07:28 am
عزتِ نفس اورچھترول

عزتِ نفس اورچھترول

07:28 am

دفترکی ایک مخصوص’’گھنٹی‘‘ پرایک کلرک فائلوں کاایک انبارلئے ہوئے میزکی بائیں جانب ادب سے کھڑاہوجاتاہے۔سامنے خالی ٹرے
دفترکی ایک مخصوص’’گھنٹی‘‘ پرایک کلرک فائلوں کاایک انبارلئے ہوئے میزکی بائیں جانب ادب سے کھڑاہوجاتاہے۔سامنے خالی ٹرے میں تمام فائلوں کوایک ترتیب سے رکھ کر صاحب کے اشارہ ابروپرایک فائل کے کچھ صفحات دکھانے کی جرات کرتاہے،کسی ایک صفحے پرصاحب کی آنکھ میں ذراسی غصے کی چمک آتی ہے تواس بیچارے کے ہاتھ تھر تھرانے لگتے ہیں،محنت سے ترتیب دی ہوئی فائل ہاتھوں سے پھسل کرگراچاہتی ہے۔بڑی مشکل سے ضبط کرکے وہ فائل سنبھالتاہے اورپھرصاحب کے سامنے اپناکیاہواکام رکھنے لگتا ہے ۔سامنے چند ایک معززین یادوست بھی موجودجوکافی یاچائے سے لظف اندوزہورہے ہیں، اچانک کاغذات کی ترتیب، فائل کی تھوڑی سی بے ترتیبی یاپھرکسی کاغذکے چند سیکنڈ ڈھونڈنے پرموجودنہ ہونے کی وجہ سے صاحب کوغصہ آتاہے،عینک اتار کر میز پر پٹخ  دی جاتی ہے،ہاتھوں میں پکڑی فائل ہوامیں لہراتی ہے اورکبھی کبھی سخت غصے میں ساتھ کھڑے شخص کے منہ پرماردی جاتی ہے اورکبھی سامنے رکھی لمبی میزسے پھسلتی ہوئی قالین پرورق ورق ہوجاتی ہے۔
خوف سے کانپتا،گالیاں سنتا،اپنے مستقبل سے مایوس وہ اہلکارکاغذسمیٹتا،معافیاں مانگتا اور آئندہ بہتر کام کرنے کاوعدہ کرتاہوانظرآتاہے لیکن غصہ کم نہیں ہوتااور پھران سب لوگوں کے درمیان ذلت اوررسوائی کاداغ لیکرکمرے سے باہرنکل جاتاہے۔ ایسے میں کبھی کوئی اس شخص کے دل کے اندرجھانک کردیکھے تواس میں ایک ہی خواہش ہوگی کہ اس کی آنکھوں کے کونوں میں جوآنسوچھلک رہے ہیں دریا بن کرامڈپڑیں اوروہ پھوٹ پھوٹ کرروئے،کسی گوشہ تنہائی میں کسی ایسے شخص کے سامنے جواس کادرد جانتا ہو،اسے شرمندہ نہ کرے اوروہ اس کے روبرو اپنا درد بیان کرسکے، اپنا دکھڑاروسکے،اپنی ذلت کا مداوا کر سکے ۔
یہ مناظرآپ کوہرصاحبِ اختیارکے دفتر میں ملیں گے۔یہ لوگ اپنے سے جونیئر افراد پر برستے ہیں،غصے میں گرجتے ہیں،انہیں کھڑے کھڑے یہ سب سنناپڑتاہے اورکبھی بھری میٹنگ میں سب کے روبرو،ایسے لمحوں میں کوئی نہیں سوچتاکہ اس کی آنکھوں میں جوضبط کے آنسو ہیں،اس کے ماتھے پرجوشرمندگی کا پسینہ ہے،یہ سب اسے کس ذلت سے دوچار کررہاہے۔اپنے ہی ساتھیوں کے سامنے اپنے ہی زیرِسایہ کام کرنے  والوں کے روبرو،یہ منظرصرف دفترتک محدود  نہیں ہیں۔
