08:10 am
بجٹ

بجٹ

08:10 am

پی ٹی آئی نے اپنا پہلا باضابطہ بجٹ پیش کر دیا ہے۔ ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی حکومت کے تین اہم اہداف تھے۔ اولاً اقتصادی ترقی دوسرے حکومتی آمدن میں اضافہ اور تیسرے حکومتی خسارے میں کمی لانا۔ ان تینوں اہداف میں پیش کیا گیا بجٹ واضح طور پر ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔ پہلی بات اقتصادی ترقی کا پیمانہ جی ڈی پی میں شرح  اضافہ ہوتا ہے۔ پچھلی حکومت میں یہ شرح نمو 6فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ موجودہ سال میں یہ شرح نمو2.9فیصد تک گر گئی ہے اور بجٹ کے مطابق اگلے سال یہ شرح نمو 2.4فیصد تک گر جائے گی۔
 
دوسری بات حکومتی آمدنی میں اضافہ‘ بجٹ کہتا ہے کہ حکومت اگلے سال 5.500ارب روپے کے ٹیکسز وصول کرے گی۔ یہ تقریباً  ۔۔ صریحاً ناممکن ہے۔ پچھلے سال کا ہدف  3900ارب روپے تھا اور یہ حکومت 3500ارب روپے بھی اکٹھے نہ کر پائی۔ اب یہ کون سی جادو کی چھڑی استعمال کریں گے کہ ٹیکس کی وصولی3500روپے سے بڑھ کر 5500 ارب روپے ہو جائے گی یعنی 57فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ معیشت سکڑ رہی ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں‘ ملازمتیں کم ہو رہی ہیں اور ہم ٹیکس آمدنی میں 57فیصد اضافے کا بجٹ بنا رہے ہیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ ہدف صرف  آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کیلئے رکھاگیا ہے۔ مگر کیا آئی ایم ایف اتنا ہی اندھا ہے کہ وہ اس بات کو مان لے گا۔ اب ٹیکس آمدنی میں اضافے کیلئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے وہ عوام کی کمر توڑ دے گا۔ عام استعمال کی اشیاء مثلاً چینی‘ کھانے کا  تیل‘ گوشت‘ مرغی ہر چیز پر سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے یا لگا دیا گیا ہے۔ پہلے 12لاکھ تک کی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں تھا۔ اب یہ سطح گھٹا کر 6لاکھ تنخواہ داروں کیلئے اور 4لاکھ دیگر لوگوں کے لئے کر دی گئی ہے۔ پہلے انفرادی ٹیکس کی انتہائی سطح 20فیصد تھی جوکہ  اب 35فیصد کر دی گئی ہے جبکہ کمپنیوں کے منافع پر ٹیکس ریٹ سابقہ سطح یعنی 29فیصد پر ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ آج کی اقتصادی دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہوگا جہاں انفرادی ٹیکس کی شرح کمپنی کے منافع پر ٹیکس کی شرح سے زیادہ ہو۔ اب اسی بات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انفرادی ٹیکس دینے والوں میں غالب اکثریت تنخواہ دار طبقے کی ہے۔ اس طبقے کو پہلے ہی مہنگائی اور افراط زر نے بری طرح کچلا ہوا ہے۔ اس بجٹ نے ان پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ تاجر اور صنعت کار تو اپنا انکم ٹیکس اپنے کسٹمرز کو منتقل کر دیتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ کیا کرے‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر انفرادی ٹیکس کی انتہائی سطح 20فیصد ہی رکھی جاتی اور کارپوریٹ ٹیکس کو 29سے بڑھا کر 31فیصد کر دیا جاتا۔
اب آتے ہیں تیسرے ہدف کی طرف‘ یعنی حکومتی خسارے میں کمی‘ ٹیکس وصولی میں غیر حقیقی اضافہ کے باوجود آنے والے سال میں حکومتی خسارہ موجودہ سال سے زیادہ ہوگا جیسا کہ توقع کی جارہی ہے حکومت اتنا ٹیکس جمع نہیں کر پائے گی جتنا کہ بجٹ میں دکھایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل میں حکومتی خسارہ بجٹ میں دکھائے گئے خسارے  سے کہیں زیادہ ہوگا۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو پابند کر دیا ہے کہ یہ خسارہ نوٹ چھاپ کر پورا  نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ آنے والے سال کے دوران حکومت مزید قرضے لے گی۔ بجٹ کے مطابق قرضوں کا سود 29کھرب روپے ہے۔ اصل میں ہوسکتا ہے یہ 35کھرب تک پہنچ جائے۔
عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بنا رہے ہیں جو یہ تحقیقات کرے گا کہ ملک پر اتنے قرضے کیسے چڑھ گئے۔ یہ تو سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے والی بات ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر وہ اس کمیشن کو یہ ذمہ داری دیتے کہ حکومتی قرضوں کو کم کیسے کیا جاسکتا ہے۔  ماضی کی تحقیقات سے صرف انتقامی کارروائی کے الزامات ہی لگیں گے۔ اقتصادی صورتحال پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ہم سب کو یہ امید تھی کہ حکومت کچھ ایسے پلان سامنے لے کر آئے گی جس سے ہماری معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی آئے۔ اس بجٹ میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس جو اقدامات کئے گئے ہیں اس سے ہماری برآمدات مزید گرنے کا خطرہ ہے۔ صنعت میں سرمایہ کاری بند یا کم ہو جائے گی۔ یہ کس طرح کی سوچ ہے  کم از کم میری سمجھ سے تو باہر ہے۔
اب اگر بجٹ کے سماجی پہلو پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی صورتحال دگرگوں ہے تعلیم کا بجٹ آدھا کر دیا گیا ہے تمام سکالر شپس ختم کر دی گئی ہیں۔ کیا یہ قوم کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی کمی کی گئی۔ مانا کہ تعلیم اور صحت صوبائی امور ہیں مگر یہ پچھلے سال بھی صوبائی امور  ہی تھے ان میں کٹوتی قابل قبول نہیں ہے اور مذاق یہ کیا گیا ہے کہ غربت مٹانے کے لئے  ایک نئی وزارت قائم کی جارہی ہے۔ گویا وزارت کے انتظامی اخراجات بڑھیں گے۔ نئے وزیر اور مشیران کا تقرر ہوگا نئی گاڑیاں لی جائیں گی۔ غربت کی وجوہات تلاش کرنے کیلئے غیر ملکی دورے کئے جائیں گے۔ واہ کیا کفایت شعاری ہے!
بجٹ سے پہلے حکومت نے پچھلے سال کی اکنامک سروے یعنی اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ اس کے مطابق ایک سال میں ملک کی اقتصادی صورتحال اتنی زیادہ بگڑ گئی ہے کہ اب سنبھلنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس بحث میں جانا فضول ہے کہ ایک سال میں اتنا زیادہ انحطاط کیسے آگیا ہے۔ مہنگائی کی شرح بہت اوپر۔ انٹر سٹ ریٹس بہت اوپر‘ سٹاک ایکسچینج بہت نیچے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری بہت نیچے‘ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً خشک ہوگئے‘ حالانکہ ہمارے دوست ممالک نے بہت مالی مدد بھی کی۔ جی ڈی پی یعنی اقتصادی ترقی کی شرح2 . 6 سے کم ہو کر 9.2فیصد پر آگئی۔ روپے کی قیمت میں تقریباً چالیس فیصد کمی آئی۔ یہ سب تلخ حقیقتیں ہیں جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ اس حکومت سے تو یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے کمیشن بنائے گی۔ مگر کاش حکومت اتنا کرلے کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہ کرے جو اس سے اپنے پہلے سال میں سرزد ہوئی ہیں۔

تازہ ترین خبریں