07:24 am
شوگر فری بجٹ

شوگر فری بجٹ

07:24 am

دس سالوں میں کرپٹ سیاستدان 24 ہزار ارب روپے کھا گئے، ان چوبیس ہزار ارب روپے کی کڑوی گولیاں بائیس کروڑ عوام کو ہی نگلنی پڑیں گی۔
دس سالوں میں کرپٹ سیاستدان 24 ہزار ارب روپے کھا گئے، ان چوبیس ہزار ارب روپے کی کڑوی گولیاں بائیس کروڑ عوام کو ہی نگلنی پڑیں گی۔ حکمران عسکری ہوں یا جمہوری، سب کی غلطیاں عوام نے ہی بھگتی ہیں، اکہتر سالوں میں تو یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ عوام دوست بجٹ میں چینی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی، سو پہلے یہ گولیاں شوگر کوٹڈ ہوتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ 50 فیصد خسارے کابجٹ، 11 کھرب روپے کے ٹیکس، پھر بھی اسے عوام دوست بجٹ قرار دیا جائے تو تمامتر سیاسی عقیدت و احترام کے باوجود تحریک انصاف کی کارکردگی کے بارے میں شکوک و شبہات تو بڑھیں گے۔ تحریک انصاف کے دوستوں سے معذرت کیساتھ، پہلے اور اب کے بجٹ میں مجھے تو کوئی فرق نظر نہیں آتا، ہاں بس یہ ضرور ہے کہ پہلے بجٹ کے بعد مہنگائی کا طوفان آتا تھا، اس بار پورے سال مہنگائی کے طوفان اٹھتے رہے، اب شوگر فری بجٹ کے بعد بھی سلسلہ جاری رہنے کے پورے پورے امکانات ہیں۔ بجلی، گیس، پیٹرول، ادویات، ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے، ایسے میں اتنا خوفناک بجٹ مہنگائی کو طوفان لایا ہے، تو عوام کہاں جائیں۔
دو جماعتوں نے عوام کو لوٹا، تیسری کا پتہ چار سال بعد چلی گا، ان دونوں نے بھی پہلے تو سبز باغ دکھائے تھے، خیرمیری نظر میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی عوامی قیادت کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ بائیس کروڑ عوام کیلئے کچھ بھی نہ کیا۔ اس معاملے میں جمہوری اور فوجی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔  زرداری ہوں یا نواز شریف، ضیاالحق ہوں یا پرویز مشرف، اقتدار کی مقتل گاہ میں غریب و معصوم عوام کی قربانی دیتے رہے۔ گزشتہ دس سالوں کا جائزہ لیتے ہیں، دو ہزار سات، آٹھ میں جو قرضہ 46 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ہوا کرتا تھا وہ اب 95 اعشاریہ 2 تک پہنچ چکا ہے۔ ۔ اگر صرف بیرونی یا آئی ایم ایف قرضوں کے حوالے سے بات کی جائے تو گزشتہ دس سالوں میں 41 اعشاریہ 8 سے بڑھکر 70 اعشاریہ 2 تک پہنچ چکا ہے۔ اسطرح مجموعی طور پر 49 ارب ڈالر کا خوفناک اضافہ ہوا ہے، اس میں سے 14 اعشاریہ 7 ارب ڈالر پیپلز پارٹی اور 34 اعشاریہ 3 مسلم لیگ ن کی دین ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے سات ماہ کے دوران یہ قرضہ 105 اعشاریہ 8، یعنی اس دوران 10 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب جناب صورتحال یہ ہے کہ مسیحا ہو یا لٹیرا، قرضہ تو قرضہ ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے سات مہینوں میں قرضے کی شرح بھی کچھ کم خوفناک نہیں ہے۔ بہرحال ایک اعلیٰ سطح کا کمیشن بنایا جا رہا ہے جو گزشتہ دس سال کے قرضوں کے چھان پھٹک کرے گا، شاید چار سال بعد ایک اور کمیشن بنے جو تحریک انصاف کے قرضوں کی چھان بین کرے، شاید یہ تحقیقات بھی ہوں کہ ڈالر کی قیمت میں حیران کن اضافے نے عالمی قرضوں میں 50 ارب روپے بڑھا دیئے، ذمہ دار کون ہے؟ پھر نیب، عدالتیں، تحقیقاتی کمیشن کا ناٹک نئے اداکاروں کے ساتھ  پیش کیا جائے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانوں کی ہر غلطی، ہر حماقت، خواہ نیک نیت ہو  یا بدنیت بہرحال عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف کی قلندرانہ نیت پر مجھے کوئی شک نہیں مگر
قرض کی پیتے تھے مہ اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
قرض تو بیشمار ممالک پر ہم سے زیادہ ہیں، فرق یہ ہے کہ ٹیکس کا مربوط نظام، معاشی شرح نمو اور قومی پیداوار مستحکم ہوتی ہے۔ میں کوئی معیشت داں نہیں کہ اعداد و شمار کا تجزیہ کر سکوں، بحیثیت ایک عام شہری اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ٹیکس نیٹ بڑھائے بغیر اندرونی اور بیرونی قرضوں سے نجات ناممکن ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں صرف تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے، وہ بھی اکثر ادارے تنخواہوں سے تو کاٹ لیتے ہیں مگر سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہو پاتا۔ صنعتکار، تاجر، دکاندار اور دیگر کاروباری حضرات ٹیکس دیتے ہی نہیں، جس پر ہاتھ ڈالو ایک مافیا کی طرح ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو خیر کوشش ہی نہیں کی مگر ن لیگ، جس کو کاروباری حلقوں کا اعتماد بھی حاصل تھا اس کوشش میں ناکام ہو گئی۔ گوکہ اسحاق ڈار اعداد و شمار کی بازیگری دکھاتے رہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ٹیکس نیٹ کے اہداف کبھی بھی قابل اعتبار سطح تک نہیں پہنچے۔
 نیک نیتی اپنی جگہ مگر تبدیل کچھ بھی نہیں ہوا، اب کچھ  یہی صورتحال تحریک انصاف کو بھی درپیش ہے، سال ہونے کو ہے اب تک ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، بلکہ گزشتہ حکومتوں کی طرح پھر بالواسطہ اور بلاواسطہ عوام کو خون نچوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کم از کم موجودہ بجٹ میں تو یہی نظر آتا ہے۔ اب اسے حکمرانوں کی نااہلی کہیں یا طبقہ اشرافیہ کی سازش، نتیجہ یہ ہے کہ ریاست کا خرچہ اٹھانے والے بائیس کروڑ عوام کے گردنوں میں پھندہ مزید تنگ کرنا ہی آسان ترین حل ہے۔ حضور تمام تر جہالت کے باوجود اتنا  ضرور جانتا ہوں کہ بجٹ میں جتنے ٹیکسز آپ لگائیں گے اس سے صنعت کار اور کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ تمام ٹیکسز مہنگائی کی صورت میں عوام پر منتقل ہو جائیں گے اور ٹیکس نہ دینے والے تاجر اسی طرح موج مستی کرتے آپ کو مزید چار سال بھگت لیں گے۔
بار بار ریاست مدینہ کے حوالے دیکر عوام کے مذہبی جذبات کو ابھارنے سے مسائل حل نہیں ہونگے، مدینہ تو دور کی بات حضور ریاست کو ریاست بنانے کیلئے بہت کچھ کرنا بھی پڑتا ہے۔ لٹیروں کو ضرور پکڑیں، بیشک پھانسی دیں مگر خدا کیلئے عوام کو صاف پانی، تعلیم و صحت کی سہولیات دیں۔ مہنگائی اور غربت سے تو نجات دلا دیں۔ اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمنٹنے کیلئے ایسے باصلاحیت افراد کو انتخاب کریں جو بڑھکیں بیشک ماریں مگر کچھ کام بھی کر لیں۔ یوٹرن لیں مگر خدارا کچھ تو آگے بڑھیں، اداروں کے تقدس کی پاسداری بھی کریں مگر خدارا مہنگائی بوجھ تلے سسکتے عوام کی فریاد بھی کبھی کبھار سن لیں۔ عمران خان کو وزارت عظمیٰ تک لایا گیا یا انہوں نے حاصل کی، طویل بحث ہے مگر اب جس مربوط حکمت عملی کے تحت مخالفین کو قانونی شکنجوں میں جکڑا جا رہا ہے، اس پر بڑے سوالیہ نشان ہیں۔ ناتجربہ کاری اور فاش غلطیوں کا طویل سلسلہ، الیکٹبلز کی شرکت، اب حکومت میں غیر منتخب ارکان کی یلغار، سارے تجربات کے بعد بھی نتیجہ اب تک صفر ہے۔ خیر یہ بھی سچ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر آج تک کوئی حکومت نہ چل سکی، تابعداری بھی اچھی صفت ہے مگر سیاسی دشمنی کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ پورا نظام خطرے میں پڑ جائے یا نظام پر عوام کا اعتماد ہی ختم ہو جائے۔ عوام کی یادداشت کے ساتھ ساتھ برداشت بھی کمزور ہوتی ہے، ستر سال سے قربانیاں دینے والے بے چینی سے تبدیلی کے منتظر عوام کا صبر جانے کب جواب دے جائے۔سچ بتائوں تو تحریک انصاف حکومت کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں، شاید کچھ تبدیلی آ جائے، مگر دل و دماغ میں عجیب سی جنگ برپا رہتی ہے، دل بار بار اعتبار قائم رکھنے کا جذباتی مشورہ دیتا ہے مگر ذہن حقائق دیکھ کر مخالفت کرتا ہے۔ جانے آج کل کیوں فیض صاحب کی نظم صبح آزادی یاد آنے لگی ہے
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو کے لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل




 

تازہ ترین خبریں