08:26 am
دعائیں غیرموثر

دعائیں غیرموثر

08:26 am

ہما ری حالت توایسے جاں بلب مریض جیسی ہوگئی ہے جوبڑی مشکل سے رینگتاہوااپنے معالج کے پاس توپہنچ جاتاہے لیکن اس میں اتنی ہمت باقی نہیں کہ وہ یہ بھی بتاسکے کہ اس کو کیاتکلیف یاکیابیماری ہے۔معا لج کیپوچھنے پراس کی آنکھوں سے آنسورواں دواں ہیں اورزخموں سے چورجسم کے ہراعضاکی طرف اشارہ کررہاہے۔سا لوں پرانی بیماریوں کا کرب اورسارے جہاں کا درد سمٹ کراس کے چہرے سے عیاں ہے لیکن بتانے کیلئے اس کی اپنی زبان اس کاساتھ چھوڑ گئی ہے۔ ما سوائے سسکیوں،آہوں اورکراہوں کے درمیان صرف اشارے سے کبھی سرکی طرف،کبھی دل پر ہاتھ رکھ کراورکبھی دونوں ہا تھوں کواپنی آنکھوں پر رکھ کرزورسے روناشروع کر دیتا ہے۔ جب معالج تھوڑاحوصلہ دلاتاہے توپھراس کی جانب ایک عجیب سی امیداورآس کے ساتھ آنکھوں ہی آنکھوں میں امیدواررحم کی درخواست کے ساتھ خاموش بیٹھ  جاتاہے۔

یہی حال آج کل ان لوگوں کاہے جن کے سینے میں اس مملکت خداداد پاکستان کادردآبلہ بن کرایک ناسورکی شکل اختیارکرچکاہے اور درد کی  شدت سے ان کوایک پل چین میسرنہیں اور دکھ کی بناپران کی آنکھوں سے نینداڑچکی ہے ۔نیم شب جب وہ اپنے اللہ کے حضورسجدہ ریزہوتے ہیں توان کی ہچکی بندھ جاتی ہے۔اللہ سے رحم اور امید کے ساتھ پاکستان کیلئے شفااورسلا متی کی عاجزانہ دعا ں کے سا تھ اپنے ان شہداکاواسطہ دیتے ہیں جو اس ملک کی خاطرقربان ہوگئے۔میراوجدان تواس وقت مجھ کوشدیدبے چین کردیتاہے اورسانس لینا دشوارہوجاتاہے جب کبھی یہ سوچتاہوں کہ ان سوالاکھ بے گناہ بیٹیوں اوربہنوں کوروزقیامت کیاجواب دوں گاجن کواس مملکت پاکستان کی خاطر مشرقی پنجاب میں ہم چھوڑآئے تھے،جوآج بھی آسمان کی طرف منہ کرکے اپناقصورپوچھتی ہوں گی!صرف مشرقی پنجاب کے ان پانچ ہزارسے زائدکنوئوں کاحال کس قلم سے کیسے لکھوں جن میں مسلمان بچیاں اپنی آبروبچانے کیلئے کود گئیں۔ ان ہزاروں بچوں کاتذکرہ کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے جن کوان کے ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے تلواروں اوربھا لوں کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کر دیاگیا۔آج بھی لا کھوں افراداپنے پیاروںکویادکرکے چپکے چپکے اپنے اللہ کے حضوراشک بارہوکراس پاکستان کیلئے ان کی قربانی کی قبو لیت کی دعائیں کرتے ہیں!
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں 
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے 
یہ حالت صرف ان لوگوں ہی کی نہیں جنہیں میرے رب نے حالات وواقعات کاادراک دیا ہے۔وہ کسی بڑی آندھی یاطوفان کے آنے سے پہلے ہی خوفزدہ ہوجا تے ہیں اورفوری طورپراپنے تئیں ان خطرات سے آگاہ کرناشروع کر دیتے ہیں،منادی کرناشروع کردیتے ہیں۔دن رات اپنے تمام وسائل بروئے کارلا تے ہوئے دامے درمے اورسخنے اسی کام میں لگ جا تے ہیں کہ کسی طرح ان خطرات کاتریاق کیاجائے۔
آجکل ذراسی سوجھ بوجھ رکھنے والاشخص بھی حیرت میں گم چہرہ لئے ایک دوسرے سے یہی سوال کرتاپھررہاہے،کیاہونے والاہے اوراب کیا بنے گا؟ہما را مستقبل کیاہے،ہم کہاں کھڑے ہیں؟ایک دوسرے سے کوئی اچھی خبرکی تمنادل میں لئے ہوئے،ایک امیدکی شمع آنکھوں میں سجائے جیسے بسترمرگ پرپڑے مر یض کے لواحقین کسی معجزے کی آرزومیں کسی حکیم، حاذق سے مر ض کے تریاق ملنے کی نویدکیلئے بے تاب ہوتے ہیں یاکسی صاحب نظرکی دعاکے محتاج جس سے مریض کی جاں بچنے کی آس ہوجائے لیکن شائداب مریض کوکسی حکیم کے تریاق،کسی ڈاکٹرکی دوایاپھرکسی صاحب نظرکی دعاسے زیادہ کسی ماہر سرجن کی ضرورت ہے اورشا ئد آپریشن میں جتنی دیرہوگی مریض کی جان بچنے کے امکانات اتنے ہی مخدوش ہوجائیں گے،مریض کی حالت اتنی ہی بگڑتی چلی جائے گی،مرض اتناہی پھیلتاجائے گا،آپریشن اتناہی لمبااورتکلیف دہ ہوجائے گا۔
مجھ سے ما یو سی کاگلہ بالکل نہ کریں اورنہ ہی میرامقصدبلا وجہ آپ کوڈراناہے لیکن آ پ ہی مجھے یہ بتائیں کہ آپ کاکوئی عزیزجوآپ کوبہت ہی پیاراہووہ کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہو جائے، سب سے پہلے آپ اس کے بہترعلاج کیلئے دنیاکے بہترین ڈاکٹر،بہت ہی سمجھدارطبیب یا بڑا نامورحاذق تلاش کرنے میں دن رات ایک کر دیں  گے اوراس کی زند گی بچانے کیلئے اپنی توفیق سے بڑھ کرخرچ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کریں گے۔یہ تمام وسائل مہیا ہونے کے بعدآپ سجدے میں روروکراپنے عزیز کی شفایابی کیلئے اپنے معبودکواس کی تمام جملہ صفات کاواسطہ بھی دیں گے تب جاکرآ پ کے دل کوا طمینان آئے گاکہ وہی شفا کامنبع ہے اس سے بہترکون ہے جوہما ری دعاں کوشرف قبولیت دے گا۔
فاسق کمانڈوپرویزمشرف سے گلوخلاصی حاصل کرنے کے بعدپاکستانی عوام نے کچھ سکھ کا سانس لیاتھاکہ اب قسمت اورحالات بدلنے کا وقت آگیاہے لیکن ہمیں توپہلے سے زیادہ اندھیروں میں دھکیل دیاگیاہے،شائدابھی مزیدبدنصیبی کے اندھیروں کی ٹھوکریں اس قوم کے نصیب میں ہیں یاپھرکڑی آزمائش کے دن ابھی اورباقی ہیں۔ مہنگائی کاجن توپہلے ہی ہمارے دن رات غارت کرچکا ہے بلکہ اب وہ جوخلق خداکے سا منے ربوبیت کادعویٰ روٹی کپڑااورمکان دینے کااعلان کر رہے تھے،آج ضمانت منسوخ ہونے پرنیب کے حوالے کردیئے گئے ہیں لیکن جلدہی ’’وکٹری‘‘ کانشان بناتے ہوئے بڑے تفاخرسے باہر آئیں گے اوریہی عوام ان پر پھول کی پتیاں نچھاورکررہی ہوگی۔
عوام کے ہاتھوں میں گنتی کے چندنوٹ ہیں  لیکن وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سے کون کون سی چیزخرید یں،یوٹیلٹی بلزدینے کے بعدتوکچھ بچا ہی نہیں۔شائداسی لمحے کیلئے قرآن پکار پکارکرکہتاہے کہ اگرتم میرے ذکر سے منہ موڑو  گے میں تمہا ری گزران مشکل کردوں گا۔ جب  قومیں عدل سے بے بہرہ ہوجائیں،ظالموں کے  ظلم  پراحتجاج کرناچھوڑدیں، صرف اپنی سلامتی کی دعامانگیں،ایک دوسرے کے مصائب سے ناآشناہوجائیں توپھراصلاح کیلئے اٹھنے والے ہاتھ بھی غیرموثرہوجا تے ہیں۔

تازہ ترین خبریں