08:09 am
  ثعلبہ کا قصہ اور مسلمانان پاکستان

ثعلبہ کا قصہ اور مسلمانان پاکستان

08:09 am

ثعلبہ نامی شخص کی تفصیل یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے
ثعلبہ نامی شخص کی تفصیل یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے دولتمند کردے ۔آپﷺ نے فرمایا کہ ثعلبہ !تھوڑی چیز جس پر اللہ کا شکر ادا کرے اس زیادہ چیز سے اچھی ہے جس کے تو حقوق ادا نہ کرسکے مگر مال کی محبت میں رسول اللہ ﷺ کی بات اس کے ذہن میں نہ بیٹھی۔اس نے پھر وہی درخواست کی ۔اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ! کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ میرے نقش قدم پر چلے؟مگر آپﷺ کے انکار کے باوجوداس کا اصرار بڑھتا رہا ۔اس نے وعدہ کیا کہ اگر اللہ مجھے مال و دولت دے گا تو میں پوری طرح اس کے حقوق ادا کروں گا۔اللہ کی راہ میں خوب خرچ کروں گا۔آخر حضور ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔دعا کے نتیجے میں ثعلبہ کی بکریوں میں اس قدر برکت ہوئی کہ مدینے سے باہر ایک گائوں میں رہنے کی ضرورت پڑی اور اتنا پھیلائو ہوا کہ ان میں مشغول ہوکر رفتہ رفتہ وہ جمعہ و جماعت بھی ترک کرنے لگا۔اس کے کچھ عرصے بعد نبی کریمﷺ نے ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے والے محصل بھیجے تو کہنے لگا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے ۔ایک دو بار ٹلاکر آخر زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کردیا۔جب نبی کریم ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا کہ برا ہو ثعلبہ کااور یہ آیات نازل ہوئیں:’’اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوںنے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطافرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو (مال ) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور اپنے عہد سے روگردانی کرکے پھر بیٹھے۔تو اللہ نے ان کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے ،ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ۔اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔‘‘جب اس کے اقارب کے ذریعے یہ خبر اس تک پہنچی تو لوگوں میں شرمسار ی سے بچنے کے لئے بادل نخواستہ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا مگر آپﷺ نے لینے سے انکار کریا۔آپﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ،حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے ادوار میں ان کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا مگر ہر ایک نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کردیا کہ جو چیز نبی کریم ﷺ نے رد کردی ، ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے۔آخر اسی حالت نفاق پر حضرت عثمان ؓ کے عہد میں اس کا خاتمہ ہوا۔
یہ ایک شخص کا قصہ ہے۔لیکن یہ جمع کے صیغے میں بیان ہورہا ہے۔کبھی کسی فرد کی طرح قوم کے ساتھ بھی نفاق کا معاملہ ہوسکتا ہے۔قوم اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرتی ہے کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور بڑے صالح اور نیک بن جائیں گے اور دین کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔مگر جب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنے فضل سے نواز دیتا ہے تو وہ ڈنڈی مارتے ہیں۔پھر جب انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں اور کسی طور پر بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔یہی وہ جرم ہے جو ہم مسلمانان پاکستان سے سرزد ہوا ہے۔متحدہ ہندوستان میں ہم محکوم تھے۔ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اے اللہ!تو ہمیں انگریزوں اور ہندوؤں کی دہری غلامی سے نجات د ے دے اور ایک الگ خطۂ زمین عطا فرمادے ، ہم اس آزاد ملک کو اسلامی ریاست میں ڈھالیں گے جو پوری دنیا کے لئے اسلام کے نظام عدل و قسط کا نمونہ بنے گی ۔بھارت سے لاکھوں مسلمان ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے اس سرزمین پر اسی لئے آئے تھین کہ یہاں اسلامی ریاست قائم ہوگی جس میں وہ اپنے دین پر پورے طور پر عمل کرسکیں گے اور یہاں اسلام کا نظام عدل اپنی بہاریں دکھائے گا۔یہی بات قائد اعظم نے اپنے بیسیوں بیانات میں کہی تھی۔جب ان سے دستور پاکستان کی بابت سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا دستور ہمیں تیرہ سو سال پہلے عطا کردیا گیا ہے یعنی قرآن مجید۔بانی پاکستان کی ان کی وفات سے دو دن پہلے جو بات کہی تھی ا س کی گواہی ان کی ذاتی معالج پروفیسر ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے دی تھی کہ انہوں نے کہا تھا کہ’’ تم جانتے ہو کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے ۔یہ ایک مشکل کام تھا جو میں اکیلا کبھی نہیں کرسکتا تھا ۔میرا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا ۔اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔‘‘
  جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں انگریزوں اور ہندوؤ ں کی مخالفت کے باوجود ہمیں آزادی کی دولت سے نواز دیا اور ایک آزاد خطۂ زمین عطا کردیا تو ہم اپنے تمام وعدے بھول گئے۔ہم نے یہاں نفاذ اسلام کی بجائے اس کی راہ میں روڑے اٹکائے۔اب جب یہ وعدہ یاد دلایا جاتا ہے تو ہمارے نام نہاد دانشور بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہی نہیں۔یہ لوگ بانی پاکستان کے سو کے قریب بیانات کو چھوڑکر جن کا حاصل یہ ہے کہ وہ پاکستان نفاذ اسلام کے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں، 11  جولائی1947 کے ایک متنازعہ بیان کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے حالانکہ سیکولر طبقے کی اس تعبیر کی قائد اعظم نے خود نفی کردی تھی۔چنانچہ 25جنوری ،1948کو کراچی بار ایسو سی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے دو ٹوک انداز میں یہ کہہ دیا تھا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کے مطابق نہیں بنے گا ، وہ فتنہ پرور اور شرارتی ہیں اور غلط پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔
بہرحال نفاذ اسلام کے وعدے سے انحراف کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے بحیثیت مجموعی منافقت ڈال دی ہے،جس کے مظاہر ہر جگہ نظر آتے ہیں ۔قوم میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوچکی ہے ۔کرپشن کا مرض قوم کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔نفاق باہمی نے یہاں کے مسلمانوں کو قومیتوں میں تقسیم کردیا ہے۔یہ نفاق وعدہ خلافی اور جھوٹ کے سبب دلوں میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ ہم نفاذ اسلام کے وعدے سے پھرگئے۔اللہ نے بتادیا کہ جھوٹ  اور وعدہ خلافی کا نتیجہ نفاق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ہمیں نفاق سے ڈرنا چاہئے اس لئے کہ بدعملی کے نتیجے میں اس کے وائرس غیر محسوس طریقے سے حملہ آورہوجاتے ہیں اور یہ صورتحال بہت خوفناک ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا کہ لوگوں کی مخفی باتوں سے بھی آگاہ ہے اور وہ آپس میں کاناپھوسی کرتے اور سازشیں کرتے ہیں۔اسلام کے خلاف جو گھنائونے منصوبے بناتے ہیں، ان کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔وہ تو سمیع و بصیر ہے۔لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے۔



 

تازہ ترین خبریں