07:46 am
رشوت ہدیہ ،شراب شربت اور برائے نام لباس

رشوت ہدیہ ،شراب شربت اور برائے نام لباس

07:46 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک اور حدیث میں مبارکہ میں آپ نے دورِ فتنہ کی علامات بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ، ’’لوگ میاسر پر سوار ہو کر آئیں گے اور مسجد کے دروازے پر اتریں گے‘‘ میاسر عربی زبان میں بڑے قیمتی ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے جو اس زمانے کے بڑے سرمایہ دار لوگ اپنے گھوڑے کی زین پر ڈالا کرتے تھے، اور کشن کے طو پر اسکو استعمال کرتے تھے، یعنی آپﷺ کے فرمان مبارک کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کشنوں پر سوار ہو کر مسجد آئیں گے اور مسجدوں کے دروازوں پر آ کر اتریں گے، آج سے چند برس پہلے تک اس کا تصور محال تھا، لیکن آج کے دور میں اسکا مشاہدہ عام ہے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر مسجد میں آتے ہیں اور گاڑیاں مسجد کے دروازے پر کھڑی کر کے اس سے اترتے ہیں۔
 
آگے فرمایا:’’عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی، مائل کریں گی ( غیر محرم مردوں کو) ( اور غیر محرم مردوں کی طرف) خود بھی مائل ہونگی‘‘۔
حضور نبی کریمﷺ جس وقت یہ بات ارشاد فرماتے تھے، اس وقت اس بات کا تصور بھی محال تھا‘ اور اس بات کا سمجھنا بھی دشوار تھا کہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی‘ لیکن آج کے دور میں چاروں طرف مشاہدہ کیا جا سکتا ہے... عورتیں لباس پہننے کے باوجود کس طرح ننگی ہیں؟ چست عورتوں کا لباس یا تو اتنا تنگ اور چھوٹا ہے کہ جسم کی شناخت اور بناوٹ پوری طرح نظر آتی ہے، یا لباس اتنا باریک ہے کہ جسم اس سے  صاف نظر آ رہا ہوتا ہے، آگے فرمایا کہ ان عورتوں کے سروں پر اونٹوں کے کوہان جیسے بال ہونگے‘‘
یہ بات بھی اس وقت تصور سے بھی بعید تھی کیونکہ اس وقت عورتیں اپنے سر کے بالوں کی مینڈھیاں بنا کر مکمل طور پر مستور رکھتی تھیں‘ لیکن آج کے دور میں عورتیں بالوں کو اکٹھا کر کے ان کا جوڑا بنا کر سر کے اوپر باندھ دیتی ہیں، اور ان کے سر پر اسکا ابھار بالکل اونٹ کے کوہان کی طرح معلوم ہوتا ہے‘ بال کٹوانا اور مردانہ وضع  قطع تو عام سی بات ہے ۔یہ باتیں ارشاد فرمانے کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’ ایسی عورتیں ملعون ہیں، ایسی عورتوں کو جنت کی خوشبو تک بھی نصیب نہ ہوگی حالانکہ اسکی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت کی دوری تک بھی سونگھائی دے گی‘‘۔(العیاذ باﷲ)
آج کے دور میں مذکورہ بالا تمام علامات عورتوں میں نظر آرہی ہیں بالخصوص روشن خیالی کی وباء نے اس لعنت کو مزید فروغ دیا ہے،جواں سال لڑکیاں اور  عورتیں برائے نام لباس پہنتی ہیں۔ انتہائی بھڑکیلا اور سترپوشی کے مقصد سے بالکل عاری جنہیں دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے، جس لباس سے جسم پوشی نہ ہو اس کو لباس کہنا لباس کی توہین ہے قرآن کریم نے لباس کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے۔  یٰبَنِیْ آدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْثًا۔’’اے ابن آدم ہم نے لباس اس لئے اتارا تاکہ وہ تمہارے ستر کو چھپائے اور تمہارے لئے زینت کا سامان ہو‘‘
اب جو لباس سترپوشی کا کام نہ دے اس کو لباس کیسے کہا جا سکتا ہے؟ (اﷲ تعالیٰ اس لعنت سے تمام مسلم عورتوں کو محفوظ رکھے)۔ (صحیح مسلم۔ کتاب اللباس)
ایک اور حدیث مبارکہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں تمہیں کھانے کیلئے ایک دوسرے کو دعوت دیں گی، جیسے لوگ دسترخوان پر بیٹھ کر دوسروں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں‘‘ مثلا دسترخوان لگا ہو اور اس دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے لگے ہوئے ہوں ... اس دسترخوان پر ایک آدمی پہلے آکر بیٹھ جائے تھوڑی دیر میں دوسرا شخص بھی آ جائے، تو پہلا شخص اس سے کہے کہ آؤ کھانا کھاؤ دسترخوان پر بیٹھ کر ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ پھر یکے بعد دیگرے جو آتا جائے وہ اس دسترخوان پر لگے کھانوں میں شریک بنتا جائے۔ اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی مثال دسترخوان پر چنے ہوئے کھانے کی ہوگی اور غیر مسلم طاقتیں ان پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکا کھانے پر ٹوٹتا ہے اور پھر صرف خود نہیں بلکہ اوروں کو بھی دعوت دینگے۔ (ابوداؤد شریف۔ کتاب الملاحم)
جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا کی کفریہ طاقتیں مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر برسرپیکار ہیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے جس بے دردی کے ساتھ اس کی بندر بانٹ کر کے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرا گیا، اور پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں کے جملہ وسائل پر قبضہ کرنے کی مذموم کوششیں ہو رہی ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں ۔
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنوں کے دور میں کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ یعنی اس فتنہ میں کسی طور پر اپنی عدم شرکت کو مکمل طور پر یقینی بناؤ اور اس فتنہ کی طرف چلنا بھی خطرناک چلنے سے بہتر ہے کہ کھڑے ہوجاؤ... اور کھڑا ہونا بھی خطرناک، بہتر ہے کہ بیٹھ جاؤ‘ اور بیٹھنا بھی خطرناک‘ اس سے بہتر ہے کہ لیٹ جاؤ‘ یعنی اپنے آپ کو ہر طور پر مکمل بچانے کی کوشش کرو اور اپنے ذاتی اعمال اور ایمان کی حفاظت اور اصلاح کی کوشش کرو۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت اتری کہ ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی ذات کی خیرلو۔ جب تم خود ہدایت پہ آگئے تو دوسروں کا گمراہ ہونا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین نے حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اﷲ اس آیت سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان صرف اپنی فکر کرے اور اپنے آپ کو درست کرے‘ دوسرا شخص اگر غلط راستہ پر جارہا ہے تو اس کی فکر نہ کرے اس کو جانے دے‘ اس کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے‘ جبکہ قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں حکم ہے کہ دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو... دوسروں کو بھی گمراہی سے بچانے اور ہدایت پر لانے کی فکر کرو؟ تو ان آیات میں تو تعارض معلوم ہوتا ہے ان میں تطبیق کیسے ممکن ہوگی؟
آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تمام آیات بھی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں بیان کیے گئے احکام عام حالت کیلئے ہیں عام حالات میں امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا ضروری ہے۔ دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا اور گمراہی سے بچانا ضروری ہے اور یہ آیت کریمہ مخصوص حالات اور زمانے کے لئے ہے۔ ایک زمانہ ایسا آئے گا جبکہ انسان کے ذمہ صرف اپنی اصلاح کی فکر باقی رہ جائے گی‘ اس زمانے کی چار علامتیں ہیں: (۱) جب مال کی محبت حد سے بڑھ جائے گی (۲)خواہشات نفسانیہ کی پیروی شروع ہوجائے گی (۳)دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جانے لگے گی (۴)جب ہر شخص اپنی رائے پر نازاں ہوگا۔جب یہ علامات ظاہر ہوجائیں تو اس وقت ہر شخص کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔
 عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو کہ وہ کہاں جارہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ اس لئے کہ اگر ان کی فکر میں پڑو گے تو ان کی فکر تمہیں اپنی طرف کھینچ لے گی‘ اور جس طرح وہ فتنہ کا شکار ہیں اس طرح تم بھی ان کے ساتھ فتنہ کا شکار ہوجاؤ گے... لہٰذا اپنے آپ کو بچاؤ‘ اپنے ایمان کی اپنے اعمال کی درستگی اور حفاظت کی فکر کرو‘ اپنی آل اولاد کی اصلاح اور درستگی کی فکر کرو‘ اپنا ایمان اور اپنے اعمال کسی طرح بچا کر قبر تک پہنچنے کی کوشش کرو... اپنے عیوب پر نظر کرو اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرو‘ اپنے آپ کو گناہوں سے بچانے کا اہتمام کرو‘ اور ہر قسم کی معصیت سے اپنے دامن کو پاک رکھنے کی سعی کرو‘ اﷲ رب العزت سے استقامت علی الدین اور خاتمہ بالخیر کی دعا مانگتے رہو۔