08:11 am
مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

08:11 am

 مسجد میں بعض لوگ کھڑے ہو کر اپنی مجبوری اور بیماری وغیرہ کا بیان کر کے مدد کی اپیل کرتے ہیں، اگر وہ واقعی حقدار ہوں تو کیا اُنہیں دے سکتے ہیں یا نہیں؟
مسجد میں اپنی ذات کیلئے سوال کرنا منع ہے اور ایسے سائل کو دینا بھی جائز نہیں جیسا کہ صدرالشریعہ حضرت علامہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں‘ مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور اس سائل کو دینا بھی منع ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ رب العزت فرماتے ہیں: آئمہ دین ؒ نے فرمایا ہے جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے وہ ستر پیسے راہِ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں۔ اسکا حل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی حاجت مند ہوں تو خود مسجد میں سوال کرنے کے بجائے امام صاحب سے رابطہ کر کے اپنی حاجت بیان کریں، اب امام صاحب ان کی مدد کیلئے نمازیوں سے درخواست کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
 کیا مسجد میں، مسجد، مدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کیلئے بھی چندہ نہیں کر سکتے؟
مسجد میں اپنی ذات کیلئے سوال کرنا منع ہے، کسی اور حاجت مند مسلمان یا دینی کام مثلاً مسجد یا مدرسے کیلئے سوال کرنے کی ممانعت نہیں جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد16 صفحہ 418 پر ہے: مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے، یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد ؒ نے فرمایا: جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ 70 پیسے اللہ تعالیٰ کے نام پر اور (یعنی مزید) دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں اور (مسجد میں) کسی دوسرے کیلئے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورتِ دینی کیلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔
احکامِ شریعت میں ہے: محتاج کیلئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کیلئے چندہ کرنا جس میں نہ غل نہ شور، نہ گردن پھلانگنا، نہ کسی کی نماز میں خلل (خرابی)، یہ بلاشبہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے اور بے سوال کسی محتاج کو دینا بہت خوب اور مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ثابت ہے۔ معلوم ہوا کہ مسجد میں، مسجد یا مدرسے یا کسی حاجت مند مسلمان کیلئے چندہ کرنا جائز ہے۔ عموماً مساجد میں جمعۃ المبارک کے روز مساجد کیلئے چندہ کیا جاتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے کہ ’’جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے اس میں ایک نیکی کا ثواب 70گنا ہے‘‘۔
سوال ہوا کہ  مسجد کو راستہ بنانا کیسا ہے؟
مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس کے کسی حصے میں سے ہو کر گزرنا جائز نہیں ہے۔ فقہائے کرامؒ نے بلاضرورت ایسا کرنے کو ناجائز فرمایا ہے۔ صدرالشریعہ، مفتی محمدامجد علی اعظمی ؒ  فرماتے ہیں‘ مسجد کو راستہ بنانا یعنی اس میں سے ہو کر گزرنا ناجائز ہے، اگر اسکی عادت کرے تو فاسق ہے، اگر کوئی اس نیت سے مسجد میں گیا، وسط (درمیان) میں پہنچا کہ نادم ہوا تو جس دروازہ سے اس کو نکلنا تھا اسکے سوا دوسرے دروازہ سے نکلے یا وہیں نماز پڑھے پھر نکلے اور وضو نہ ہو تو جس طرف سے آیا ہے واپس جائے۔ ہاں! اگر کوئی مجبوری ہو جیسے راستہ بند ہے اور مسجد کے راستے کے علاوہ دوسری جانب جانے کا کوئی راستہ ہی نہیں تو ضرورتا ً اسکی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے‘ ایک شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے، بلاعذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہے تو ہر روز ایک مرتبہ اس میں نماز پڑھے، نہ یہ کہ ہر بار جب بھی گزرے کہ اس میں حرج ہے۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانؒ فرماتے ہیں: بہ ضرورت مسجد میں ہو کر دوسری طرف کو نکل جانا جائز ہے کہ (عام حالات میں) مسجد میں دوسری طرف جانے کیلئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھرا ہوا ہے اور مسجد ہی میں سے ہو کر جا سکتا ہے جیسے موسم حج میں مسجد الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اسکی اجازت دی گئی ہے وہ بھی جُنب (جس پر غسل فرض ہو) یا حائض (حیض والی) یا نفساء (نفاس والی) کو نہیں نیز گھوڑے یا بیل گاڑی کو نہیں، (مسجد میں سے) ہو کر نکل جانے کیلئے بھی ان کا جانا، لے جانا ہرگز جاگز نہیں۔
 مسجد کو سڑک بنانا کیسا؟پوری مسجد یا اسکے کسی حصے کو شہید کر کے لوگوں کیلئے سڑک بنانا کیسا ہے؟
پوری مسجد یا اسکے کسی حصے کو شہید کر کے اس پر سڑک بنانا حرامِ قطعی ہے، اس سے مسجد کی بے حرمتی اور اسے ویران کرنا لازم آتا ہے لہٰذا یہ سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے چنانچہ پارہ 1، سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 114 میں خدائے رحمن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجد کو روکے، اُن میں نامِ خدا لئے جانے سے اور اُن کی ویرانی میں کوشش کرے‘‘۔ (ترجمہ: کنز الایمان)
اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں: مسجد کی ویرانی جیسے ذکر و نماز کو روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اسکی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سے بھی۔
فقہائے کرام ؒ فرماتے ہیں‘ اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کیلئے گزرگاہ (یعنی سڑک) بنا دیں، تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں اور بلاشبہ یہی صحیح ہے۔ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمدرضا خان ؒ فرماتے ہیں: بے شک ایسا کرنا حرامِ قطعی اور ضرور حقوقِ مسجد میں تعدی (حد سے بڑھنا) اور وقف مسجد میں ناحق دست اندازی (مداخلت) شرع مطہر میں بلاشرطِ واقف کہ اسی وقف کی مصلحت (خوبی یا بھلائی) کیلئے ہو وقف کی ہیئت (بناوٹ یا صورت) بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے، تو بالکل مقصد وقف باطل کر کے ایک دوسرے کام کیلئے دینا کیونکر حلال ہو سکتا ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں