07:27 am
اردو زبان و ادب

اردو زبان و ادب

07:27 am

میر فاروق سرحدی نے اردو کی زبوں حالی اور کسمپرسی پر زبردست تبصرہ کیا کہ یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے
 میر فاروق سرحدی نے اردو کی زبوں حالی اور کسمپرسی پر زبردست تبصرہ کیا کہ یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا لیکن ابھی تک انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے مثلاََ ہیڈ ماسٹر، فیس، فیل، پاس وغیرہ۔ ’’گنتی‘‘ ابھی ’’کونٹنگ‘‘ میں تبدیل نہیں ہوئی تھی اور ’’پہاڑے‘‘ ابھی ’’ٹیبل‘‘ نہیں کہلائے تھے۔ 90 کی دہائی میں چھوٹے بچوں کو پڑھے لکھے گھروں میں ’’خُدا حافظ‘‘ کی جگہ ’’ٹاٹا‘‘ کہنا سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے ’’ٹاٹا‘‘ کہلوایا جاتا۔
 عیسائی مشنری سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔ سالانہ امتخانات کے موقع پر کچھ پرائیویٹ ا سکولوں میں’’پیپر‘‘جب کہ سرکاری سکول میں ’’پرچے‘‘ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں اُستاد کو ’’سر‘‘ کہا جانے لگا اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ’’ٹیچر ز‘‘ بن گئے۔ پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اُردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔ اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت ’’کلاس‘‘میں تبدیل ہو گئی اور جو ہم جماعت تھے وہ کب’’کلاس فیلوز‘‘ بن گئے۔ 80اور90کی دہائی  میں اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم جماعتیں ہوا کرتی تھیں اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔ پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا اور’’فرسٹ سے ٹینتھ‘‘ کلاس کی ’’نیم پلیٹس‘‘ لگ گئیں۔ تفریح کی جگہ ’’ریسیس‘‘ اور’’بریک‘‘کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔ گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ’’سمر وکیشن اور ونٹروکیشن‘‘ آگئیں۔ چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ’’ہو لی ڈے پریکٹس‘‘ ورک ہو گیا۔ امتحانات کی جگہ’’ایگز امز‘‘ ہونے لگے،ششماہی اور سالانہ امتحان کی جگہ ’’مڈ ٹرم اور فائنل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں۔ اب طلباامتحان دینے کیلئے امتحانی مرکز نہیںجاتے بلکہ’’سٹوڈنٹس‘‘ ایگزام کیلئے ’’ایگزامنیشن سینٹر‘‘ جاتے ہیں۔
قلم، دوات، سیاہی، تختی اور سلیٹ جیسی اشیا ء گویا عجائب خانے میں رکھ دی گئیں۔ ان کی جگہ’’لیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے‘‘ کاپیوں پر ’’نوٹ بکس‘‘کا لیبل لگ  گیا۔ نصاب کو’’کورس‘‘ کہا جانے لگا اور اس‘‘کورس‘‘کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے ’’بیگ‘‘ میں رکھ دی گئیں۔ ریاضی کو’’ میتھس‘‘ کہا جانے لگا۔ اسلامیات ’’اسلامک سٹیڈیز‘‘ بن گئی۔ انگریزی کی کتاب ’’انگلش بُک‘‘ بن گئی۔
اسی طرح طبیعات’’فزکس‘‘ میں اور معاشیات ’’اکنامکس‘‘میں اورسماجی علوم ’’سوشل سائنس‘‘میں تبدیل ہو گئے۔ پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب ’’اسٹوڈنٹس اسٹیڈیز‘‘ کرنے لگے۔ پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ’’ٹیبل‘‘ یاد کرنے لگیں۔ اساتذہ کیلئے میز اور کرسیاں لگانے والے ’’ٹیچرز کیلئے ٹیبل اور چیئرز‘‘ لگانے لگے۔ داخلوں کے بجائے’’ایڈمشنز‘‘ ہونے لگے۔اول، دوم اور سوم آنے والے طلبہ ’’فرسٹ سیکنڈ اور تھرڈ‘‘ آنے والے’’سٹوڈنٹ‘‘ بن گئے۔ بچوں کی جسمانی نشوو نماپر قدغن لگا کر انہیں  ’’جینز ا ور کریچز‘ ‘ میںداخل کر کے ماں باپ کی شفقت سے محروم کردیا گیا۔ پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے، پھر ’’پرا ئنر‘‘ملنے لگے، بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ’’چئیرز‘‘ کرنے لگے۔ یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا۔ باقی رہے پرائیویٹ سکول تو ان کا پوچھئے ہی مت ان کا روباری مراکز تعلیم کے لئے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر نظر نواز ہوا
مکتب نہیں، دکان ہے بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روز گار ہے
   تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اُردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا۔ زنانہ خانہ اور مردانہ خانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موحودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے’’بیڈ روم‘‘ کا نام دے دیا۔ باورچی خانہ ’’کچن‘‘بن گیااور اس میں پڑے برتن ’’کرا کری‘‘ کہلانے لگے۔ غسل خانہ پہلے ’’باتھ روم‘‘ اور پھر ’’واش روم‘‘ بن گیا۔ مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ’’ڈارئینگ‘‘ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ ’’ابو جی‘‘ یا ’’ابا جان‘‘ جیسا پیارا اور ادب سے بھر پور لفظ دقیانوسی لگنے لگا اور ہر طرف’’ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے‘‘ کی گردان لگ گئی، حالانکہ پہلے تو پاپے (رس) صرف کھانے کیلئے ہواکرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں۔اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ ’’امی‘‘ یا ’’امی جان‘‘  ’’ممی‘‘ اور ’’مام‘‘ میں تبدیل ہو گیا۔ سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں، ممانی، پھو پھا، پھوپھی، خالو، خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ ’’انکل اور آنٹی‘‘  میں تبدیل ہو گئے۔ بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب ’’انکل‘‘ بن گئے ۔ ساری عورتیں آنٹیاں، چچازاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب ’’کزنز‘‘میں تبدیل ہو گئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔ گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔  دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور اُن پر گاہکوں کی بجائے’’کسٹمرز‘‘ آنے لگے۔ آخر کیوں نہ ہوتا کہ دوکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑی دی اور’’شاپنگ‘‘کرنے لگے۔ مسخرے ’’آرٹسٹ‘‘ بن گئے اور محبت کو  ’’لوّ‘‘ کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔ صحافی’’رپورٹر‘‘ بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم ’’نیوز‘‘ سننے لگے۔ اُردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں،عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدر حصہ لیا ہے اور ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اُردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگارڑلیا ہے۔ اور ہمار حال احوال بقول شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ  
وائے ناکامی!  متاع کارواں جاتا رہا    
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم خود  اس خسارے اور بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔ بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی کے قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے، مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں۔قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بنداصول ہے۔جاپان اور چین اس کی زندہ مثالیں ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں