08:10 am
گرفتاریاں: حکومت اور نیب پر الزام کیوں؟

گرفتاریاں: حکومت اور نیب پر الزام کیوں؟

08:10 am

پہلا سوال کیا یہ آصف علی زرداری کیخلاف جعلی بینک اکائونٹس کا مقدمہ تحریک انصاف کی حکومت میں قائم ہوا؟
پہلا سوال کیا یہ آصف علی زرداری کیخلاف جعلی بینک اکائونٹس کا مقدمہ تحریک انصاف کی حکومت میں قائم ہوا؟ جواب نہیں یہ مقدمہ مسلم لیگ ن کے دور میں قائم ہوا اور دسمبر2015 سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے)جعلی بینک اکائونٹس کی تحقیقات میں مصروفِ عمل ہے۔ دوسرا سوال آصف علی زرداری کیخلاف نیب نے کیا ازخود جعلی بینک اکائونٹس کی انکوائری شروع کی اور ریفرنس دائر کیا؟ جواب نہیں عدالت عظمیٰ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد نیب کو انکوائری، انوسٹی گیشن اور ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ نیب نے تحقیقات کے بعد جعلی بینک اکائونٹس میں ملوث افراد کیخلاف ریفرنس دائر کئے اور آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔
 ستمبر2018 میں سپریم کورٹ کے حکم پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ ایف آئی اے کی کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈی جی احسان صادق ایف بی آر کارپوریٹ زون کے کمشنر عمران لطیف منہاس سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ماجد حسین نیب کے ڈائریکٹر نعمان اسلم سیکورٹی ایکس چینج کمیشن آف پاکستان محمد افضال اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر شاہد پرویز پر مشتمل 6رکنی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ 24دسمبر 2018 کو عدالت عظمیٰ میں پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق جن 29بینک اکائونٹس سے 42ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی وہ زرداری گروپ‘ بحریہ ٹائون اور اومنی گروپ کے ٹرائیکا کی ملی بھگت سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔
جعلی بینک اکائونٹس اور منی لانڈرنگ کے علاوہ زرداری  اور بحریہ ٹائون کے مابین شراکت داری کی کئی کہانیاں منظرِعام پر آئیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زرداری فیملی کے اخراجات اومنی گروپ کے اکائونٹس سے ادا کئے جاتے رہے۔ ان اخراجات میں صدقوںکے بکرے سالگرہ کی تقریبات اور کتوں کی خوراک بھی شامل تھی۔ اومنی گروپ کو ان نوازشات کے بدلے جو مراعات ملتی رہیں وہ اپنی جگہ ایک الگ کہانی ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق رولز کیخلاف سندھ بینک سے اومنی گروپ کو جو قرضے دئیے گئے ان میں 53ارب روپے آئوٹ سٹینڈنگ لونز ہیں۔ اومنی گروپ کے قرضے 83مرتبہ ری سٹرکچر کئے گئے جو ایک ریکارڈ ہے۔ بحریہ ٹائون نے 64منزلہ بحریہ ٹاور ایریا کی متنازعہ زمین پر تعمیر کیا اس کی ملکیت آصف علی زرداری اور ملک ریاض کے داماد زین ملک کی ہے۔ یہ 50ارب روپے کا منصوبہ ہے، اس جے آئی ٹی رپورٹ کے نتیجے میں عدالت عظمیٰ نے معاملہ نیب کو ریفر کیا۔
نیب نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ 36مقدمات میں سے آٹھ مقدمے ایسے ہیں جن میں آصف علی زرداری کا واضح کردار سامنے آ رہا ہے علاوہ ازیں 22 انکوائریاں ایسی ہیں جن میں نیب کو شبہ ہے کہ آصف علی زرداری ان سکینڈلز میں ملوث ہوں گے۔ ان میں جعلی بینک اکائونٹس سے امپورٹ ڈیوٹی کی ادائیگی گنے کے کاشتکاروں کو 2014-15 میں دی جانیوالی سبسڈی میں بے ضابطگی سندھ ٹریکٹر سبسڈی میں بے ضابطگی پاور پراجیکٹس کی اوور ویلیوایشن سمٹ بینک کا غیرقانونی قیام اور وسعت ٹھٹھہ اور داسو شوگر ملوں کی فروخت سندھ کے بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی میں کرپشن اومنی گروپ کو نیشنل بینک سمٹ بینک اور سندھ بینک سے قرضوں کی سہولت وغیرہ شامل ہیں۔
اگر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھی  سیاسی انتقام کا الزام کسی پر لگا سکتے ہیں تو وہ مسلم لیگ ن کی قیادت ہے جنہوں نے جعلی بینک اکائونٹس کی تحقیقات ایف آئی اے سے کروائیں اور انور مجید حسین لوائی اور آصف زرداری کے دیگر مددگار اور ساتھی گرفتار کئے۔ ان پر مگر یہ الزام آج دھرا نہیں جا رہا بلکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت دونوںمل کر موجودہ حکومت اور نیب کو موردالزام ٹھہرا رہی ہیں کیونکہ دونوں جماعتوں کی قیادت کو اپنی بقا اس میں لگ رہی ہے کہ دونوں باہم شیر وشکر رہیں۔ دوسری طرف پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کی ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر نیب نے انہیں 11جون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری نیب کو رمضان شوگر ملز  منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمات کی تحقیقات میں مطلوب تھی۔ نیب نے 5اپریل کو انہیں گرفتار کرنا تھا مگر وہ گرفتاری دینے پر آمادہ نہ تھے۔ 6اپریل کو بھی نیب نے کارروائی کی لیکن انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لے لی۔
گزشتہ دو ماہ اور پانچ دنوں سے وہ قبل از گرفتاری ضمانت کو انجوائے کر رہے تھے۔ اب نیب نے انہیں گرفتار کیا تو مسلم لیگ ن والے بھی ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام اور نیب کی اوچھی حرکت قرار دے رہے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ صرف اپوزیشن والے نیب کے نشانے پر کیوں ہیں۔ یہ دلیل پیش کرتے وقت وہ بھول جاتے ہیںکہ پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو نیب نے گرفتار کیا اور انہیں کئی ماہ تک اپنی تحویل میں رکھا۔ احتساب کا عمل یکطرفہ نہیںہونا چاہئے اس میں کوئی دو آرا نہیں ہیں لیکن یہ کہاں کی معقولیت ہے کہ احتسابی عمل کو یکساں ثابت کرنے کیلئے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے خواہ مخواہ برابری کی بنیاد پر گرفتاریاں کی جائیں۔ احتساب میرٹ کی بنیاد پر ضرور ہونا چاہئے لیکن اپوزیشن کی خواہشات کے مطابق کیا ایسا ممکن ہو گا؟



 

تازہ ترین خبریں