08:27 am
مسائل کا حل اجتماعی توبہ

مسائل کا حل اجتماعی توبہ

08:27 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
اب پاکستان میں سب سے ’’سپریم‘‘ کہلانے والی پارلیمنٹ کی صورتحال ہی دیکھ لیجئے! نہ جانے یہ پارلیمنٹ ‘قوم کے کن گناہوں کی سزا ہے کہ جو قومی خزانے پر بوجھ  بن کر غریب قوم کے سروں پر مسلط ہے؟
 
منگل کی شام ہم گئے تو بجٹ تقریر سننے کے لئے  تھے‘ لیکن پارلیمنٹ  کے اجلاس میں جو تماشا ہوا‘ اپوزیشن نے جو ہنگامہ برپا کیا‘ اپوزیشن اور حکومتی اراکین جس طرح سے گتھم گتھا ہوئے ’’معزز اراکین‘‘ نے جس طرح سے ایک دوسرے کو دھکے مارے‘ اسے دیکھ کر کہیں  سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ ایوان معزز یا سپریم کہلانے کا مستحق ہے؟
علی محمد خان ‘ فیصل واوڈا؟ شہریار آفریدی‘ علی امین گنڈا پوری چند دیگر اراکین کے ہمراہ لائن بنا کر بپھرے ہوئے اراکین اپوزیشن اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان دیوار بنے ہوئے تھے۔
بلاول زرداری کے ساتھ اگر راجہ پرویز اشرف نہ کھڑے ہوتے تو بلاول کے ابلتے جذبات دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ جیسے جوانی اور دیوانی دونوں  آج ہم رنگ ہو کر ہی رہیں گے۔
گونیازی گو‘ گلی گلی میں شور ہے علیمہ باجی چور ہے‘ بندہ  نمبر دو نیازی‘گو نیازی گو نیازی‘ ساہیوال کے ن لیگی ایم این اے عمران شاہ‘ بجٹ کی کاپیاں پھاڑ پھاڑ کر وزیراعظم عمران خان پر پھینکے کی ڈیوٹی نبھاتے رہے‘ کون سا بجٹ؟ کون سی بجٹ تقریر؟ علی زیدی اور فواد چوہدری بجٹ تقریر پڑھنے والے حماد اظہر کو جلد سے جلد تقریر ختم کرنے کے پر زور اشارے کرتے رہے۔
اپوزیشن لیڈر شہباز شریف چپ مگر خوش کھڑے اپنے لیگی متوالوں کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے‘ میں اسپیکر اسد قیصر کے چہرے کی طرف بغور دیکھتا رہا‘ مجھے وہاں پہ سوائے بے بسی‘ بے چارگی اور غلامانہ آثار کے سوا کچھ نظر نہ آیا‘ اس ساری صورتحال میں وزیراعظم عمران خان شرارتی انداز میں مسکراتے نظر آئے‘ ان کے لئے جیسے یہ محض ایک کھیل تماشا تھا‘ ایک طرف حکمران ٹولہ کہتا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے‘ مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے‘ قرض لینا‘ قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں  دنیا میں سب سے کم ٹیکس پاکستانی دیتے ہیں‘ اس لئے ہر پاکستانی کو ٹیکس دینا پڑے گا‘ کوئی ان سے یہ نہیں کہتا کہ عوام سے ٹیکس کا مطالبہ کرنے والے حکمران پہلے پارلیمنٹ کی اصلاح تو کریں‘ پارلیمنٹ کے اراکین جب چاہتے ہیں  بل لاکر خود ہی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرتے ہیں‘ ممبران پارلیمنٹ خواہ وہ اپوزیشن کے ہوں یا حکومت کے‘ قومی خزانے سے اپنی ہر درد کی دوا تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’’عوام‘‘ کے نام پر عوام کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچنے والے اسمبلیوں میں جو تماشے لگاتے ہیں انہیں دیکھ کر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ایسی حکومت ‘ ایسی اپوزیشن اور ایسی پارلیمنٹ سے توبہ ہی بھلی‘ بے شک قرآن  کا فرمایا ہوا سچ ہے کہ ’’تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے ہے ‘یعنی ان گناہوں کے سبب جو تم کرتے رہتے ہو اور بہت سے گناہوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف ہی کر دیتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو مصائب اور آفات تم پر آتی ہیں ان کا حقیقی سبب تمہارے گناہ ہوتے ہیں... اگرچہ  دنیا میں نہ ان گناہوں کا پورا بدلہ دیا جاتا ہے اور نہ ہر گناہ  پر مصیبت و آفت ہوتی ہے بلکہ بہت سے گناہوں کو تو معاف کر دیا جاتا ہے‘ بعض گناہوں پر ہی گرفت ہوتی ہے اور آفت اور مصیبت بھیج دی جاتی ہے اگر ہر گناہ  پر دنیا میں مصیبت آیا کرتی تو ایک انسان بھی زمین پر زندہ نہ رہتا‘ مگر ہوتا یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کو تو حق تعالیٰ معاف ہی فرما دیتے ہیں اور  جو معاف نہیں ہوتے ان کا بھی پورا بدلہ دنیا میں نہیں دیا جاتا بلکہ تھوڑا سا مزہ چکھایا جاتا ہے‘ جیسا کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا ۔ لیذ یقھم بعض الذی عملوا… یعنی تاکہ  مزہ چکھا دے اللہ تعالیٰ کے کچھ حصہ ان کے برے اعمال کا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اعمال بد اور گناہوں پر جو مصیبت اور آفت دنیا میں بھیجی جاتی ہ وہ بھی غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہی ہے کیونکہ مقصود اس دنیا کی مصیبت سے یہ ہوتا ہے کہ غافل انسان کو تنبیہ ہو جائے اور اپنے گناہوں اور نافرمانیوں سے باز آجائے‘ جو انجام کار اس کے لئے مفید اور بڑی نعمت ہے اس لئے بعض  علماء نے فرمایا کہ جو انسان کوئی گناہ کرتا ہے وہ ساری دنیا کے انسانوں ‘ چوپایوں اور چرندے ‘ پرندے جانوروںپر ظلم کرتا ہے کیونکہ اس کے گناہوں کے وبال سے جو بارش کا قحط اور دوسرے مصائب دنیا میں آتے ہیں اس سے سب ہی جاندار متاثر ہوتے ہیں اس لئے قیامت کے روز یہ سبب بھی گناہ گار انسان کے خلاف دعویٰ کریںگے‘ الغرض قرآن کریم نے مصائب اور پریشانیوں کے  اسباب ‘ مقصد اور ان کا علاج مکمل کھول کر بیان کر دیا ہے
 آنے والے مصائب  اورتمام فتنوں سے آگاہ فرمانے کے بعد محسن عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے بچنے کا نسخہ بھی تجویز فرمایا اور یقینا یہ آپ ہی کا منصب تھا کہ امت کو ان فتنوں سے بچنے کا کامیاب اور بہترین نسخہ عطاء فرمائیں‘ چنانچہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فتنوں کو دور کیلئے اور فتنوں سے حفاظت کیلئے بہت سی ہدایات اور احکام صادر فرمائے ہیں جن کی اگر امت پیروی کرے تو فتنوں کے شر سے یقینا محفوظ رہ سکتی ہے‘ آپ ﷺنے پہلا حکم یہ صادر فرمایا کہ 
تلزم جماعۃ المسلمین وامامہم
جمہور مسلمانوں اور ان کے امام کے ساتھ ہوجاؤ اور جو لوگ ان کی سرکشی اور بغاوت کر رہے ہیں ان سے کنارہ کشی اختیار کرلو اور ان باغیوں کا ساتھ نہ دو۔ 
ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اگر مسلمانوں کی اکثریت والی ایک جماعت اور امام نہ ہو تو پھر کیا کریں؟ 
جواب میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسی صورت میں ہر جماعت اور ہر گروہ سے الگ ہو کر زندگی گزارو اور اپنے گھر کا ٹاٹ بن جاؤ۔ 
پرانے زمانے میں بلکہ قریب تک کے زمانے میں بھی فرش پر بچھانے کے لئے ٹاٹ، جن سے بوریاں بھی بنتی ہیں سوتر کے بنے ہوتے ہیں ...وہ استعمال ہوتے تھے۔ گویا وہی فرشی قالین ہوتے تھے‘ آج کل اس کی جگہ جدید قسم کے مختلف نمونوں کے انتہائی قیمتی قالینوں نے لے لی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اپنے گھروں میں اس طرح جم جاؤ جس طرح فرش پر قالین ہوتا ہے کہ ایک دفعہ جب اس کو بچھا دیا جاتا ہے تو بلا ضرورت جلدی جلدی اس کو اٹھایا نہیں جاتا‘ اسی طرح تم بھی اپنے گھر کا قالین بن جاؤ اور بغیر ضروت گھر سے باہر نہ نکلو‘ ان جماعتوں اور پارٹیوں کے ساتھ شمولیت اختیار مت کرو‘ بلکہ سب سے کنارہ کش ہو کر اﷲ اﷲ کرو۔

تازہ ترین خبریں