07:44 am
سیکولر انڈیا سے ہندو‘ ہندوستان تک

سیکولر انڈیا سے ہندو‘ ہندوستان تک

07:44 am

گزشتہ کالم میں ہم لکھ چکے ہیں کہ1947 ء کے بعد کا انڈیا نہرو کے لبر ل ازم‘ سیکولر ازم‘ پلورل ازم کا انڈیا تھامگر کیا یہ عوامی سطح پر بھی ایسا ہی تھا‘ یہ سوال اہم ہے۔ دوسری طرف قائداعظم کی14 اگست کی تقریر کو ذرا غور سے پڑھیں تو وہ مذہب کی بنیاد پر بنے ہوئے پاکستان کو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے لئے بھی مساوی شہری ہونے کی بنیاد پیش کرتی ہے یعنی پاکستان قدیم جابرانہ مذہبی ریاست کی جگہ رواداری‘ تحمل‘ برداشت‘ اقلیتوں کے بطور شہری مساوی حقوق کی مکمل ضمانت ہے۔
میرا مطالعہ بتاتا ہے کہ جس طرح قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان میں اچانک جذباتیت کو سیاسی آئینی رنگ دیا گیا تھا‘ نہرو فیملی کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی انڈیا میں بھی سیکولر ازم‘ لبرل ازم‘ پلور ل ازم پر نہرو فکری سیاست کے خاتمہ ہونے کا راستہ ایجاد ہوا۔ بی جے پی نے اس خاتمے میں نئے فکری‘ سیاسی ایجنڈے کے طور پر شیوا کے مغل بادشاہت سے تصادم کرتے کردار کو بطور ہیرو اپنایا جبکہ اسلام دشمنی‘ مسلمان دشمنی‘ پاکستان دشمنی کو بنیاد  ہندو مذہبی سیاسی حرکیات کا کردار بنایا۔ امیت شاہ اور مودی کے کردار کو سامنے رکھیں تو کس طرح شیواجی نے جنرل افضل خان کو صلح کی ملاقات میں دھوکے سے قتل کیا۔ اس دھوکے بازی اور شاطرانہ اسلوب کو ضرو ر ذہن میں رکھیں۔ 
اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو انگریز راج میں اشوکا کا آخری انسانیت دوست عہد اور جلال الدین اکبر کا ہندوئوں کے ساتھ سیاسی و سماجی حسن معاملہ یہ سب کچھ جمع ہوکر1947 ء کے انڈیا تک موجود رہا تھا۔1947 ء کے بعد نہرو سے متوازن فکری سیاسی اسلوب کا تذکرہ مورخ سنیل خیلا نانی نے  اپنی کتاب(The idea of india) میں پیش کیا ہے وہاں ’’سوارکر ہندتوا‘‘ کا فلسفہ1923 میں ایجاد ہوا۔ تیسرا فکری سیاست کا اسلوب گاندھی کا  اینٹی انڈسٹریل سوسائٹی رویہ اور  دیہاتی معیشت کی بنیادیں مضبوط کرتا ہندو ازم موجود  تھا جبکہ اس سے ہٹ کر ولبھ بھائی پاٹیل نے نہرو کے سوشلزم‘ لبرل ازم‘ سیکولر ازم‘ پلورل ازم کی بجائے مارکیٹ کیپٹل ازم کو مذہبی ہندو فکر سے ملا کر انڈیا کو مذہبی ہندوستان بنانے کی سیاسی روش پیش کی تھی۔
گاندھی کا فکری اسلوب  یعنی اینٹی انڈسٹریل فکر تو ناقابل عمل یعنی یوٹو پیا سمجھا گیا۔ گویا گاندھی فکر زمینی حقائق میں جگہ  پانے اور گرفت پانے سے محروم تھے جبکہ عملاً صرف ولبھ بھائی  پاٹیل کا مذہبی ہندو ازم کا مارکیٹ کیپٹل ازم نظریہ نہرو کے نظریات سے متصادم تھا مگر خدا کی قدرت ولبھ بھائی پاٹیل کی وفات اسی طرح جلدی ہوگئی جیسی قائداعظم کی ہوگئی۔ یوں ہندو احیاء کے سیاسی مفکر پاٹیل کی موت نے وزیراعظم نہرو کی طویل زندگی کے سبب بھی انڈیا کو  دنیا میں سیکولر‘ سوشلسٹ‘ لبرل‘ پلورل‘ ریاست و حکومت کے طور پر منوالیا اور عوام میں کچھ کچھ نہرو حکومت کی یہ ریاستی فکر رچ بس گئی تھی  جبکہ اندر ا پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش بنوانے میں بھی مکمل کامیاب رہی مگر بنگلہ دیش بنوانے میں جس طرح ہمارے حکمران فیصلہ سازوں  کا کوتاہ اندیشی کردار ہے اس کو ذرا شیوا جی کے ہاتھوں بڑی فوج اور زیادہ وسائل کے باوجود شکست کھا جانے والے مسلمان جنرل شائستہ خان کی شراب نوشی سے ملا کر نتیجہ دریافت کریں  تو سقوط ڈھاکہ اور سقوط جنرل شائستہ خان کی بداعمالیوں اور حکمت و دانش کا فقدان مشترکہ ملتا ہے۔
مورخ خیلانانی نے اسی سبب کہا ہے کہ انڈیا کے عوام کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہو پایا کہ عملاً انہیں نہرو نے دیا کیا تھا؟ جبکہ مورخ ڈاکٹر ایمبیڈکر تاریخی طور پر سرزمین انڈیا کو نفسیاتی طور پر غیر مساوی تعلیم کا حاصل کہتے ہیں جبکہ مورخ سنیل خیلانانی انگریزی راج کے سبب مسلمان‘ سکھ‘ ہندو اجتماعیت کو یہ کہتے ہوئے قبول کرتے ہیں کہ اس عہد میں بھی یہ مذہبی اقوام نفسیاتی طور پر باہم دگرکشمکش میں مصروف تھیں۔قائداعظم نے اسی نفسیاتی ہندو مسلمان کی تقسیم کو بنیاد بناکر تحریک پاکستان چلائی تھی
ہم سنیل خیلانانی کے نقطہ نظر کو جدید تاریخ کے تناظر میں1984 ء کے سکھ فسادات میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ہندوئوں کے ہاتھوں اقلیت کے معصوم سکھ‘ عورتیں‘ بچے ‘بوڑھے تک بھی قتل عام سے دوچار ہوئے تھے۔ اس نفسیاتی تقسیم کو مسلمان دشمنی کے ہندو عمل میں اس وقت بھی دیکھ سکت ہیں جب1992 ء میں بابری مسجد کا انہدام ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت شدت پسند ہندوئوں کے ہاتھوں ہوا۔ اس کا دوسرا منظر نامہ گجرات میں ہونے والا وہ مسلمانوں کا قتل عام ہے جب گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی اور ان کے وزیر داخلہ امیت شاہ تھے۔ یہ رویئے اور واقعات عوامی نفسیاتی اختلاف کو سیاسی طور پر کیش  جس نے کیا اسی کا نام بی جے پی اور ہندتوا سیاست کا انڈیا کو مکمل ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔
اب تجزیہ نگار اس ابھرتے ہوئے حاکمانہ مکمل ہندو معاشرے کے ہندو ریاست بنتے عمل کو جمہوریت سے دشمنی کہتے ہیں کیونکہ جمہوریت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ریاست کے اکثریت کے مذہبی رویوں کو ریاستی رویوں میں تبدیل کر دیا جائے۔ مورخین اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک نہرو کی زیر قیادت انڈیا کو اشوکا اور جلال الدین اکبر کے ساتھ ساتھ انگریز راج کی طرح وفاقیت دیتے ہوئے سیکولر ازم‘ لبرل ازم‘ پورل ازم‘ سوشلزم کی زندگی کا عہد مکمل طور ختم اور د فن ہوکر اکثریت کی بنیاد پر ہندو ازم کے معاشرتی و سماجی رویوں کو اب ریاست میں تبدیل کرتے ولبھ بھائی پاٹیل کا رویہ فاتح اورحکمران ہے۔
شیوا جی نے شاہ جہاں سے بغاوت کی تو شاہ جہاں نے پورے برصغیر کو وفاقیت اور اجتماعیت دینی  کی وحدت دی تھی۔ اس وحدت کو اورنگزیب نے آگے بڑھایا تھا اس وقت شیوا جی ایک ولن کردار تھا مگر ریاست کے لئے اپنے ولن کردار کو مذہبی عوامی  حمایت سے فیض یاب کرتے ہوئے ’’بیجاپور ‘‘ کو ہندو مسلمان دشمنی جدوجہد کا مرکز  بنایا تھا۔کیا بی جے پی ‘ وزیراعظم مودی‘ امیت شاہ ان کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو سچ مچ شاہ جہاں اور اورنگزیب کی طرح کا وفاقیت‘ اجتماعیت ‘سیکولر ازم دیتا ریاستی وجود تسلیم کرچکی ہے؟ جس طرح امیت شاہ نے انتخابی حکمت عملی تشکیل دی‘ ہندو ووٹ کے لئے مسلمان دشمنی‘ مغل عہد حکمرانی کی دشمنی ‘ پاکستان دشمن کو انتخابی ہتھیار بنایا وہ چغلی کھاتا ہے کہ نفسیاتی طور پر بی جے پی پاکستان کو برصغیر سے لیکر سینٹرل ایشیا کے مسلمانوں کی آرزوئوں اور تمنائوں کاترجمان قبول کرنا ہے۔ اسی لئے پاکستان کے مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے میں مصروف ہے۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں موجود بغاوتوں  اور لسانی علیحدگی پسندوں کی سرپرستی اسی لئے بھارت کرتا ہے تاکہ پاکستان برصغیر اور سینٹرل ایشیاء کے مسلمانوں کا ترجمان باقی نہ رہے۔