08:14 am
دلا بھٹی شہید ‘ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

دلا بھٹی شہید ‘ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

08:14 am

کچھ عرصہ سے معمول ہے کہ تعلیمی سال کے دوران اتوار کو ظہر تا عصر جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں اور بدھ کو ظہر تا عصر جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں حاضری ہوتی ہے اور دورہ حدیث کے طلبہ کے ساتھ بخاری شریف اور حج اللہ البالغتہ کے چند ابواب کی تدریس کے ماحول میں کچھ وقت گزر جاتا ہے،فیصل آباد میں ستیانہ روڈ سے گزر کر جامعہ محمدیہ جانا ہوتا ہے اس لیے سردار احمد خان کھرل شہید کے نام سے موسوم چوک کے پاس سے گزرتے ہی اس مجاہد آزادی کی یاد ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے، مگر اردگرد کے لوگوں سے حتی کہ علما و طلبہ سے بھی پوچھنے پر پتہ نہیں چلتا اور نہ ہی وہاں کچھ لکھا ہوا ہے کہ یہ صاحب کون تھے اور ان کے نام سے یہ چوک کیوں منسوب کیا گیا ہے۔
 
رائے احمد خان کھرل 1857 ء کی جنگ آزادی کے نامور جرنیل تھے جنہوں نے قبولہ، گوگیرہ اور ساہیوال کے علاقہ میں انگریزوں کے خلاف جنگ کا محاذ گرم رکھا اور برطانوی فوجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ربع صدی قبل کی بات ہے میں ماہنامہ الرشید ساہیوال کے مدیر مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کے ساتھ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے گھوم پھر رہا تھا کہ ایک جرنیل کے مجسمے پر نظر پڑی، عموماً میں کوئی کتبہ یا مجسمہ دیکھتا ہوں تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ انگریزی زبان سے تو قطعی نابلد ہوں، البتہ کوئی واقف دوست تلاش کر کے ترجمہ سے کام چلا لیتا ہوں۔ وہیں ایک دوست سے پوچھا کہ اس مجسمہ کے بارے میں نیچے کیا لکھا ہوا ہے؟ انہوں نے پڑھ کر بتایا کہ یہ برطانوی فوج کے وہ جرنیل ہیں جنہوں نے 1857 ء میں لاہور کے جنوبی اضلاع میں بغاوت کو کچلنے میں کامیابی حاصل کی تھی، میں نے مولانا حافظ عبد الرشید ارشد سے عرض کیا کہ آپ کے سردار احمد خان کھرل شہید کا قاتل یہ کھڑا ہے۔ 
اسی طرح لاہور میں ریلوے اسٹیشن سے مال روڈ تک جانے والی ایک سڑک کا نام بن بادیس روڈ ہے، اس نام کی تختی ایک عرصہ تک میں دیکھتا رہا ہوں، اب خدا جانے وہاں ہے یا نہیں۔ میں نے بہت سے حضرات سے پوچھا کہ یہ بن بادیس صاحب کون بزرگ تھے؟ مگر کسی سے جواب نہ ملا۔ یہ دراصل الجزائر کے بزرگ الشیخ عبد الحمید بن بادیس ہیں اور الجزائر کی جنگ آزادی میں ان کے قائدانہ کردار کی وجہ سے الجزائری عوام کے ساتھ خیرسگالی کے جذبہ سے یہ روڈ ان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ شیخ بن بادیس الجزائر چھوڑ کر اس دور میں مدینہ منورہ چلے گئے تھے جب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی مسجد نبویؐ میں حدیث نبویؓ پڑھایا کرتے تھے۔ شیخ بن بادیس نے ان سے رسمی تعلیم سے فراغت کے بعد اجازت چاہی کہ میں بھی یہیں کوئی حلقہ درس قائم کر لوں؟ استاذ محترم نے فرمایا کہ نہیں آپ کا ملک فرانس کا غلام ہے اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد آپ کی ذمہ داری ہے، اس لیے واپس اپنے وطن جائیں۔
ابھی رمضان المبارک سے کچھ دن قبل لاہور کے گلشن راوی کے علاقہ سے گزر رہا تھا کہ ایک چوک میں دلا بھٹی شہید چوک لکھا ہوا دیکھ کر ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں گردش کرنے لگا، یہ پنڈی بھٹیاں کا ایک سردار عبد اللہ بھٹی تھا جس نے راوی اور چناب کے درمیانی خطہ میں جسے ساندل بار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، مغلوں کا اقتدار قائم ہونے میں مزاحمت کی اور کئی سال تک ان کے قدم روکے رکھے۔ اس کی اس بغاوت یا مزاحمت کی وجہ سے اکبر بادشاہ کو دہلی سے لاہور منتقل ہونا پڑا، کچھ عرصہ لاہور سلطنت مغلیہ کا دارالحکومت رہا، بالآخر دلا بھٹی نے جام شہادت نوش کر لیا اور پنجاب پر مغلوں کا قبضہ مکمل ہوا۔ 
ایک عرصہ سے میرے ذہن میں یہ خلش تھی کہ اکبر بادشاہ کے مقابلہ میں دلا بھٹی کی اس جنگ کا ہدف صرف مغل اقتدار کو روکنا تھا یا اکبر بادشاہ کا خود ساختہ دین الٰہی بھی اس کے پس منظر میں شامل تھا۔ لاہور کے مذکورہ چوک میں دلا بھٹی شہید چوک کے عنوان کے ساتھ کچھ تحریر دکھائی دی تو کوشش کی کہ اس کی فوٹو لے لی جائے، مگر رش کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا، میں نے اپنے ساتھی حافظ شاہد میر سے کہا کہ جب بھی موقع ملے اس کا فوٹو لے لیں جو کچھ دن کے بعد انہوں نے لے کر بھیج دی، وہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ 
برصغیر پاک و ہند کے عظیم حریت پسند اور پنجاب کے عظیم ہیرو محمد عبد اللہ خان بھٹی المعروف دلا بھٹی شہید کا تعلق راجپوت بھٹی قبیلہ سے تھا۔ دلا بھٹی شہید کے جد امجد مہاراجہ بھاٹی کی حکومت دلی سے غزنی تک تھی جس نے عظیم فتح کی یاد میں بھاٹی گیٹ لاہور تعمیر کرایا۔ دلا بھٹی شہید 11 اکتوبر 1546 ء میں پنڈی بھٹیاں میں پیدا ہوئے، ان کے باپ کا نام فرید بھٹی اور دادا کا نام ساندل بھٹی تھا۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانی علاقہ ساندل بھٹی کے نام پر ساندل بار کہلاتا ہے۔ دریائے چناب اور دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ دلے دی بار کہلاتا ہے۔ شمال سے وسط ایشیائی اور بین الاقوامی بھوکے ننگے لٹیرے قبائل لوٹ مار کی غرض سے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے جس سے تمام علاقہ تباہ و برباد اور قتل و غارت کا نشانہ بن جاتا تھا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں