08:14 am
سندھ بجٹ ٹیکس فری، پنجاب بجٹ ٹیکسوں کا ہمالیہ!

سندھ بجٹ ٹیکس فری، پنجاب بجٹ ٹیکسوں کا ہمالیہ!

08:14 am

سعودی عرب کے بادشاہ کی بیٹی حَسّہ کے فرانس میں وارنٹ گرفتاری
٭سندھ کا بجٹ ٹیکس فری، پنجاب کا بجٹ، دھوبی، نائی، موچی، کمہار، ریڑھی بان سب پر ٹیکسO بلوچستان نیشنل پارٹی کی حکومت اور اپوزیشن سے سودا بازیO پنجاب کا وزیر جنگلات سبطین خان گرفتار، اربوں کے ناجائز ٹھیکوں کا الزام!O بھارت نے سکھ یاتریوں کو سرحد پار نہ کرنے دیO وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری ایک اینکر پرسن سے گتھم گتھا، گالیاں، مکےO سعودی عرب کے بادشاہ کی بیٹی حَسّہ کے فرانس میں وارنٹ گرفتاری ۔
٭سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے فخریہ اعلان کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ پنجاب کے وزیرخزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے فخریہ عوام کے کھانے پینے اور استعمال میں آنے والی ہر چیز، ہر دھوبی، موچی، نانبائی، نائی، کمہار، مزدور پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیاوفاقی بجٹ کے بعد۔ مرے کو مارے شاہ مدار! سارے وزیرشذیر عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں مگر وزیر کی کرسی پر بیٹھتے ہی عوام کے دَرپے ہو جاتے ہیں، ان کا نام سُننا بھی پسند نہیں کرتے۔ ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر عوام پر نئے نئے ٹیکس لگاتے ہیں۔ پھر فخر کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہماری لازوال حکومت نے بے مثال عوام دوست بجٹ پیش کر دیا ہے۔ وفاقی بجٹ نے پہلے ہی پانچ کھرب سے زیادہ کے ٹیکسوں سے بے بس عوام کا کچومر نکال دیا۔ رہی سہی کسر بزدار حکومت نے پوری کر دی ہے کہ دھوپ، ہوا اور بارش کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس پرٹیکس عائد نہ کئے گئے ہوں! اب ٹیکس تو ایک مسئلہ مگر ٹیکس جمع کرنے والے عملے کے ہاتھوں گدھا گاڑیاں چلانے والوں، چھوٹی چھوٹی دکانوں پر بیٹھے دکانداروں ،  صبح سے رات تک پر چھابڑیوں میںپھل وغیرہ بیچنے والے افراد پر جو گزرے گی، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں اس بے بس مخلوق کو ہر سال انگریزی میں لکھے ہوئے ٹیکسوں کے گوشوارے بھی بھرنے ہوں گے! کیسی عوام دوستی سامنے آ رہی ہے!
٭سیاست؟ ہمیشہ والی بلیک میلنگ، مفاداتی جوڑ توڑ، ایک دوسرے کے خلاف سازشیں! قومی اور سندھ پنجاب اسمبلیوں میں مسلسل دھینگا مشتی، گالیاں، ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا! ان عوام دوست کارروائیوں کے بعد لاکھو ںکی تنخواہیں اور روزانہ کارکردگی کے الائونسوں کی وصولی! ملک و قوم کی بدقسمتی! کتنے نوحے لکھے جائیں! صورتحال یہ ہے کہ ہر فوجی یا غیر فوجی حکومت کے دور میں ہر حالت میں اقتدار میں شریک رہنے کے لئے بلیک میلنگ کا کاروبار جاری رہتا ہے ایسی ایک چھوٹی سی کاروباری پارٹی اس بار حکومت کے حاشیہ پر نہ بیٹھ سکی تو اس کاروبار کو چلانے والے نئے ہاتھ آ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں صرف سات ارکان والی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) بیک وقت تحریک انصاف کی حکومت اور پیپلزپارٹی سے مذاکرات کر رہی ہے کہ ہمیں اپنے ساتھ ملانے کا کیا معاوضہ دے سکتے ہو؟ قومی اسمبلی میں سات ارکان کی یہ پارٹی اپنی عددی اہمیت کی بنا پر ہر وقت حکومت کو خوف زدہ رکھتی ہے جو اس پارٹی کی حمائت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، بجٹ منظور کرانا دشوار ہو سکتاہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں حکومت کے پاس 177 ووٹ ہیں، ان میں سے تحریک انصاف کے 157 ووٹ ہیں۔ حکومت دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوںکے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔ ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کا تعاون بھی حاصل ہے۔ یہ پارٹیاں ہر وقت حکومت کی گردن پر سوار رہتی ہیں۔ تین دن پہلے خبر آئی کہ حکومت نے بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کے سارے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔ اس کے بعد آصف زرداری کی ہدایت پر پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے بی این پی سے مذاکرات کئے ہیں۔ ان میں بی این پی نے پیش کش کی ہے کہ اس کے مطالبات مان لئے جائیں تو وہ حکومت کے خلاف پیپلزپارٹی والی اپوزیشن میں شامل ہو جائے گی!! پیپلزپارٹی اور ن لیگ والی اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کو ملا کر 157 نشستیں ہیں۔ بی این پی کو ساتھ ملا کر 164 ہو جائیں گی حکومت بنانے کے لئے صرف آٹھ مزید نشستوں کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لئے ق لیگ کے ایم این اے مونس الٰہی کے بلاول زرداری سے مذاکرات اہم شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ق لیگ کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے مونس الٰہی کو وزیر نہ بنائے جانے پر حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی واضح دھمکی دے چکے ہیں۔ ق لیگ کی پانچ نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی نشستیں 169 ہو سکتی ہیں،حکومت بنانے کے لئے صرف تین مزید نشستیں درکار ہوں گی جو جوڑ توڑ سے حاصل کی جا سکتی ہیں اور حکومت بن سکتی ہے مگر پھر وہی مسئلہ ہو گا! کیا صرف 172 نشستوں کے ساتھ حکومت چل سکے گی؟ اس کی قیادت کون کرے گا؟ اپوزیشن کا بھس میں چنگاری ڈال بی جمالو دُور کھڑی والا تماشا دیکھ تحریک انصاف کی زخم خوردہ پارٹی آرام سے بیٹھے گی؟ تو پھر! چھ ماہ کا صدارتی نظام یا بھاری بوٹوں کی دھمک والی ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کی آواز!!؟ ہر وقت ہوا کے گھوڑوں پر سوار ان لوگوںکو اقتدار، دولت، عہدوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت کا کام صرف ٹیکس لگانا رہ گیا ہے۔ باقی اس کے سردار کی صبح شام کی تقریریں ’’نہیں چھوڑوں گا‘‘
٭قارئین کرام! معذرت کہ روزمرہ کی گلی سڑی فرسودہ باتوں سے کالم کی بیشتر جگہ اور اپنا اور آپ کا وقت ضائع کیا ہے۔ آیئے کچھ ہلکی پھلکی باتیں کریں۔ میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسمبلی میںاپنی نشست پر 17 بار اٹھنے بیٹھنے سے کمر درد دور ہو گیا ہے۔ یہ خاص قسم کا کمر درد ہے اپوزیشن میں رہنے پر شروع ہو جاتاہے۔ حکومت میں آنے پر دور ہو جاتا ہے۔ ملک میں بہت سے افراد کو کمر درد کی شکائت ہے، شہباز شریف نے انہیں آسان علاج بتا دیا ہے اسے آزما سکتے ہیں مگر کوئی اُلٹی شکائت بھی پیدا ہو سکتی ہے، احتیاط ہی کریں!
٭فیصل آباد میں وفاقی آتش بیاں وزیر سائنس فواد چودھری ایک تقریب میں ایک ٹیلی ویژن کے اینکر پرسن سے لڑ پڑے۔ گتم گتھا ہونے سے پہلے مرحلہ وار اسے للکارا کہ تم ٹیلی ویژن پر میرے خلاف باتیںکرتے ہو! پھر اسے ایک مکا مارا اور پھر اس سے گتھم گتھا ہو گئے۔ یہ دل فریب منظر بہت سے لوگوں نے دیکھا اور خوش ہوئے۔ کسی نے شائد اس سے پہلے کسی وزیر کی ایسی دھینکا مشتی نہ دیکھی ہو گی! پہلے اسمبلی تک محدود تھی، اب یہ شو فیصل آباد پہنچ گیا، دیکھیں لاہور کب آتا ہے؟
٭آج کل بہن کے رشتوں پر سختی آئی ہوئی ہے، آصف زرداری کی بہن فریال تالپور، حسین نواز اور حسن نواز کی بہن مریم نواز کے ساتھ جو بیت رہی ہے، وہ گھر کی بات ہے۔ ادھر فرانس میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بہن شہزادی ’حَسّہ‘ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔ محترمہ دو سال قبل اپنے شاہی پروٹوکول کے ساتھ پیرس گئیں۔ ایک سڑک پر ایک شہری پروٹوکول کی زد میں آ گیا۔ شہزادی کے محافظوں نے اس کی عربی سٹائل کی ٹھکائی کر دی! فرانس کی پولیس نے شہزادی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔ شہزادی واپس چلی گئی۔ کسی پیشی پر نہ آئی۔ دو سال انتظار کے بعد فرانس کی پولیس نے عالمی پولیس ’انٹرپول‘ کے ذریعے شہزادی کے وارنٹ گرفتار بھجوا دیئے ہیں! دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے!
٭اپوزیشن کے ساتھ گرفتاریوں کا توازن پیدا کرنے کے لئے نیب نے پنجاب میں تحریک انصاف کے صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ موصوف پر الزام ہے کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پنجاب کے وزیر معدنیات کے طور پر لوہے اور دوسری معدنات کے اربوں کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر اپنے پسندیدہ ٹھیکیدار کو دے دیئے تھے! (ایسے تو ہی نہیں دیئے گئے ہوں گے!!) اب گیارہ سال بعد احتساب کی زد میںآ گئے ہیں! تاریخ بہت ظالم ہے، کسی کو معاف نہیں کرتی! عبرت!سبطین خان نے وزیر کے عہدے سے استعفا دے دیا ہے!


 

تازہ ترین خبریں