08:09 am
   شدت  پسندی  اور  بھارتی  اقلیتوں کا  المیہ

شدت پسندی اور بھارتی اقلیتوں کا المیہ

08:09 am

انسانی حقوق کی مالا جپنے والے بین الاقوامی فورمز کی دیانت کا امتحان ہے ! اقوام متحدہ سمیت گذشتہ ڈیڑھ صدی میں مہذب ہونے والی
 انسانی حقوق کی مالا جپنے والے بین الاقوامی فورمز کی دیانت کا امتحان ہے ! اقوام متحدہ سمیت گذشتہ ڈیڑھ صدی میں مہذب ہونے والی اقوام مغرب کی زندہ ضمیر ی پہ بہت بڑا سوال بنتا ہے ! دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریہ بھارت میں جوان ہونے والا ہندو شدت پسندی کا اژدہا مذہبی اقلیتوں کو سالم نگلنے پہ تُلا ہوا ہے۔ یہ وہ مہان دیش ہے جس میں گائے کی حرمت پر انسان کو بر سرعام مار دیا جاتا ہے۔ مرنے والے کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ آٹھ برس کی بچی کو ہندو جنونی چار دن تک جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرکے پھینک دیتے ہیں ۔ وحشی قاتلوں کے حق میں ہندو شدت پسند دھرنا دیتے ہیں اور رہائی کے لیے مظاہرے کرتے ہیں ۔ دنیا بھر نے تھو تھو کی تو بعد از خرابئی بسیار بھارتی عدالتوں نے نیم دلی سے چند مجرموں کو سزا سنا دی ۔ یہ مجرم بھی ضمانتوں ، اپیلوں اور معنی خیز سماعتوں کے چکر چلا کر بالآخر سزا سے بچ جائیں گے۔ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے سوامی اسیما نند اور اُس کے ساتھی ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالتوں سے باہر آئے ۔ قاتل باعزت بری ہوئے اور بھارتی عدلیہ کی عزت و وقار خاک میں مل گئی ۔
سنتے آئے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے ۔ مہان بھارت میں مقدمہ اقلیتوں کا ہو اور ملزم مسلمان ہو تو قانون ، جج ، تفتیشی اور جیلر سمیت پورا ریاستی نظام وحشی جنونی بن جاتا ہے۔ اسے مبالغہ آرائی یا لفاظی سمجھنے والے صاحبان افضل گرو کیس کی تفصیلات پڑھ لیں ۔ یہ فیصلہ موجودہ عہد میں عدالتی جانبداری اور ریاستی تعصب کی بد ترین مثال ہے۔ عدلیہ نے بے گناہ افضل گرو کو ثبوت نہ ہونے کے باوجود سزا صرف اس لیے دی کہ بھارتی عوام کے مشتعل جذبات کو سرد کیا جا سکے۔ جس معاشرے میں آئین کے محافظ اور قانون کی تشریح کرنے والے منصف بے گناہ مسلمانوں کو ڈنکے کی چوٹ پر محض اس لیے موت کے گھاٹ اُتار دیں کہ اس بے رحمانہ پھانسی سے ہند و شدت پسندوں کے دلوں کو تسکین ملے گی وہاں قانون نافذ کرنے کی آڑ میں وحشی پولیس اور فوج مقبوضہ کشمیر میں کیا کیا مظالم نہ ڈھاتی ہو گی۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ اور شدت پسند بی جے پی کے اہم ترین نیتا راج ناتھ سنگھ کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ موصوف نے بھارتی پارلیمان میں نہتے کشمیریوں کو پتھر کے جواب میں گولیوں سے اُڑانے کی دھمکیاں دیں ۔ پاکستان پر ایک گولی کے جواب میں دس گولیاں برسانے کی ہدایات دیں ۔ کشمیریوں کی نسل کُشی اور عصمت دری جیسے سنگین جرائم میں ملوث وحشی بھارتی اہلکاروں کی گاہے بگاہے وکالت فرماتے رہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ بی جے پی کے شدت پسند حلقے کشمیر یوں کی جانب راج ناتھ سنگھ کے نرم رویے کے شاکی تھے۔ اسی شکایت کو دور کرنے کے لیے نئی حکومت میں راج ناتھ سنگھ کے بجائے امیت شاہ جیسے سکہ بند مسلم دشمن شدت پسند کو وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کو کشمیر میں تقریب منعقد کرنے سے روک دیا گیا ۔ عالمی میڈیا کشمیر میں نافذ بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ پر بھارت سرکار کی مذمت کر رہا ہے جس کے تحت کسی بھی بے گناہ کو قانونی کاروائی کے بغیر طویل مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں این جی اوز کی پراتوں میں غیر ملکی سرمائے کا راتب کھا کے انسانی حقوق کا واویلا مچانے والے سگانِ بے حمیت بھارت میں شدت پسندوں کے رقص ابلیس پر خاموش ہیں ۔
 مقبوضہ کشمیر کی جانب نگاہ اٹھائیں تو ان کی بصارت و بصیرت سلب ہو جاتی ہے۔ شدت پسندی کے نعرے لگا تے ہوئے پاکستان کے خلاف جنگ کا طبل بجا کر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے الیکشن جیتا تو دنیا بھر کے غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے اسے بھارت کے جعلی سیکیولر ازم کی موت کا باضابطہ اعلان قرار دیا ۔ ہمارے لبرل ٹوڈی مسلم دشمن شدت پسند اقلیتوں کے قاتل ٹولے کی فتح کو بھارتی نیشنل ازم کی فتح قرار دے کے فکری خیانت کا اظہار کرتے ذرا نہیں شرماتے ۔ بی جے پی کی جیت صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ بھارت کی تمام مذہبی اقلیتوں اور صدیوں سے سماج کی چکی میں پسنے والے دلتوں کے لیے موت کے اعلان سے کم نہیں۔
 دور کیا جانا سکھوں کی فریاد سن لیجیے۔ یہ فریاد آج ساری دنیا میں گونج رہی ہے ۔ اسی جون کے مہینے میں پینتیس برس قبل اندرا گاندھی کی نام نہاد سیکولر سرکار نے اکال تخت گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کر کے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو حریت پسند ساتھیوں سمیت بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا تھا ۔ آپریشن بلیو سٹار کے رد عمل میں اندرا گاندھی اپنے سکھ باڈی گارڈز ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کی گولیوں کا نشانہ بنی۔ اس کے بعد بھارت میں بے دردی سے سکھوں کا قتل عام کیا گیا اور سیکورٹی کے نام پر ریاستی اداروں نے بے گناہ سکھوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا یا ۔ اس سکھ دشمن رویے کے رد عمل میں ہزاروں سکھ اپنی دھرتی ماں سے نقل مکانی کرکے بیرون ملک جا بسے۔ آج دنیا بھر میں آباد یہ سکھ بھارت نام کی قاتل ریاست سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
 جسٹس فار سکھ نامی عالمی تنظیم خالصتان کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ آئندہ برس دنیا بھر میں بسنے والے سکھ خالصتان کے قیام کے لیے کروائے جانے والے ریفرنڈم میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے ۔ ایک کشمیر ہی نہیں بلکہ پنجاب سے بھی بھارتی ریاستی جبر کے خلاف بغاوت کی صدا بلند ہو رہی ہے۔ سیکولر کانگریس نے مشرقی پنجاب اور کشمیر میں اقلیت دشمنی کے جو بیج بوئے تھے وہ مظلوموں کے خون سے پروان چڑھ کر تحریک حریت کے تن آور درخت بن چکے ہیں ۔ اب معاملات سیکولر نہیں بلکہ اعلانیہ شدت پسند دہشت گرد گروہ بی جے پی کے ہاتھ میں ہیں ۔ لبرل ٹوڈی ہوش کے ناخن لیں۔ بھارت میں نیشنل ازم کی نہیں بلکہ جنونیت اور پاکستان دشمنی کی جیت ہوئی ہے۔
 

 



 

تازہ ترین خبریں