08:29 am
بجٹ کا گورکھ دھندا اور الطاف حسین!

بجٹ کا گورکھ دھندا اور الطاف حسین!

08:29 am

٭بجٹ! قومی اسمبلی میں ہنگامہ، ہاتھا پائی!! الطاف حسین سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، وزیرداخلہ اعجاز شاہO نئے انتخابات کے لئے کوئی رقم نہیں رکھی گئیO سرکاری افسروں کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں، وزیروں کے عملے کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافہO جسٹس عیسیٰ ریفرنس: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہڑتال نہیں کرے گی۔ سیکرٹری، نائب صدر، دوسرے عہدیداروں کا اعلانO ریلوے کا 40 ارب کا بجٹ 16 ارب رہ گیاO صدر مملکت کی تنخواہ، دو لاکھ 28 ہزار روپے کم ہو گئی۔
 

٭محترم قارئین! کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بجٹ پر کیا لکھوں بے شمار اعداد و شمار کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ کسی ایک چیز کے سستا ہونے کی خبر پر مطمئن ہونا چاہتا ہوں تو ساتھ والی خبر میں بالواسطہ ٹیکسوں سے اسی چیز کی ناقابل برداشت مہنگائی سے دل دہل جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار کی تفصیل میں جانے سے دماغ تھک گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً 516 ارب (5 کھرب، 16  ارب) روپے کے نئے ٹیکسوں کے بعد ہر چیز مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کی ڈراما بازی! ایک طرف اعلان کیا جا رہا ہے کہ بیکریوں کی مصنوعات ڈبل روٹی اور بسکٹ وغیرہ سستے کئے جا رہے ہیں، ساتھ ہی اعلان ہو رہا ہے کہ چینی کی قیمت میں تین روپے 65 پیسے کلوکا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بجلی دو روپے یونٹ، گھی اور پٹرول کی قیمت میں کمر توڑ مہنگائی کا اعلان ! وزیراعظم صاحب! بیکریوں کی کون سی مصنوعات گھی، چینی، دودھ، گوشت اور بجلی کے بغیر بن سکتی ہیں؟ پٹرولیم کی جان لیوا مہنگائی کے نتیجے میں ان مصنوعات کو بیکریوں تک پہنچانے میں جو اضافی اخراجات ہوں گے، ان کابوجھ کس پر پڑے گا؟ مجھے تسلیم ہے کہ قوم پر یہ ابتلا سابق حکمرانوں کی قومی وسائل کی اندھا دھند لوٹ مار سے پیش آئی ہے۔ ان خونخوار مگر مچھوں نے ان وسائل سے بیرون ملک کھربوں کے فلیٹ، محلات، فیکٹریاں اور پلازے بنا لئے، ملک کو اجاڑ دیا اور اپنے خزانے بھر لئے۔ یہ باتیں ٹھیک اور درست ان میں سے کچھ جیلوں میں جا چکے، مزید تیار بیٹھے ہیں، حشر شروع ہو چکا ہے، مگر  تم لوگ قوم کو سستی خوشی دینے کے لئے غلط باتیں نہ کرو! یہ جو حکومت نے چینی کی قیمت میں تقریباً پونے چار روپے کلو کا اضافہ کیا ہے، اس کا فائدہ سیدھے سیدھے جہانگیر ترین، شریف خاندان اور زرداری خاندانوں کی ملک میں جگہ جگہ قائم بے شمار شوگر فیکٹریوں کے مالکان کو پہنچے گا، ان کی تجوریاں مزید بھر جائیں گی۔ کتنا مضحکہ خیز ہے فخریہ اعلان کہ بیکریوں کی مصنوعات سستی ہو جائیں گی! لاہور میں 65 روپے والی ڈبل روٹی 100 میں مل رہی ہے۔ دودھ دہی کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں، ان میں اضافہ ہو گا، کمی کیسی؟ قارئین کرام! بجٹ کی باتوں سے سردکھنے لگا ہے۔
٭آصف زرداری، نوازشریف، حمزہ شہباز اور ان کےساتھیوں کے ساتھ قدرت نے جو کرنا تھا وہ ہو رہا ہے۔ یہ انوکھی باتیں نہیں ہیں، ہر کمال کو بالآخر زوال آتا ہے۔ بار بار لکھا کہ ہوش کرو، تاریخ پڑھو! قارون کے خزانوں کی باتیں اپنی جگہ مگر پتہ کرو کہ ملک کے 35 ارب ڈالر لوٹنے والے ملائیشیا پر مسلط جنرل سوہارتو اور ایسے ہی دوسرے کرداروں کرنل قذافی، صدام حسین وغیرہ کی قبریں کہاں ہیں؟ کس حالت میں ہیں؟ بہت لکھا کہ جتنے مرضی دولت کے انبار لگا لو، کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی، آخری منزل صرف سات فٹ لمبی ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ تم اس دنیا میں آتے وقت کوئی لباس پہن کر نہیں آتے ، جاتے وقت بھی کوئی لباس نہیں ہو گا۔ صرف تین سفید چادریں، وہ بھی دوسرے لوگ ڈالیں گے! بہت سمجھایا کہ وقت ایک سا نہیں رہتا! اب جیلوں، حوالاتوں میں اکیلے! کھربوں کی دولت،کھربوں کے اثاثے کچھ نہ کر سکے۔ تمہیں ایران کی مثال دی۔ خود کو عالم اسلام کا حصہ قرار دینے کی بجائے، ایران کی ڈھائی ہزار سال پہلے والی’ سائرس اعظم‘ کی سلطنت کا وارث قرار دیا۔ لاہور میں 1974ء میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا کہ وہ خود کو عالم اسلام کے تمام بڑے بڑے حکمرانوں کو اپنے سے کم تر سمجھتا تھا! مگر جب قیامت آئی تو ایک طیارے میں ڈالر بھر کر ملک سے اس طرح بھاگا کہ دوسرے ملک تو ایک طرف خود اس کے سرپرست امریکہ نے اس کے طیارے کو اپنے ہاں اترنے کی اجازت نہ دی۔ طیارہ ملکوں ملکوں گھومتا رہا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ تیل ختم ہو گیا اور طیارے کے تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ایک سمندری جزیرہ کی حکومت نے رحم کھا کر اسے تیل فراہم کر دیا۔ بالآخر مصر کے صدر نے پرانی دوستی کو مدنظر رکھ کر قاہرہ میں اترنے کی اجازت دی۔ سابق شہنشاہ شدید بیمار ہو چکا تھا۔ ہوائی اڈے سے سیدھے ہسپتال اور چند روز کے بعد قاہرہ کی ایک تنگ و تاریک گلی کے پاس قبرستان میں دفنا دیا گیا! کبھی کسی نے اس کی قبر دیکھی ہے؟ اور کیا لکھوں، اتنا ہی کافی ہے! میں لندن میں مقیم ایک مفرور اشتہاری مجرم الطاف حسین کی گرفتاری کے بارے میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔
٭الطاف حسین! کیا آغاز اور اب کیا انجام! لندن پولیس اسے تھانے میں لے جانے کے لئے آئی تو اپنے وقت کا فرعون آسانی کے ساتھ چلنے پھرنے سے معذور تھا۔ اس کی بنائی ہوئی پارٹی ایم کیو ایم اس سے باغی ہو کر تتر بتر ہو چکی تھی۔ وہ الطاف حسین، جس کے حکم سے سرتابی کی سیدھی سزا موت تھی، جس کی پارٹی کے داخلہ فارم میں واضح طور پر درج تھا کہ عمر بھر الطاف بھائی کا وفادار رہوں گا اور کسی کوتاہی کی صورت میں ہر قسم کی سزا کا سزاوار ہوں گا۔ یہ فارم بھی زبردستی بھروائے جاتے تھے، انکار کی مجال نہیں تھی۔ معمولی سے معمولی سزا یہ تھی کہ بلاتفریق کسی بھی بڑے عہدیدار کو سرعام تھپڑ مارے جاتے تھے (فاروق ستار!!) اور…اور پیپلزپارٹی کے وزیر داخلہ جنرل فرحت اللہ بابر کی زیر قیادت کراچی میں چھاپے مارے گئے تو ایم کیو ایم کی ایسی ایسی اذیت گاہوں اور عقوبت خانوں کا انکشاف ہوا جہاں کسی بدنصیب کو موت سے پہلے بار بار موت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی الطاف حسین کے حکم پر ایم کیو ایم کے مخالفین کی بوری بند لاشیں ملک بھر میں بھیجی جاتی تھیں۔ مجھے پھر اپنے بھتیجے اسامہ بخاری کی لاہور آنے والی بوری بند لاش کا دلدوزمنظر یاد آ گیا ہے۔ کراچی میں مقیم اسامہ کی ماں! ایم کیو ایم کی رکن تھی مگر اسامہ کا قصور یہ تھا کہ اس کا باپ پنجابی تھا! قارئین کرام! زیادہ بیان کرنے کی تاب نہیں رہی۔ میں نے کراچی میں الطاف حسین کا انتہائی ظالمانہ دور دیکھا ہے۔ یہ شخص لندن فرار ہونے کے بعد شام کے وقت نشہ سے مدہوش ہو کر انتہائی کرخت آواز میں اوٹ پٹانگ گیت گانے لگتا تھا۔ اسے ایک روز خیال آیا کہ اس کا گانا سننے کے لئے سامعین بھی ہونے چاہئیں۔ کراچی میں نصف رات کا وقت تھا۔ حکم جاری کیا کہ سامعین جمع کئے جائیں۔ ایم کیو ایم کے عہدیداروں کی جان پر بن گئی۔ کسی نہ کسی طرح بہت سے سامعین جمع کئے۔ ٹیلی ویژن پر الطاف حسین نے مدہوشی کے عالم میں جھومتے ہوئے انتہائی کرخت آواز میں ایک بھارتی گانا گایا۔ مجبور سامعین تالیاں بجاتے رہے، وہ گاتے گاتے سو گیا اور سامعین کی جان چھوٹی! اور…اور پاکستان کے نووارد وزیرداخلہ اعجاز حسین شاہ نے کیا اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو گالیاں دینے اور اس پر بھارت کو حملہ کی دعوت دینے والے الطاف حسین کے معاملہ کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ پتہ نہیں وزیرداخلہ کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ کیا انہیں کسی نے نہ بتایا کہ الطاف حسین کے خلاف سارا کیس پاکستان کے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے خود لندن میں جا کر تیار کرایا تھا؟ اور سُنیں وزیر داخلہ صاحب! آپ کو جس باس عمران خان نے اس کرسی پر بٹھایا ہے، اس نے لندن جا کر وہاںکی ہائی کورٹ میں باقاعدہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا!

تازہ ترین خبریں