07:29 am
چوبیس ہزار ارب روپے کہاں گئے؟

چوبیس ہزار ارب روپے کہاں گئے؟

07:29 am

پاکستان میںکرپشن ایک کلچر بن گیا ہے۔  سیاست دانوں کی اکثریت سیاست میں حصہ اس لیے لیتی ہے کہ مال بنایا جائے
پاکستان میںکرپشن ایک کلچر بن گیا ہے۔  سیاست دانوں کی اکثریت سیاست میں حصہ اس لیے لیتی ہے کہ مال بنایا جائے اور عوام کے پیسوں پر عیش و عشرت کی زندگی بسر کی جائے۔ کرپشن کا ارتکاب کرنے والوں میں آصف زرداری، میاں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف مبینہ طور پر شامل ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے نواز شریف کچھ بھی نہیں تھے لیکن مرحوم جنرل جیلانی کی کر م نوازیوں کی وجہ سے وہ نہ صرف سیاست میں آگے بڑھتے گئے بلکہ اس ہی ’’پرواز کے دوران‘‘ انہوں نے قومی وسائل کی لوٹ مار بھی شروع کر دی ۔ اس وقت وہ اربوں روپے کی ناجائز دولت کے وارث ہیں ۔ کچھ دولت جائیداد کی صورت میں پاکستان میں موجود ہے جبکہ باقی دولت 300 ارب روپے سے زائد بیرونی ممالک میں رکھی ہوئی ہے۔ان کے دو بیٹے برطانیہ میں ایک طویل عرصے سے مقیم ہیں جہاں مریم نواز کا بیٹا بھی رہائش پذیر ہے۔ نواز شریف کے دونوں بیٹے پاکستان شہریت نہیں رکھتے بلکہ بڑی حقارت سے پاکستانی شہریت کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ دونوں بھارت کے سرمایہ داروں کے تعاون اور مدد سے تجارت کر رہے ہیں تجارت کی نوعیت کیا ہے وہ کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ نواز شریف جب نریندر مودی کی رسم حلف وفاداری کی تقریب میں بہ حیثیت وزیر اعظم پاکستان  بھار ت گئے تھے تو انہوں نے اپنے ان دونوں بیٹوں کو بھارت کے چوٹی کے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ساتھ تعارف کراتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ان کا خیال رکھا جائے اور انہیں بھارت کے ساتھ تجارت میں مدد کی جائے چنانچہ نواز شریف کی یہ درخواست قبول کی گئی۔
 اب یہ دونوں بھارت کے ساتھ تجار ت سے جڑ چکے ہیں ۔ شنید ہے کہ نواز شریف کی نریندر مودی کے ساتھ تعلقات اس ہی دوران شروع ہوئے تھے ۔بعد میں اس دونوں کا یہ اشتراک پاکستان کے داخلی صورتحال کے لیے تشویش ناک حد تک وبال جان بن چکا ہے۔
دوسری طرف آصف علی زرداری ہیں جو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ایک طاقت ور سیاسی رہنما کی حیثیت سے ابھرے ہیں ۔ ان کی شناخت ایک سیاست دان سے زیادہ ایک کرپٹ شخص کی  ہے ۔ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں بھی وہ مسٹر ٹین پرسنٹ کے لقب سے جانے پہچانے جاتے تھے ۔ صدر بننے کے بعد (وہ کس طرح صدر بنے دنیا کو اس بات پر حیرت ہے) ان کا بس ایک ہی مشغلہ تھا کہ کسی طرح دونوں ہاتھوں سے ملکی وسائل کو ذاتی دولت میںشامل جائے جس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے، لیکن شاید وہ یہ بھول گئے تھے کہ پاکستان میں قانو ن اور عدالتیں موجود ہیں جو کرپٹ عناصر کو پکڑنے میں دیر نہیں کرتی ہیں ۔ اب زرداری  جیل میں ہیں جب کہ ان کے کرپٹ دوست انہیں بچانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں اخلاقی زوال کا یہ عالم ہے کہ ان دونوں کرپٹ حضرات کی حمایت میں ان کی پارٹی کے کارکن مظاہرے کر رہے ہیں ، حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں بلکہ ایک منتخب حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر کام کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔’’میثاق جمہوریت‘‘ کے یہ دونو ں حلف یافتہ اپنے وکلا کی مدد سے اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  حالانکہ جو ثبوت نیب کے پاس ہیں وہ حقائق پر مبنی ہیں جبکہ نیب کے سربراہ کو بھی ان دونوں حضرات کی پارٹیوں نے اس عظیم کام کے لیے چنا تھا ۔
 ان دونوں حضرات کے خلاف 24 ہزار ارب روپے کے  سلسلے  میںعمران خان نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن قائم کیا ہے جو ان حقائق کو جاننے کی کوشش کریں گے کہ ان دونوں نے اپنے دور حکومت میں 24 ٹریلین روپے کا قرضہ کیوں لیا تھا اور کہاں خرچ کیا گیا۔ اس کمیشن کے قیام کی ضرورت اس لیے بھی پڑی ہے کہ پاکستان اچانک تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی معاشی طور پر کنگال ہو گیا  ہے؟ پاکستان کے باشعور عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ نو ماہ کے اندر پاکستان مالی طور پر اس تشویش ناک صورتحال سے کیوں کر دوچار ہو ا ؟ با خبر  افراد کا خیال ہے کہ یہ صورت حال اورصرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے گزشتہ دس سال کے اندر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ، کیوں لیا ، کس نے کس مد میں لیا اور کہاں خرچ کیا گیا؟ کمیشن کے قیام کے بعد اس کے تحت ہونے والی تحقیقات سے یہ پتہ چل جائے گا کہ اتنی بڑی رقم کس طرح خرچ کی گئی۔ اگر کمیشن نے  غیر جانبدار ہو کر تحقیقات کیں تو اس کثیر رقم کے بارے میں حقائق معلوم ہو جائیں گے خورد برد کرنے والے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ اب یہ معاملہ ملک کی سا  لمیت کا بن چکا ہے ۔ پاکستان میں بعض سیاست دانوں کی وجہ سے جہاں ملک بدنام ہو ا ہے وہیں اس کے منفی اثرات خارجہ اور داخلی صورتحال پر بھی پڑے ہیں ۔ پاکستان کی سیکورٹی پر بھی کرپشن کے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ تاہم یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ان دونوں پارٹیوں میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو دبے دبے الفاظ میں ان کی پالیسیوں پر تنقید کر تے رہے ہیں لیکن کیونکہ نواز شریف اور زرداری صاحب  کے سامنے ان کے رفقاء کی بولنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی اس لیے انہوں نے کھل کر لوٹ مار کی ہے ، اپنی دولت میں اضافہ کیا ہے اورجان بوجھ کر ملک کو مالی طور کمزور کیا ہے ۔ اگر کمیشن24 ٹریلین روپے سے متعلق تحقیقات کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ان دونوں حضرات کی جائیدادیں بھی ضبط کی جاسکتی ہیں تاہم پاکستان میں سیاست دانوں کے خلاف کمیشن بنتے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے اور نہ ہی عوام کو یہ معلوم ہو سکا ہے کہ کمیشن اپنی تحقیقات کی ضمن میں کس حد تک کامیا ب ہوئے تھے؟ غالباً موجودہ حکومت سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ مجوزہ کمیشن کے ذریعہ 24 ٹریلین روپے کے بارے میں حقائق معلوم کرکے عوام کو اعتماد میں لے گی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ پاکستان کو مالی عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے سلسلے میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ ذرا سوچیے!

 

تازہ ترین خبریں