07:34 am
ہر بڑے جرم کے پیچھے ایک بڑا سیاستدان

ہر بڑے جرم کے پیچھے ایک بڑا سیاستدان

07:34 am

دردو الم سے تر صُبحیں، ماتم کناں شامیں، تڑپتی ہوئی دوپہریں، سسکتی ہوئی راتیں میرے پیارے پاکستان کا مقدر بنتی چلی جا رہی ہیں
دردو الم سے تر صُبحیں، ماتم کناں شامیں، تڑپتی ہوئی دوپہریں، سسکتی ہوئی راتیں میرے پیارے پاکستان کا مقدر بنتی چلی جا رہی ہیں۔ روتے ہوئے بچے، آہیں بھرتی مائیں، سینہ پیٹتے باپ، زخم خوردہ بھائی، نوحے پڑھتی بہنیں دیکھی نہیں جاتیں۔ کہیں مقتول کی آنکھیں، کہیں مظلوم کا چہرہ، کہیں بے بسی کے لرزتے ہوئے ہاتھ، کہیں لاچارگی کی چیخیں، کہیں سفاکیت کے نعرے۔ کہیں جنازوں پر شادیانے، کہیں قبروں پر رقص کرتے نغمے میرا گریبان پکڑ لیتے ہیں۔ اِس وطن کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بڑے بڑے مقتل آباد ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی سسکیاں دلدوز چیخوں میں بدل رہی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے مصرعے، بڑے بڑے مرثیوں کا روپ دھار رہے ہیں۔ دِن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ننھے منے بچے، بچپن کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ معصوم کلیاں مسلی جا رہی ہیں۔ باغوں میں کانٹے اُگائے جا رہے ہیں۔ بُلبلوں کا قتل ہو رہا ہے۔ چیلیں گانے گا رہی ہیں۔ ہرنیوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔ بھیڑیئے مسکرا رہے ہیں۔ گیدڑ ہنس رہے ہیں۔ کتے بھونک رہے ہیں۔ درندے دانت تیز کر رہے ہیں۔ خوشیاں سر بہ کفن ہیں۔ غم اٹھکیلیاں کر رہے ہیں۔ آنسو پونچھے جا رہے ہیں۔ خون بہایا جا رہا ہے۔ ’’گندہ ہے پر دھندہ ہے‘‘ اور یہ دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ دوپٹے چھینے جا رہے ہیں۔ چوڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ لباس اتارے جا رہے ہیں۔ زرق برق پوشاکیں پہنی جا رہی ہیں۔
یہ حکومت ہے کہ مظلوم بنی بیٹھی ہے۔ یہ ریاست ہے کہ اندھی ہے یا گونگی ہے؟ بہری ہے یا بے بہری ہے؟ کہ یہاں پر نہ کوئی آنچل سلامت ہے اور نہ ہی کوئی دستار محفوظ ہے۔ مگر پھر بھی گڈ گورننس کے نعرے بلند کئے جا رہے ہیں۔ اقتدار کے قمار خانوں میں سیاسی دِل گیروں کے دام لگائے جا رہے ہیں۔ یہاں مصر کا بازار لگا ہوا ہے۔ ایک سوق الرقیق ہے۔ جہاں خریداروں، تاجروں اور سوداگروں کا ہجوم ہے۔ عامۃ الناس کی قسمت کے سودے ہو رہے ہیں۔ عزتوں کی نیلامی ہے۔ عصمتوں کی بولی لگ رہی ہے۔ عورتوں کے بھائو تائو ہو رہے ہیں۔ بچوں کے بچپن برائے فروخت ہیں۔ مالی کرپشن، ذہنی بدعنوانی، دانشوری کا لنڈا بازار، بصیرت کی سستی سیل لگی ہوئی ہے۔ قانون مجرموں کی دسترس میں ہے اور مجرم دندناتے پھر رہے ہیں۔ پولیس مجرموں کی نگران ہے اور سیاستدان پاسبان بنے بیٹھے ہیں۔ ہر بڑے جرم کے پیچھے ایک بڑا سیاستدان چھتری کا سائبان لئے بیٹھا ہے۔ ایک مضبوط سہارا ہے جو بے سہاروں کا حق چھین رہا ہے۔ ایک طاقتور ہاتھ ہے جو کمزوروں کی گردن مروڑ رہا ہے۔