اگرکبھی کسی افسراعلیٰ کودفتر سے باہر نکل کرچند سیکنڈ کیلئے گاڑی کا انتظار کرنا پڑ جائے تورات دن شٹل کی طرح کام کرنے والے ڈرائیورکی شامت آجاتی ہے۔ہم کتنے نازک مزاج ہیں کہ دفترسے نکلنے سے پہلے گھنٹی بجا کر اعلان  کیا جاتاہے،گاڑی لگوا دو۔گاڑی سٹارت ہوتی ہے اورپھرہماری سواری دفترسے باہرنکلتی ہے۔ میز پر چائے کاکپ غلط رکھنے والے کو،چائے اگر تھوڑی  سے پرچ میں گرجائے اس پر، باتھ روم میں تولیہ ڈھنگ سے نہ رکھا ہواہواس پاداش میں لوگوں کوسرعام ذلیل ورسواکردیتے ہیں اور پھر بڑے  فخرسے گردن پھلاکریہ اعلان کرتے ہیں اگران سے محبت سے پیش آتویہ سرچڑھ جاتے ہیں۔
یہ ذلت ورسوائی ہماری سڑکوں اورچوراہوں پربھی اس قوم کے عام آدمی کا مقدر ہے۔آپ کی گاڑی کے سامنے سے کوئی شہرکی اقدارسے ناآشنا بڑھیا یابے ضرر بچہ گزر جائے  تو گاڑی روک کراسے گالیاں دی جاتی ہیں اوراگربس چلے توذلت کی انتہاکیلئے دوچار تھپڑ بھی رسید کردیئے جاتے ہیں۔موٹرسائیکل پر سوار شخص خواہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہویا بیوی کے ساتھ،ہم اس کی غلطی پراسے معاف نہیں کرتے،اسے بے عزت کرکے چھوڑتے ہیں۔
آپ نے ٹانگے والے یاساتھ بیٹھے ہوئے بیٹے کے سامنے ذلیل ہوتے رسواہوتے لوگوں کو دیکھاہوگالیکن میڈیا کی آزادی کی وجہ سے ہم نے شائد پہلی مرتبہ ٹی وی کی اسکرین پرپولیس کے ہاتھوں اس ملک کے عوام پرچھترول کے مناظردیکھے ہیں اورہرآنکھ انسان کی ایسی تذلیل پرشرمسارہے لیکن یہ توجسمانی چھترول تھی لیکن پچھلی دودہائیوں سے تمام صلیبی طاقتیں امریکا کی قیادت میں مسلمانوں کی غیرت وحمیت پر اور ہندو بنیاپچھلی سات دہائیوں سے مظلوم کشمیریوں پر جو چھترول کررہے ہیں اوراس میں ہمارے حکمران اس دستے کاکرداراداکررہے ہیں جوچھترکی دم میں پھنساہواہوتاہے اوردوسری جانب حکومت کی طرف سے بدامنی،مہنگائی اوربیروزگاری کی چھترول میں دن بدن شدت آتی جارہی ہے اورعوام اس بجٹ کے بعدملک کو ریاست مدینہ بنانے کادعوی کرنے والوں کے سامنے اب دونوں ہاتھ جوڑکرپناہ مانگ رہے ہیں اور  لیکن یہ شدت سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی تمہیں مزیدچارسال یہ چھترول برداشت کرنا ہو گی ۔
یہ ذلتو ں کے مارے اسی دنیامیں سانس لیتے ہیں اوران کی عزتِ نفس مجروح کرنے والے بھی اسی دنیا میں لیکن ایک بات طے ہے کہ جب عام آدمی ذلیل ورسواہوتاہے توچند لوگوں کے دل ضرورخون کے آنسوروتے ہیں،ان کی آنکھیں نم ہوتی ہیں لیکن تاریخ شاہدہے کہ جب بھی کسی مغرور،متکبراورلوگوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے والی آفت و مصیبت آئی،ایوانِ اقتدارسے رخصتی ہوئی، نوکری گئی،گرفتاری ہوئی توپھر کوئی آنکھ رونے والی نہیں تھی،کوئی دل دھڑکنے والانہیں تھا،سب یوں آنکھیں پھیرگئے جیسے یہ تواس کا مقدر تھا، ایساتواس کے ساتھ بہت پہلے ہوجاناچاہئے تھا۔
کیاہے قتل اناکوخود اپنے ہاتھوں سے
یہ بات میرے لئے خودکشی سے مشکل تھی

 

تازہ ترین خبریں