08:24 am
اُلو کو رات کا شاہین قرار دینے والے!

اُلو کو رات کا شاہین قرار دینے والے!

08:24 am

  مان لیجیے کہ  یہ قحط الرجال کا دور ہے! ملک میں قیادت کا بحران ہے!  یہ عارضہ وطن عزیز کو عشروں سے لا حق ہے ۔ میڈیا کی بدولت جعلی قائدین کی حقیقت صبح و شام آشکار ہوئی جاتی ہے۔  آنے والے کل میں ہمارے آج کی  داستان  تاریخ کے صفحات میں رقم ہوگی ۔ مئورخ لکھے گا کہ یہ وہ بے دانش گروہ ہے جو بار بار ایک ہی سوراخ سے خود کو ڈسوا تا رہا ۔ ڈسنے والے ناگوں کو دودھ پلاتا رہا ۔ قوم کی گردن پر سوار اہل سیاست بھرے بازار میں ننگے کھڑے ہیں ! ان کے تن سے عزت کا چولہ کسی اور نے نہیں بلکہ خود اپنے ہم پیشہ سیاست دانوں نے ہی نوچ کے تار تار کیا ہے۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والی پارلیمان میں قائدین کی زبانی آتش بازی کا مظاہرہ  یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ کس ذہنیت کے حامل مرد و زن قوم کے زخموں پر تیزاب ڈال کے  شفا ملنے کے سپنے دکھا رہے ہیں ۔ بدزبان جاہل کروڑوں لوگوں کو بھاشن دیتے ہیں۔ زبان درازی کی بیش بہا اہلیت اور آبائی علاقوں میں ووٹ ہتھیانے کی نایاب صلاحیت  کے علاوہ پلے کچھ بھی نہیں ۔ جب چاہیں اپنے نکھٹو لیڈر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا کر قائد اعظم کے برابر لا کھڑا کریں ۔ جب چاہیں مخالف کو فرعون یا ابو جہل قرار دے دیں ۔
 
 شاعر مشرق کے مطابق یہی وہ خوش آمدی ہیں جو اُلو کو رات کا شاہین قرار دے ڈالتے ہیں۔ کیا پارلیمان آبائو اجداد کے قصیدے پڑھنے کا مقام ہے ؟ کیا پارلیمان زیرتفتیش ملزموں کی گرفتاریوں پر بین ڈالنے کے لیے وجود میں آئی ہے؟ گذشتہ نو ماہ نہیں بلکہ دس برسوں کے دوران پارلیمان میں کی گئی تقاریر کا حاصل وصول کیا ہے ؟ بدزبانی ، الزام تراشیاں ، منہ ماریاں ، دشنام طرازی ، گھٹیا جگت بازی اور سیاسی اجداد کے من گھڑت قصے !میڈیا کی کرمفرمائی سے  چرب زبان مجمع بازوں کو دانش وری کا نقاب پہنا کے مسندِ ارشاد پر براجمان کر دیا گیا ہے۔
اعلانِ جہل کر تجھے آسودگی ملے 
دانش وری تو خیر سے ہر گھر میں آگئی
جو ایوان قانون بنانے کے لیے وجود میں آیا اُسی ایوان میں قانون توڑنے کی ترکیبیں ایجاد کی جا رہی ہیں ۔ لندن سے شفایابی کا عارضی پروانہ لے کے تازہ تازہ وارد ہونے والے بیمارِ سیاست نے پارلیمان میں ارشاد فرمایا کہ جب ملزم ہر پیشی پر حاضر ہو رہا تھا تو پھر گرفتاری کی کیا ضرورت تھی؟ سوال بہت اچھا ہے !  ماہرین قانون سر جوڑ کے بیٹھیں اور بتائیں کہ  کیا واقعی عدالت نے سابق صدر مملکت کی  ضمانت منسوخ کر کے  غلط اقدام اٹھایا ہے ؟ کیا جیلوں میں قید ہزاروں زیرتفتیش ملزمان بھی عدالتی ظلم کا شکار ہو رہے ہیں ؟ 
قائد حزب اختلاف سے بھی دریافت کیا جانا چاہیے کہ عدم گرفتاری کا اصول عوام پر بھی لاگو کروانا پسند فرمائیں گے یا یہ نسخہ صرف سیاسی خواص کے لیے ہی تجویز کیا گیا ہے؟ بلاشبہ ملک میں قانون تو ایک ہی ہے البتہ اُس کا اطلاق اور تشریح الگ الگ ہے ۔ ہر گرفتاری سے جمہوریت نامی نازک اندام د وشیزہ  کی آبرو  خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ البتہ  حکمراں طبقے کی لوٹ کھسوٹ کی شکل میں مسلسل سیاسی آبرو ریزی  سے  اس  جمہوریت کا حسن نکھر نکھر جاتا ہے۔ مان لیجیے  یہ جمہوریت نامی عفت ماب دوشیزہ نہیں بلکہ تماش بینوں میں گھری طوائف ہے ۔  غلاظت میں لتھڑی  فحاشی اور عریانی کو تماش بینوں نے حسن کا نام دے ڈالا ہے ۔ بزبان شاعر 
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں 
معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا !  یہ کس نے کیا کچھ پتا نہیں ؟ عوام رُل گئے ! پینے کو پانی نہیں ! کھانے کو روکھی روٹی نہیں ۔ سرکاری شفا خانے  رفتہ رفتہ  عقوبت خانے بن گئے ! دوا دارو کا بندوبست نہیں ۔ چادر و چار دیواری کا تقدس تو دور کی بات بھری شاہراہ پر ، فٹ پاتھوں پر پردہ دار بیبیاں بچے جننے پر مجبور ہیں۔ تھانوں میں بے گناہوں کو اُلٹا لٹکا کے چمڑی اُدھیڑ دی جاتی ہے ۔ سادہ لوح شہری عدالتوں اور تھانوں کا نام سن کے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں ۔ پی پی پی ، نون لیگ اور ان جماعتوں کی کھرچن سے تشکیل پانے والی پی ٹی آئی کی حکومت  اس بات پر ڈٹی ہوئی ہیں کہ قوم کی اُن جیسی خدمت تو کسی اور نے کی ہی نہیں ۔ پارلیمان کا اجلاس بلوائیں ! آئین میں ترمیم فرمائیں ۔ پارلیمان کے ہر رکن کو قانون سے مستثنیٰ کر دیں ! سات سات خون معاف فرما دیں ۔ اثاثے ظاہر کرنے کی شرط ختم کردیں ۔ آئین میں یہ بھی درج کر دیں کہ اس ملک پر وزیر اعظم کی حیثیت سے بھٹو یا  شریف خاندان کا ہی کوئی مرد و زن  حکومت کرنے کا اہل ہو گا ۔ کیونکہ ان خاندانوں نے  ملک کو ایٹم بم  دیا ۔  پھانسی چڑھے  ۔ قتل ہوئے ۔ رہی بات ملک کی معاشی بد حالی کی تو اُس کی وجوہات جاننے کے لیے پارلیمانی کمیشن بنا دیں یا عدالتی کمیشن بنا دیں ۔ حسب عادت جے آئی ٹی تشکیل دے دیں ۔ یہ کمیشن یا ٹیم  دس پندرہ برس دل لگا کے تحقیقات فرمائے  اور مناسب موقع پر قوم کو  بتا دے کہ آخر  اتنے دیانت دار  اور فرشتہ  صفت قائدین کے ہوتے  ہوئے کون  سے  شرپسند ملک کی معیشت اور نظام کا  بیڑہ غرق کر گئے ہیں ۔ 

تازہ ترین خبریں