08:11 am
عزتِ نفس اورچھترول

عزتِ نفس اورچھترول

08:11 am

میڈیاکی آزادی اب زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوناشروع ہوگئی ہے۔چندسال پہلے کوئی  سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس قدرسرعت کے ساتھ معاشرے
میڈیاکی آزادی اب زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوناشروع ہوگئی ہے۔چندسال پہلے کوئی  سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس قدرسرعت کے ساتھ معاشرے میں ہونی والی برائی یاکوئی ایساخفیہ گوشہ  آن کی آن میں ساری دنیاکے سامنے آجائے گا اورمہذب معاشروں میں اس کاخاطرخواہ ردعمل بھی ہوگا لیکن حیرت ہے ان افرادکی سوچ پرجوآج بھی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ کوئی پرواہ کئے بغیراپنی اسی پرانی روش کوقائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اپنے ٹی وی سیٹ پرہرایک لمحے میں دیکھتے ہونگے کہ کس طرح ملک کے وہ ادارے جن کاسلوگن ہی’’عوام کی خدمت‘‘ ہے ، اس ملک کے عوام کی عزتِ نفس کوپامال کرتے ہیں۔لفظ ’’چھترول‘‘ ایک خالصتاپولیس تھانوں کی زبان میں ایک ایساہتھیارہے جس کی عملی  تصویرمیڈیانے کئی مرتبہ پیش کرکے ملک کے عوام کواس سے متعارف کروایاہے لیکن ان دنوں حکومت اوراپوزیشن لفظی چھترول اس ملک کاگویاسب سے بڑاموضوع بن گیاہے اورشائد آنے والے دنوں میں ملک کی شاہراہوں پراس چھترول کی نمائش میں خاصااضافہ دیکھنے کوملے گا لیکن کبھی آپ نے اپنے معاشرے پرغورکیاہے کہ  اس ملک میں ہرقدم پرانسانوں کی عزتِ نفس پرجوچھترول ہورہی ہے اس میں ہمارا کردار کیا ہے؟
آیئے میں آپ کواسی معاشرے کے چند کرداروں سے ملواتا ہوں جو ہر لمحے آپ کی آنکھوں کے سامنے سرزدہوتے ہیں اورہم نے اب اس  کوایک معمول سمجھ کراس پرغور کرنابھی چھوڑ دیاہے۔اکثر آپ نے گھومتی ہوئی کرسیوں، بڑی بڑی میزوں،آراستہ دفاتر اور دروازوں  پرکھڑے دربانوں میں بیٹھے ہوئے یہ لوگ جن کے چہروں پرہر دوسرے لمحے موسم بدلتے ہیں،کبھی مسکراہٹ اورخوشامدکاموسم اورکبھی غصے اورحقارت کی رت دیکھی ہوگی۔یہ لوگ ذلت سہنابھی خوب جانتے ہیں اورموقع ملے تو کسی کی تذلیل سے بھی بازنہیں آتے۔ہم نے بچپن سے لیکرآج تک ان کوہرزاویے سے دیکھاہے ،ان کی تیزگزرتی گاڑیوں کی دھول بھی کھائی  ہے،ان کے دروازوں پرگھنٹوں ملاقاتیوں کاایک جم غفیربھی دیکھاہے،ان کے ساتھ ایک عام شہری کی طرح گفتگو،سوال وجواب کا منظر بھی  ازبرہے،ان کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے مزاجوں اور چند ثانیوں میں تبدیل ہوتے لہجوں کوبھی دیکھاہے لیکن پتہ نہیں کیوں اس سارے گورکھ دھندے میں مجھے صرف ایک چیزپاں میں روندتی ہوئی نظرآتی ہے صرف ایک متاع ہے جوزخم زخم ہوتی ہے اوروہ ہے انسان کی عزتِ نفس،آیئے میں اس کھلونے کے ساتھ کھیلتے ہوئے چندمنظر ناموں میں لئے چلتاہوں لیکن شرط یہ ہے کہ اس سفرمیں آپ کودل تھام کرخاموشی سے ان کواپنی دل کی آنکھوں میں محفوط کرناہوگا۔
یہ ایک سائل ہے جوکئی گھنٹوں سے باہرکھڑے چپڑاسی کی جھڑکیاں کھاتا،صاحب کے پی اے کی خوشامدیں کرتااوربعض اوقات ان کی مٹھی گرم کرکے بالآخر دفترمیں افسرکے سامنے کانپتے ہاتھوں سے درخواست آگے بڑھاتا ہے۔ صاحب قلم سے کچھ لکھنے لگتاہے،اتنے میں وہ فریادی لہجے  میں زبان کھولتاہے تو صاحب کی غصے بھری آوازاس کاخون خشک کر دیتی ہے’’تمہیں کس نے کہابولنے کو،میں نے پوچھنا ہوگا تو خود پوچھ  لوں  گا‘‘درخواست پرہلکے سے دستخط کرکے ایک طرف پھینک دی جاتی ہے۔سائل کچھ کہنے کیلئے منہ کھولتاہے توپھروہی گرجدارآوازسنائی دیتی ہے’’بس اب جائو جان چھوڑو‘‘لیکن سرآپ میری بات توسنیں"میں نے پڑھ لیاہے جوتم نے اس درخواست میں لکھا ہے۔ صاحب!میں کہاں سے پتہ کروں کہ میراکام ہواہے کہ نہیں؟ صاحب کے چہرے کارنگ فوراً بدلتا ہے،الٹے ہاتھ پرلگی ہوئی گھنٹی پرصاحب کی انگلی لگنے کی دیرہے کہ چپڑاسی اندرداخل ہوتاہے، صاحب کامزاج آشنا اس سائل کوبازویا کندھے سے پکڑتا کر کہتا ہے کہ آمیں بتاتاہوں، باہر لیجاتاہے۔باہرکی دنیا جہاں اس جیسے کئی اورسائل اسے اس ذلت اوررسوائی سے باہر آتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
دفترکی ایک مخصوص’’گھنٹی‘‘ پرایک کلرک فائلوں کاایک انبارلئے ہوئے میزکی بائیں جانب ادب سے کھڑاہوجاتاہے۔سامنے خالی ٹرے میں تمام فائلوں کوایک ترتیب سے رکھ کر صاحب کے اشارہ ابروپرایک فائل کے کچھ صفحات دکھانے کی جرات کرتاہے،کسی ایک صفحے پرصاحب کی آنکھ میں ذراسی غصے کی چمک آتی ہے تواس بیچارے کے ہاتھ تھر تھرانے لگتے ہیں،محنت سے ترتیب دی ہوئی فائل ہاتھوں سے پھسل کرگراچاہتی ہے۔بڑی مشکل سے ضبط کرکے وہ فائل سنبھالتاہے اورپھرصاحب کے سامنے اپناکیاہواکام رکھنے لگتا ہے ۔سامنے چند ایک معززین یادوست بھی موجودجوکافی یاچائے سے لظف اندوزہورہے ہیں، اچانک کاغذات کی ترتیب، فائل کی تھوڑی سی بے ترتیبی یاپھرکسی کاغذکے چند سیکنڈ ڈھونڈنے پرموجودنہ ہونے کی وجہ سے صاحب کوغصہ آتاہے،عینک اتار کر میز پر پٹخ  دی جاتی ہے،ہاتھوں میں پکڑی فائل ہوامیں لہراتی ہے اورکبھی کبھی سخت غصے میں ساتھ کھڑے شخص کے منہ پرماردی جاتی ہے اورکبھی سامنے رکھی لمبی میزسے پھسلتی ہوئی قالین پرورق ورق ہوجاتی ہے۔
خوف سے کانپتا،گالیاں سنتا،اپنے مستقبل سے مایوس وہ اہلکارکاغذسمیٹتا،معافیاں مانگتا اور آئندہ بہتر کام کرنے کاوعدہ کرتاہوانظرآتاہے لیکن غصہ کم نہیں ہوتااور پھران سب لوگوں کے درمیان ذلت اوررسوائی کاداغ لیکرکمرے سے باہرنکل جاتاہے۔ ایسے میں کبھی کوئی اس شخص کے دل کے اندرجھانک کردیکھے تواس میں ایک ہی خواہش ہوگی کہ اس کی آنکھوں کے کونوں میں جوآنسوچھلک رہے ہیں دریا بن کرامڈپڑیں اوروہ پھوٹ پھوٹ کرروئے،کسی گوشہ تنہائی میں کسی ایسے شخص کے سامنے جواس کادرد جانتا ہو،اسے شرمندہ نہ کرے اوروہ اس کے روبرو اپنا درد بیان کرسکے، اپنا دکھڑاروسکے،اپنی ذلت کا مداوا کر سکے ۔
یہ مناظرآپ کوہرصاحبِ اختیارکے دفتر میں ملیں گے۔یہ لوگ اپنے سے جونیئر افراد پر برستے ہیں،غصے میں گرجتے ہیں،انہیں کھڑے کھڑے یہ سب سنناپڑتاہے اورکبھی بھری میٹنگ میں سب کے روبرو،ایسے لمحوں میں کوئی نہیں سوچتاکہ اس کی آنکھوں میں جوضبط کے آنسو ہیں،اس کے ماتھے پرجوشرمندگی کا پسینہ ہے،یہ سب اسے کس ذلت سے دوچار کررہاہے۔اپنے ہی ساتھیوں کے سامنے اپنے ہی زیرِسایہ کام کرنے  والوں کے روبرو،یہ منظرصرف دفترتک محدود  نہیں ہیں۔
( جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں