07:49 am
ایوان صدر کے طوطے!

ایوان صدر کے طوطے!

07:49 am

٭جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف ایک اور ریفرنس، وکلا کی پنجاب، کراچی، پشاور میں ہڑتال ناکامO فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری چھاپہ O نوازشریف کا مقرر کردہ ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا برطرف، بدعنوانیو ںکے الزامات O ایوان صدر کے اخراجات 92 کروڑ روپے طوطوں کے پنجرے20 لاکھ روپے Oمریم نواز اور فردوس عاشق اعوان میں گرما گرم مشاعرہ Oکرغیزستان میں وزیراعظم عمران خاں کی روس، چین، کرغیزستان سے اہم ملاقاتیں، مودی سے بات نہیں ہوئی۔
 
٭آصف زرداری کے بعد فریال تالپور کے بھی وارنٹ گرفتاری، چھاپے! سندھ، پنجاب اور پختونخوا سے بھی کچھ نام آ رہے ہیں۔ شاعروں نے کیا کیا باتیں کہہ دیں! ایک شخص نے ایک کھوپڑی کو ٹھوکر ماری، اس سے آواز آئی کہ ’’او بے خبر! دھیان سے چل، میں بھی کبھی کسی کا سرِپُرغرور تھا!‘‘ یہ کہ ’’مٹے ناموں کے نشاں کیسے کیسے!!‘‘ کل یہ لوگ کس جاہ و جلال کے ساتھ تخت نشین تھے! ایف اے پاس نوجوان کو پٹرول گیس کا منیجنگ ڈائریکٹر بنا دیا۔ وہ 82 ارب کا فراڈ کر کے باہر بھاگ گیا! بہت سی اور باتیں بھی ہیں۔
٭آصف زرداری نے عاجزانہ قسم کی اپیل کی ہے کہ انہیں حوالات میں دن رات دوائیں دینے والے دو ذاتی ملازم دیئے جائیں۔ گویا دو غریب ملازم حوالات میں بند کروائے جائیں! مغلیہ بادشاہ اورنگ زیب عالم گیر نے اپنے باپ شاہ جہاںکو آگرہ قلعہ میں بند کر دیا۔ ایک روزقلعہ میںگیا۔ شاہ جہاں نے کہا کہ قلعہ کے ملازمین کے بچوں کو پڑھانا چاہتاہوں۔ اورنگ زیب نے کہا کہ لگتا ہے، ابھی حکمرانی کی بُو نہیں گئی! ایک شہنشاہ مزاج سابق صدر جس نے ایوان صدر کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کر دیا تھا، جس کا امریکی ریاست ٹیکساس میں بھی گھوڑوں کا ایک اصطبل موجود ہے، حکومت سے درخواست کر رہا ہے کہ حوالات میں اس کی جان کو خطرہ ہے، اسے دن اور رات میں خدمت کے لئے دو ذاتی ملازم فراہم کئے جائیں۔ خبر پھیلا دی گئی کہ بیماری کا بہت سخت حملہ ہوا ہے، ہسپتال لے گئے ہیں۔ نیب کی وضاحت آ گئی کہ کچھ بھی نہیں ہوا، نیب نے معمول کا طبی معائنہ کرایا ہے۔ چلیں چھوڑیں، آصف زرداری اور نوازشریف کی باتیں، تخت پر تھے تو ان کی باتیں، اب بارہ فٹ آٹھ فٹ کی کوٹھڑیوں میں بند ہیں تو پھر بھی ان کی باتیں!
٭جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر پاکستان بار کونسل کی ہڑتال مجموعی طور پرکامیاب نہ ہو سکی۔ کچھ شہروں میں ہڑتال کچھ میں کام ہوتا رہا۔ پنجاب میں وکلا کی تنظیموں نے پہلے ہی ہڑتال سے انکار کر دیا تھا، کراچی میں وکلا کے ایک گروپ نے عدالتوں کو تالے لگائے، دوسرے گروپ نے تالے توڑ کر عدالتیں کھول دیں اور عدالتی کام شروع ہو گیا۔ ہڑتال کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ بلوچستان کے جج کے خلاف ریفرنس کیوں پیش کیا گیا ہے؟ دریں اثنا وزارت قانون نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کے خلاف صدر مملکت کو براہ راست خط لکھ کر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ قانون کے مطابق کوئی سرکاری ملازم صدر، گورنر، وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو براہ راست کوئی مراسلہ نہیں بھیج سکتا!
٭قدرت کے کھیل بھی عجیب ہیں۔ 1990ء میں گوہر ایوب قومی اسمبلی میں ن لیگ کے سپیکر تھے۔ آصف زرداری نے جیل سے اسمبلی کا الیکشن جیتا تھا۔ گوہر ایوب نے آصف زرداری کو اسمبلی میں لانے کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیا۔ آج آصف زرداری پھر جیل میں ہے۔ گوہر ایوب تحریک انصاف میں ہیں جس کے سپیکر نے آصف کو اسمبلی میں لانے کے لئے تادم تحریر پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا تھا۔ 
