08:13 am
رشوت ہدیہ‘ شراب شربت اور برائے نام لباس

رشوت ہدیہ‘ شراب شربت اور برائے نام لباس

08:13 am

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت میں پندرہ کام عام ہو جائیں گے تو ان پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ وہ پندرہ کام کون سے ہیں؟ جواب میں آپؐ نے فرمایا۔
 
٭ جب سرکاری خزانے کو لوٹ کا مال سمجھا جانے لگے۔٭ جب امانت میں لوگ خیانت کرنے لگیں‘٭ جب زکوٰۃ کو لوگ تاوان سمجھنا شروع کر دیں‘٭ جب آدمی بیوی کی اطاعت کرنے لگے‘٭ جب آدمی دوستوں سے اچھا سلوک اور والدین کے ساتھ برا سلوک کرے‘٭ مساجد میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں‘٭ قوم کا لیڈر ذلیل ترین آدمی بن جائے‘٭ آدمی کی عزت صرف اس لئے کی جائے تاکہ اس کے شر سے بچا جا سکے‘٭ جب غنیمت چند ہاتھوں میں رہ جائے‘٭ شراب پی جانے لگے‘٭ ریشم کا لباس پہنا جائے‘٭ گھروں میں گانے بجانے والی عورتیں رکھ لی جائیں اور آلات موسیقی سنبھال سنبھال کر رکھے جائیں‘ ٭ اس امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن اور تنقید کرنے لگیں‘ ٭ شراب کو شربت کا نام دے کر پیا جانے لگے‘٭  سود کو تجارت کا نام دیا جانے لگے۔
آج ان علامات میں سے کونسی علامت ہے جو معاشرے میں نہیں پائی جا رہی؟قومی خزانے کو حکمرانوں سے لیکر عوام تک جس کا بھی داؤ چلتا ہے خوب لوٹ رہا ہے،جس آدمی کا جتنا بڑا ہاتھ ہے اتنا ہی زیادہ وہ قومی خزانے لوٹ رہا ہے،بجلی کی چوری،فون کی چوری،وقت کی چوری یہ بھی قومی خزانے کی ہی چوری ہے،اور عام چوریوں سے زیادہ خطرناک اور جرم کے لحاظ سے عام چوری سے زیادہ سنگین ترین جرم ہے،جسے عوام میں بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے...عام چوری تو معاف کروانا آسان یا اس کو چوری شدہ چیز واپس کرنا بھی آسان،لیکن قومی خزانے میں کروڑوں انسانوں کا حصہ ہے اور ہر انسان کی اسمیں ملکیت ہے،اگر ایسے مال کو چوری کیا جائے تو کس کس سے معاف کروائے گا؟اور جب تک حقدار معاف نہیں کریں گیااس وقت تک معاف نہیں ہو گا...اسلئے اس سے اجتناب بھی اشد ضروری ہے،اسی طرح مساجد میں آوازوں کا بلند ہونا آج رواج بن چکا ہے، مسجد یں صرف اور صرف اﷲ کے ذکر اور عبادت کیلئے ہیں،لیکن آج کل مسجدوں میںسیاسی گپ شپ،دنیا کی باتیں،ہنسی مذاق تک عام ہو گیا ہے،اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ اﷲ کا گھر ہے اس کی حرمت اور تقدس کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں اﷲ کے ذکر اور عبادت کے علاوہ اور کوئی کا م نہ ہو۔
اسی طرح گھر گھر میں گانے بجانے والی عورتیں اور آلات موسیقی ٹی وی،وی سی آر،ریڈیو‘  کیبل کی شکل میں ڈیرہ جما چکے ہیں‘کچھ عرصہ قبل شاذ و نادر کسی گھر میں آلات موسیقی ہوتے تھے اور نہ ہی ہر آدمی اس کی استطاعت رکھتا تھا،لیکن آج کے دور میں ریڈیو،ٹی وی ، کیبل ،ڈھول ،باجے ،گٹار،ہارمونیم  اورانٹرنیٹ نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔
شراب کو شربت کا نام دیا جائے گا اور شربت کہہ کر اسکو حلال بنانے کی کوشش کی جائے گی،اس کو حلال بنانے کیلئے لوگ مختلف قسم کی تاویلیں کریں گے،مثلاً یہ کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہوا ہے... کہ شراب حرام ہے،قرآن میںکس جگہ شراب کے متعلق حرام کا لفظ نہیں آیااس لئے یہ حرام نہیں‘آج کل بئیر نامی شراب ملتی ہے،پینے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو کا پانی ہے اور جسطرح اور شربت ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک شربت ہے،اگر باقی شربت حلال ہیں  تو یہ کیوں حرام ہے ؟یہ بھی حلال ہے،باقاعدہ اس موضوع پر لوگوں نے کتابیں اور مقالے لکھے ہیں کہ موجودہ شراب حرام نہیں‘یہ خبر آج سے چودہ سو سال پہلے آپؐ نے دی تھی،جو کہ من و عن صادق چلی آ رہی ہے۔
سود کو تجارت کا نام دیا جائے گا‘آج کل ہمارا معاشی نظام مکمل سودی بنیادوں پر استوار ہے،ہمارے ارد گرد پھیلا ہوا بینکاری نظام جسکو تجارت کی ایک شکل قرار دیا جا رہا ہے،حالانکہ سو فیصد سودی نظام ہے،اسکے تحفظ اور بقا کیلئے حلال اور جائز ہونے کیلئے باقاعدہ ترجمانی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے... کہ اگر اسکو ختم کر دیا گیا تو ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی،ہمارے ملک کی شرعی عدالت نے سود کو حرام قرار دے کر پورے ملک میں اسکو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو ہمارے ملک کی سپریم کورٹ میں حکومت کی طرف سے اس کو چیلنج کر دیا گیا،سپریم کورٹ سے اس  فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لے لیا گیا۔
اسی طرح ایک حدیث میں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب رشوت کو ہدیہ کا نام دیا جائے گا،یعنی رشوت ہدیے کے طور پر وصول کی جائے گی،اور جسطرح ہدیہ حلال ہے اسی طرح رشوت کو بھی حلال سمجھا جائے گا،آج کل رشوت دینے اور لینے کا یہ مہذب طریقہ سمجھا جاتا ہے،اور ہدیہ کے عنوان سے یہ ساری حرام خوری ہو رہی ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ جب یہ ساری علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو سمجھ لو کہ اس امت کی ہلاکت کا وقت قریب ہے...یہ ساری باتیں  بدقسمتی سے ہمارے آ ج کے دور پر پوری صادق آ رہی ہیں۔(کنز العمال حدیث نمبر ۳۸۴۹۷)
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں