07:25 am
بھارت حراستی قانون

بھارت حراستی قانون

07:25 am

پبلک سیفٹی ایکٹ ایک غیرانسانی قانون ہے جس کے تحت بچے، معذور افراد اور بوڑھے لوگ بھی حراست میں لیے جا سکتے ہیں۔
پبلک سیفٹی ایکٹ ایک غیرانسانی قانون ہے جس کے تحت بچے، معذور افراد اور بوڑھے لوگ بھی حراست میں لیے جا سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس قانون کو فوری کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کشمیر میں بغیر مقدمہ چلائے سزا دینے کے ایک خصوصی قانون کا اندھا دھند استعمال کر رہی ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ ایک لا قانونی قانون ہے جس کے تحت بچے، معذور افراد اور بوڑھے لوگ بھی حراست میں لیے جا سکتے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ اس قانون کو فوری کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ اکبر پٹیل نے کہاکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان تنازعات کا سبب بننے والا یہ قانون فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔بھارتی مظالم کے حوالے سے اس چشم کشا رپورٹ میں ساری باتوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
  بھارت ایک عرصے سے اس 41 برس پرانے قانون کا دفاع یہ کہہ کہ کر رہا ہے کہ یہ مسلم آبادی والے علاقوں میں امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔ 80 کی دہائی سے کشمیر میں بھارتی فوجوں اور عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چیف سیکرٹری بی وی آر سبرامنیم نے کمال ڈھٹائی سے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں کہا کہ ہمارے پاس باقاعدہ ایک عدالتی نظام ہے جہاں مکمل چیک اینڈ بیلنس موجود ہے۔اگرچہ بھارت ہمیشہ اپنے حریف ملک پاکستان پر الزامات لگاتا رہا ہے کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والوں کی پشت پناہی کرتا ہ جبکہ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے لیکن اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف وہ کشمیری عوام کے ساتھ ہے۔اس کالے قانون کے مطابق کسی قسم کی ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہونے کی سزا دو سال قید تک ہو سکتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ قانون بین الاقوامی طور پر طے شدہ انسانی حقوق کے قوانین کے خلاف ہے۔
   بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟بدھ کو سری نگر میں پولیس نے ایمنسٹی حکام کو یہ رپورٹ جاری کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ اس سے  امن کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے جون 2018 ء میں بھی مذکورہ قانون کے غیرانسانی ہونے پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کو بھارت مکمل طور پر غیر تصدیق شدہ حقائق کا پلندہ کہہ کر مسترد کر چکا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ نئی رپورٹ 2012 ء سے 2018 ء کے درمیان اٹھائے جانے والے 210 افراد کے مقدمات کا احاطہ کرتی ہے۔پی ایس اے نامی یہ قانون بچوں کو حراست میں لینے کی مخالفت کرتا ہے لیکن رپورٹ میں ایسے واقعات کا ذکر بھی ہے۔
ایمنسٹی کے مطابق،پولیس بھی اس قانون کا استعمال اسی لیے کرتی ہے تاکہ وہ محفوظ قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے ایسی کارروائیاں کر سکے۔ عام طور پر اس قانون کا استعمال گرفتار شدگان کی رہائی سے پہلے ان کی گرفتاری کو قانونی حیثیت دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ میں71 ایسے کیس ہیں جن میں رہائی سے پہلے ہی حکومت کی طرف سے دوبارہ گرفتاری کے احکامات جاری ہوتے رہے، وہ سب اسی قانون کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ ایمنسٹی کے مطابق بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ایک حریت پسند لیڈر مسرت عالم بھٹ بغیر کسی جرم یا الزام کیاسی قانون کے تحت  گذشتہ 20 برس سے حراست میں ہیں۔
 انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں میں سے ایک توبھارت کے زیرقبضہ جموں کشمیر میں سول سوسائٹی کا اتحاد نامی تنظیم ہے جبکہ دوسری وہ ایسوسی ایشن ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں کشمیر کے منقسم خطے کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں اچانک لاپتہ ہو جانے والے کشمیریوں کے والدین نے قائم کر رکھی ہے۔ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں نئی دہلی کے مسلح دستے کئی برسوں سے ایک باقاعدہ لیکن غیر اعلانیہ پالیسی کے تحت کشمیریوں پر اس لیے تشدد کر رہے ہیں کہ یوں وہاںاپنے مکمل قبضے کو یقینی بنا سکیںگزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارتی دستے کشمیر میں ہزارہا سویلین باشندوں کو تشدد کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان شہریوں پر اتنی بری طرح تشدد کیا گیا کہ ایسے 432 مصدقہ واقعات کی باقاعدہ چھان بین کے دوران کم از کم چالیس کشمیریوں کی شہادت کی تصدیق بھی ہو گئی۔

 

تازہ ترین خبریں