٭آج کل ماضی میں قرضوں کے استعمال کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کا کمیشن قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پتہ نہیں اس کا حاصل کیا ہو گا؟ میں نے طویل صحافتی زندگی میں ایسے بے شمار کمیشن بنتے اور ختم ہوتے دیکھے ہیں۔ پنجاب میں ایک بار سیلاب کی تباہ کاریوں کے بارے میں صرف ایک جج پر مشتمل کمیشن بنا۔ صرف ایک محکمے سے کچھ معلومات لینی تھیں، اس میں ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا۔ اس عرصے میں دوسرا سیلاب آ گیا۔ کمیشن نے تقریباً سوا سال بعد رپورٹ پیش کی۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے دیکھے بغیر الماری میں رکھوا دی! قرضوں والے کمیشن کا معاملہ تو کئی گنا زیادہ کا ہے۔ تقریباً چھ ارکان کے کمیشن کے اجلاس کئی کئی ہفتے کے بعد ہوا کریں گے۔ پچھلے دس برسوں میں مختلف ممالک، امریکہ، برطانیہ، جاپان،کوریا، سعودی عرب، عالمی بنک، ایشیا بنک وغیرہ سے درجنوں قرضے آئے، سینکڑوں جگہ استعمال ہوئے (بہت سی ذاتی تجوریاں بھی بھر گئیں) ان قرضوں کو استعمال کرنے والے درجنوں محکموں اور اداروں کا ریکارڈ کیسے چیک ہو سکے گا؟ یہ سارا کام کم از کم چار پانچ سال کا ہے۔ اس کی رپورٹ تیار ہونے میں ہی کئی مہینے لگ جائیں گے اور پھر اس کی سینکڑوں صفحات کی رپورٹ بھی کسی الماری میں بند ہو جائے گی!
٭ایک دلچسپ معاملہ! بجٹ میں ایوان صدر کی جدید ترین آرائش زیبائش، نئے اعلیٰ پردوں، جدید فرنیچر وغیرہ اور دوسری اخراجات کے لئے 92 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اس رقم میں سے ایوان صدر کے چڑیا گھر میں چھوٹے رنگین طوطوں کے لئے 20 لاکھ روپے سے نئے خوشنما پنجرے بنائے جائیں گے۔ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے نے بجٹ کی باضابطہ منظوری کے سے پہلے ہی ان پنجروںکیلئے 20 لاکھ روپے کے ٹینڈر بھی جاری کر دیئے۔ کسی طرف سے اعتراض ہوا کہ ٹینڈر غیر قانونی ہیں۔ صدر صاحب کو پتہ چلا تو بہت ناراض ہوئے اور ٹینڈر جاری کرنے کا اعلان واپس لے لیا گیا۔ یہ صرف طوطوں کے پنجروں کی بات ہے۔ ملک کی بدحال معیشت سب کے سامنے ہے۔ بہت سے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں اضافہ تو کیا، تنخواہیں ہی نصیب نہیں ہوئیں اور ایوان صدر کو شاہی محل کی شکل دینے کے لئے 92 کروڑ روپے۔ گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ صدر کی تقریباً پونے دس لاکھ روپے سالانہ تنخواہ میں سے 19 ہزار روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔ قارئین کی اطلاع کے لئے ایوان صدر میں تمام یوٹیلٹی بل، باورچی خانہ کے کھانوں، لانڈری، علاج وغیرہ کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کئے جاتے ہیں۔ صدر کی پوری تنخواہ تو بنک میں پڑی جمع ہوتی رہتی ہے۔ 19 ہزار روپے کی کمی سے کیا فرق پڑے گا!
٭حکومتی اور اپوزیشن کی خواتین، خاص طور پر مریم نواز اور فردوس عاشق کے درمیان مسلسل روزانہ صبح شام مذاکرے اذیت ناک شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی گفتار شائستگی کی خاص حدود میں رہتی ہے مگر اس بار خواتین اور مردوں کی گفتار میں کوئی فرق نہیں رہ گیاصرف ہاتھا پائی اور ایک دوسری کے بال کھینچنے کی کسر باقی رہ گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ مریم نواز عمران خاں کے خلاف ناقابل قبول گالی نما باتوں کی حد تک چلی گئی ہیں۔ نالائق اعظم، نااہل اعظم، ڈرپوک اعظم، کٹھ پتلی، خلائی مخلوق کا پروردہ وزیراعظم کے الفاظ! اور جواب میں مریم نواز کے لئے فردوس عاشق کی طرف سے راج کماری، مہاراج کی بیٹی، مہارانی کا باپ، ظل سبحانی، گدی نشین (شہباز شریف) وغیرہ کے الفاظ کس اخلاقی شائستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ انتہائی دکھ اور اذیت کی بات یہ ہے کہ فیس بک پر مختلف سیاسی خواتین کی ان باتوں پر نہائت ناقابل بیان اخلاقی سوز باتیں نشر ہونے لگی ہیں۔ کاش یہ بی بیاں اپنی معاشرتی حدود کو مدنظر رکھیں۔