شبیراحمد بٹ  جن پر بھارتی ایجنسیوں کو شک ہوگیا تھا کہ اندرون خانہ یہ حریت پسندوںسے ملے ہوئے ہیں کو بھی عید کے موقع پر قتل کروایا گیا ۔ 
اسی عید کے موقع پر بھارتیوں نے عین اپنی انسانیت دشمن فطرت کے مطابق ایک بارہ سالہ بچے کو  شہیدکرکے کشمیری قوم کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی ۔
مقبوضہ جموںو کشمیرمیںموجود غیر ملکی فوج کے انسانیت سوز مـظـالم ،بھارتی حکومت کے نیچ سے نیچ  ہتھکنڈوںاور اربوںڈالر میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ پر خرچ کرنے کے باوجود ناکامی ان کا مقدر بن  کی ہے ۔  کشمیریوں کو قتل کرنے اور تقسیم کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ بھارتیوں کادیا ہوا   ہرزخم کشمیریوں کو ایک نئی قوت اور جذبہ آزادی کو مہمیز دیتا ہے ۔ وہ اس یقین کے ساتھ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے ہوئے نعرہ آزادی بلند کرتے ہیں کہ ظلم کی رات خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو  اس کی صبح آزادی اتنی ہی خوبصورت ہوگی ۔ ان شااللہ 

تازہ ترین خبریں