08:15 am
مقبوضہ کشمیر:سات بھارتی فوجی ہلاک!

مقبوضہ کشمیر:سات بھارتی فوجی ہلاک!

08:15 am

٭میں آج کالم کا آغاز ایران کی مشہور جلا وطن شاعرہ ’’پوران فرخ زاد‘‘ کی ایک فارسی نظم کے چند شعروں سے کر رہا ہوں۔  پوران فرخ زاد کی پوری فیملی ایران پر سخت گیر مذہبی حکمرانوں کے خلاف تھی۔ اس فیملی کو بہت سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پوران کا بھائی فروغ فرخ زاد بھی بہت مشہور باغی شاعر تھا۔ اسے جرمنی میں قتل کر دیا گیا۔ پوران فرخ زاد بھی جرمنی میں روپوش رہی۔ 1933ء میں ایران میں پیدا ہوئی، 2016ء میں لندن میں وفات پائی۔ اس کی ایک مشہور نظم ’رات‘ کے کلام کا کچھ اُردو ترجمہ: فرخ زاد نے کہا:
 
’’رات کے ختم ہونے کی بات کرتی ہوں
میںتاریکی کے انجام کا
رات کے خاتمے کا ذکر کرتی ہوں
اے میرے عزیز! اگر تو میرے ہاں آئے تو
ایک چراغ لیتے آنا
اور ایک کھڑکی بھی جس میں سے مَیں
خوش نصیبی کی گلی کے ہجوم کو دیکھ سکوں!‘‘
اور اب پھر ملک کی وہی گھسی پٹی فرسودہ سیاست کی باتیں اور بجٹ کا شکریہ کہ صبح سے ہی بجلی بند ہے اس کے باعث پانی بھی بند ہے اور بے رحم آتش فشاں سورج پہلے سے کہیں زیادہ مشتعل ہو رہا ہے۔ گھر میں یو پی ایس بھی جواب دے گیا ہے۔ دفتر میں بھی بجلی بار بار آ جا رہی ہے۔ ایک پرانا مقولہ یاد آ رہا ہے کہ مصیبت سے نمٹنا ناممکن ہو رہا ہو تو اسے خوش دلی کے ساتھ قبول کرو۔
٭مجھے ایک نئی تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ خبریں بتا رہی ہیںکہ مقبوضہ کشمیر کے اننت ناگ علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے فائرنگ کر کے بھارتی فوج اور پولیس کے سات اہلکار ہلاک کر دیئے ہیں۔ ظاہر ہے ماضی کی طرح بھارت میں اس واقعہ کا بھی شدید ردعمل ہو گا۔ بھارتی میڈیا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام دہرا رہاہے۔ ایک فوری اثر یہ ہوا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے درخواست کی تھی کہ بھارت کے وزیراعظم کے طیارے کو کرغیزستان جانے کے لئے پاکستان کی فضا میں گزرنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت پاکستان نے درخواست منظور کر لی تھی مگر مقبوضہ کشمیر کے نئے واقعہ کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کی فضا میں سے گزرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عجیب سی بات ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہائی تلخ کشیدگی کے باوجود تلخی کم ہونے کا کوئی موقع آتا ہے تو اس سے فوراً پہلے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے کہ کشیدگی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ خیر کرے! بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ واقعہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ہر سال ہندوئوں کی ’امرناتھ یاترا‘ کو پھر خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ شائد یہ یاترا اس سال بھی نہ ہو سکے! یہ’ امرناتھ یاترا‘ کیا ہے! اس کی دلچسپ روداد پڑھئے:۔
٭مقبوضہ کشمیر میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں ہونے والی ’امرناتھ یاترا‘ اس بار مسئلہ بن گئی ہے۔ مسلسل 46 روز تک یہ یاترا یکم جولائی سے 15 اگست تک جاری رہے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں کئی برسوں سے سات لاکھ بھارتی فوج ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ حال ہی میں وہاں لوک سبھا کے انتخابات کرانے کے لئے 27 ہزار مزید فوج بھیج دی گئی، اب ریاستی حکومت نے مزید 18 ہزار فوج کا مطالبہ کیا ہے تا کہ ’امرناتھ یاترا‘ کے لئے آنے والے لاکھوں ہندو یاتریوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ماضی میں دوبار ان یاتریوں پرکشمیری حریت پسندوں کے حملوں سے کچھ یاتری مارے گئے۔ پلوامہ کے واقعہ میں 50 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امرناتھ یاترا کے لاکھوں یاتریوں کی حفاظت ریاستی گورنر راج کے لئے درد سر بن گئی ہے۔ امرناتھ یاتراکے چند حقائق! 
1860ء میں ایک مسلمان باشندہ بھٹہ ملک نے جنوبی کشمیر میں 12960 فٹ بلند ایک پہاڑ کی ایک غار دریافت کی۔ اس کے بیرونی نیم کھلے حصے میں خاص قسم کی برف باری سے برف ایک چھوٹے سے مینار کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ اس مسلمان شخص نے ہندوئوں سے ذکر کیا تو انہوں نے اسے ہندودیوتا ’شیوا‘ کے جسم کا ایک حصہ قرار دے دیا اور اس کی پُوجا شروع کر دی۔ اسے امرناتھ یاترا کا نام دے دیا گیا۔ اس غار کا مقام سری نگر سے 141 کلو میٹر دور ہے۔ پہلے سری نگر سے جنوب میں 88 کلو میٹر دور پہلگام جانا پڑتا ہے یہاں سے تقریباً 45 کلو میٹر کے نہائت پیچ دار سفر کے بعد 12960 فٹ بلند سارا سال برف پوش چوٹی پر پہنچ کر ’امرناتھ‘ غار ملتی ہے جسے پوجنے کے لئے نہ صرف بھارت بلکہ دوسرے ملکوں سے لاکھوں ہندو آتے ہیں۔ یہ نہائت مشکل اور دشوار گزار سفر ہے راستہ بہت تنگ ہے جو بعض مقامات پر نہائت گھنے جنگلوں میں سے گزرتا ہے۔ پہلگام کے حکام پر سرکاری طور پر بہت بڑی بڑی سرائیں بنا دی گئی ہیں نہائت بلند امرناتھ غار تک جانے والے یاتریوں کو باقاعدہ رجسٹر کر کے قافلوں کی شکل میں اوپر بھیجا جاتا ہے۔ پیدل چلنے والے یاتری انتہائی دشوار ترین سفر تقریباً پانچ دنوں میں مکمل کرتے ہیں۔ انہیں مقررہ تعداد میں قافلوں کی شکل میں اوپر بھیجا جاتا ہے۔ بوڑھے اور کمزور یاتری یہ سفر گھوڑوں پر طے کرتے ہیں۔ اس کام کے لئے سینکڑوں گھوڑے استعمال ہوتے ہیں۔ ہندو یاتری اس سفر کے دوران ’’ہندوستان میں رہنا ہے تو ’بھم بھم بولے‘‘ کے نعرے لگاتے رہتے ہیں۔ ابتدا میں زیادہ یاتری نہیں آتے تھے۔ 1989ء تک تعداد صرف بارہ ہزار ہوتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ امرناتھ غار کے مقام پر آٹھ ماہ تک شدید برف باری ہوتی ہے۔ صرف گرمیوں میں جون کے آخر سے ستمبر تک چار ماہ میں سفر ہو سکتا ہے۔ 1996ء تک یہ سفر صرف 15 روز تک محدود تھا۔ اس وقت گورنر سہنا نے یہ مدت ڈیڑھ ماہ تک کر دی۔ اور یاتریوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ پچھلے سال چھ لاکھ یاتری آئے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوئوں کی کسی کتاب میں اس یاترا کا کوئی ذکر نہیں۔ بھارتی محقق ’ایس کول‘ اور غیر ملکی ماحولیاتی ماہرین نے اس یاترا کو ماحول اورانسانی صحت کے لئے نہائت خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق لاکھوں یاتریوں کے باعث پہلگام اور امرناتھ غار تک ہر روز 25 ہزار ٹن گندگی پھیل جاتی ہے، اس کی صفائی نہ ہونے سے نیچے سے اوپر تک سارے ماحول میں سخت بدبو پھیلی رہتی ہے جس سے پورا ماحول خراب ہو رہا ہے اور موسم اچانک تبدیل ہونے لگتا ہے۔ 1996ء میں اچانک برف باری سے 273 یاتری ہلاک ہو گئے تھے۔ اب دوسری باتیں:
٭آج کا دن انگریزی محاورے کے مطابق ’’ڈی ڈے‘‘ ہے یعنی حشر کا دن! آج کرکٹ کے ورلڈ کپ میں پاکستان اور ازلی دشمن بھارت کا مقابلہ ہے۔ آج سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی ابتدائی سماعت ہے۔ اس پر آج سپریم کرٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے اسلام آباد میں لاشیں گرانے اور سپریم کورٹ میں گھیرائو جلائو کا اعلان کر رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی نے آصف زرداری کی گرفتاری پر قومی اور پنجاب اسمبلی میں طوفانی قسم کے ہنگاموں کا اعلان کیا ہے۔ ایسا ہی اعلان اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کا کیا ہے۔
٭محترم قارئین، حاضرین! بجلی مسلسل بند رہنے سے میرا سرگھوم رہا ہے۔ نوجوانی کے دور میں نارووال میں ہم نوجوان شدید گرم دوپہروں میں گرائونڈ میں ننگے پائوں ہاکی یا کرکٹ کھیلتے پھرتے تھے۔ بے تحاشہ پسینہ آتا تھا۔ پیاس لگتی تھی تو کسی ہینڈ پمپ سے پانی پی کر پھر میدان میں آ جاتے تھے۔ اورآج چند گھنٹے بجلی اور پنکھے بند رہنے سے دماغ گرم ہو رہا ہے۔ بجٹ سے پہلے لوڈ شیڈنگ بند ہو چکی تھی۔ بجٹ کے آتے ہی پھر شروع ہو گئی ہے۔ مجھے بجٹ میں صدر مملکت کی تنخواہ میں اچانک کمی ہو جانے پر باقاعدہ ’ہمدردی نامہ‘ لکھنا تھا۔ بے چارے معصوم سے سادہ دل صدر صاحب کی تنخواہ پونے دس لاکھ ماہوار سے کم ہو کرتقریباً ساڑھے نو لاکھ ہو گئی ہے۔ دل میں ترس نما ہمدردی سی اُمڈ رہی ہے کہ صدر صاحب اپنے گھر کے اخراجات کس طرح چلائیں گے!

تازہ ترین خبریں