07:47 am
دُلّابھٹی شہید ‘ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

دُلّابھٹی شہید ‘ اکبر بادشاہ کا ایک غیرت مند باغی

07:47 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ابھی رمضان المبارک سے کچھ دن قبل لاہور کے گلشن راوی کے علاقہ سے گزر رہا تھا کہ ایک چوک میں دلا بھٹی شہید چوک لکھا ہوا دیکھ کر ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں گردش کرنے لگا، یہ پنڈی بھٹیاں کا ایک سردار عبد اللہ بھٹی تھا جس نے راوی اور چناب کے درمیانی خطہ میں جسے ساندل بار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، مغلوں کا اقتدار قائم ہونے میں مزاحمت کی اور کئی سال تک ان کے قدم روکے رکھے۔ اس کی اس بغاوت یا مزاحمت کی وجہ سے اکبر بادشاہ کو دہلی سے لاہور منتقل ہونا پڑا، کچھ عرصہ لاہور سلطنت مغلیہ کا دارالحکومت رہا، بالآخر دلا بھٹی نے جام شہادت نوش کر لیا اور پنجاب پر مغلوں کا قبضہ مکمل ہوا۔ 
 
ایک عرصہ سے میرے ذہن میں یہ خلش تھی کہ اکبر بادشاہ کے مقابلہ میں دلا بھٹی کی اس جنگ کا ہدف صرف مغل اقتدار کو روکنا تھا یا اکبر بادشاہ کا خود ساختہ دین الٰہی بھی اس کے پس منظر میں شامل تھا۔ لاہور کے مذکورہ چوک میں دلا بھٹی شہید چوک کے عنوان کے ساتھ کچھ تحریر دکھائی دی تو کوشش کی کہ اس کی فوٹو لے لی جائے، مگر رش کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا، میں نے اپنے ساتھی حافظ شاہد میر سے کہا کہ جب بھی موقع ملے اس کا فوٹو لے لیں جو کچھ دن کے بعد انہوں نے لے کر بھیج دی، وہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ 
برصغیر پاک و ہند کے عظیم حریت پسند اور پنجاب کے عظیم ہیرو محمد عبد اللہ خان بھٹی المعروف دلا بھٹی شہید کا تعلق راجپوت بھٹی قبیلہ سے تھا۔ دلا بھٹی شہید کے جد امجد مہاراجہ بھاٹی کی حکومت دلی سے غزنی تک تھی جس نے عظیم فتح کی یاد میں بھاٹی گیٹ لاہور تعمیر کرایا۔ دلا بھٹی شہید 11 اکتوبر 1546 ء میں پنڈی بھٹیاں میں پیدا ہوئے، ان کے باپ کا نام فرید بھٹی اور دادا کا نام ساندل بھٹی تھا۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانی علاقہ ساندل بھٹی کے نام پر ساندل بار کہلاتا ہے۔ دریائے چناب اور دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ دلے دی بار کہلاتا ہے۔ شمال سے وسط ایشیائی اور بین الاقوامی بھوکے ننگے لٹیرے قبائل لوٹ مار کی غرض سے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے جس سے تمام علاقہ تباہ و برباد اور قتل و غارت کا نشانہ بن جاتا تھا۔
  راجپوت قبیلہ بذات خود ایک جنگجو قبیلہ تھا جو خود اس خطہ ساندل بار کے خودمختار حکمران تھے۔ وہ کسی بھی صورت میں سرزمین پنجاب میں حملہ آوروں کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ بیرونی حملہ آوروں اور ان کے درمیان اکثر خونی جنگیں ہوتی رہتی تھیں جس سے باقی ہندوستان محفوظ اور خوشحال رہتا تھا۔ اس بہادری، جرات اور مزاحمت کی وجہ سے سارے ہندوستان میں ساندل بھٹی اور ساندل بار کی دھوم مچ گئی۔ 
ساندل بھٹی ایک حریت پسند تھا جس سے دلی کے حکمران گھبرا گئے اور انہوں نے ساندل بھٹی کو پھانسی دے دی، اس کے بعد اس کے بیٹے فرید بھٹی نے تحریک کو جاری رکھا۔ فرید بھٹی کو پھانسی دے دی گئی تو اس کے بعد اس کے بیٹے دلا بھٹی شہید نے تحریک آزادی پنجاب کو جاری رکھا۔ دلا بھٹی شہید نے اکبر بادشاہ کی شہنشاہی آمریت، غریب عوام پر ظلم و ستم، کسانوں پر بھاری لگان کا نفاذ، جبر و تشدد اور دین شاہی اکبر کا دین الہی ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ اکبر بادشاہ نے 1584 ء میں پہلی دفعہ دارالخلافہ کو دلی سے لاہور منتقل کر دیا اور پندرہ سال 1599 ء تک لاہور ہندوستان کا دارالخلافہ رہا۔ شہنشاہ اکبر نے دلا بھٹی شہید کو مذاکرات اور صلح کے بہانے دھوکہ سے بلایا اور اس کو مغل حکومت، دین الٰہی ماننے اور سجدہ کرنے پر  مجبور کیا اور کہا کہ اگر وہ اطاعت کر لے، حریت پسندی اور تحریک آزادی پنجاب چھوڑ دے تو اس کو صوبہ لاہور، صوبہ ملتان اور صوبہ کابل کا گورنر بنا دیا جائے گا اور شاہی دربار میں اعلیٰ ترین منصب دیا جائے گا۔ لیکن دلا بھٹی شہید اپنی قوت ایمانی اور جذبہ حب الوطنی پر قائم رہا۔ دلا بھٹی شہید سچے عاشق رسول تھے، دنیاوی حکومت کو مسترد کر کے حضور پاکؓ کی غلامی کا تاج اپنے سر پر سجا کر پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال کر سرنگوں ہونے کی بجائے سربلند ہوگیا۔ 
دلا بھٹی شہید کو 26 مارچ 1589 ء کو لاہور میں دلی دروازے کے باہر میدان نخاس میں میلاد چوک کے مقام پر پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔ حضرت شاہ حسین نے میت لے کر بھاٹی چوک لاہور میں نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان میانی صاحب میں دفن کر دیا۔ 425 سال گزرنے کے باوجود دلا بھٹی شہید ایک زندہ جاوید کردار ہے جو کہ عالمی سطح پر لوک کردار کا رتبہ پا گیا۔ جو کہ عقیدت محبت کا انتہائی آخری درجہ ہے۔ لوگ اب بھی اس کی بہادری، جوانمردی، غیرت مندی اور جذبہ حب الوطنی کے گیت گاتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے شہید کی خدمات، عوام کی محبت اور دلا بھٹی اکیڈمی (رجسٹرڈ) اہلیان گلشن راوی لاہور و پنجاب کے پر زور مطالبہ اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر شہید کی یادگار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حب الوطنی بہت بڑی عبادت ہے، دلا بھٹی شہید کی پگ دراصل پنجاب کا عظیم نشان ہے جو کہ آنے والی نسلوں کے جذبہ حب الوطنی اور جذبہ ایمانی کو گرماتا رہے گا۔ 
روز ای جمدے نیں وارث تختاں دے
ماواں جمن دلا بھٹی کدی کدی
اس تحریر کے ہر پہلو سے اتفاق ضروری نہیں ہے، ہمارا اسے پیش کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ اکبر بادشاہ کے خودساختہ دین الٰہی سے بغاوت کرنے والوں میں حضرت مجدد الف ثانی کی قیادت میں علما کرام اور صوفیائے عظام تو سرگرم تھے ہی، دیگر مسلمان طبقات اور قبائل کا کردار بھی اس میں کم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب کو آخرت میں بلند درجات سے نوازیں، آمین یا رب العٰالمین۔


 

تازہ ترین خبریں