 لوگ کہتے ہیں یہ جمہوریت ہے۔ عوام کی حکومت، عوام کے انتخاب سے۔ عوام کے لئے جاری و ساری ہے۔ یہ جمہوریت کیا بلا ہے؟ جو جمہور کا مقدر نگل رہی ہے۔ اِس جمہوریت کو پروان کون چڑھاتا ہے؟ اور پھر وہ کون ہے جو اِس قاتل، ظالم، جابر اور سفاک جمہوریت کا مونس و غمخوار ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اِس جمہوریت کو پروان چڑھانے کے اصل مجرم عوام ہی ہیں۔ جو اپنی تقدیر کی تحریر اپنے ہاتھوں سے خود لکھ رہے ہیں۔ اور پھر اِسی تقدیر کی بھینٹ بھی وہ خود چڑھ رہے ہیں؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جس کی آڑ میں آمریت کی ناگن اپنا پھن پھیلائے جمہور کو ڈس رہی ہے۔ جس کے زہر سے حقوق مر رہے ہیں۔ فرائض خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ کون سی دانشوری ہے جو پیسے لے کر جمہوریت کے حق میں رائے عامہ ہموار کر رہی ہے؟ یہ کیسی بصیرت ہے جو ظلم کو شفقت اور محبت قرار دے رہی ہے؟ یہ کون سی صحافت ہے؟ جو بے خبری کو خبر کے نام سے موسوم کر رہی ہے؟ یہ کون سے دین کی تبلیغ ہو رہی ہے جو ہمیں بے دین کئے جا رہی ہے۔
 یہ ایک خوبصورت خواب کی بدصورت تعبیر ہے۔ یہ خواب بھی ہم ہی دیکھتے ہیں اور اِس کی تعبیر کے تازیانے بھی ہمیں ہی برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ ہم اِنسانوں سے جانوروں ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ کیا ہم اِس سلوک کے مستحق ہیں؟ کیا اِس جمہوریت کا انتخاب ہم نے خود کیا تھا؟ کیا اِس تقدیر کے لئے ہم نے خود تدبیر کی تھی؟ کیا یہ ہماری پہلی چاہت تھی یا ہماری آخری محبت ہے کہ ہم اِس جمہوریت کے لئے بے چین ہوئے چاہتے تھے؟ اکہتر برس گزر جانے کے باوجود ہم ایک ریاست نہیں بن سکے۔ ہم لیڈر شپ پیدا نہیں کر سکے۔ ہم آمریت سے نفرت کرتے کرتے جمہوریت سے اِس قدر محبت کرنے لگے کہ ہم نے اپنی رگِ حیات پر خود ہی خنجر رکھ دیا ہے۔ بات خنجر رکھنے تک محدود ہوتی تو شائد یہ بات برداشت کی جا سکتی تھی، مگر یہ خنجر تو گزشتہ اکہتر برسوں سے مسلسل ہماری رگِ جاں میں اُترتا چلا جا رہا ہے اور مرغ بسمل کی طرح ہم سب تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔ جان تو خدا کی امانت ہے۔ جان تو ہمیں خدا کو دینی چاہئے مگر ہم جمہوریت کو جان دے رہے ہیں۔ ہم ظلم کو اپنا خون دے کر سینچ رہے ہیں۔ ہم بربریت کو چُوریاں کھلا رہے ہیں۔ ہم سفاکیت کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنا رہے ہیں۔ ہم جبر کے راستے میں سرخ قالین بچھا رہے ہیں۔ ایک ایسا قالین جس کو ہمارے خون سے رنگا گیا ہے۔ اِس خون میں ہمارے بیٹوں کا خون بھی شامل ہے اور ہماری بیٹیوں کا خون بھی شامل ہے۔ اس سُرخ رنگ میں ہمارے بھائیوں کا خون بھی شامل ہے اور ہماری بہنوں کا بھی، ہمارے باپوں کا خون بھی شامل ہے اور ہماری مائوں کا خون بھی۔ ہمارے پیاروں کا خون بھی شامل ہے اور ہمارے دُلاروں کا خون بھی شامل ہے اور اِس خون کی سُرخی رُخِ حیات کا غازہ بنی ہوئی ہے۔ آسمان قہر بنا ہوا ہے۔ دھرتی جنازہ بنی ہوئی ہے۔ جمہوریت رواں دواں ہے جمہور کی قبریں بن رہی ہیں۔ قبروں کے نرخ طے کئے جا رہے ہیں۔ آبادیاں سستی ہیں۔ قبرستان مہنگے ہیں۔ یہاں جینا بھی مشکل ہے اور مرنا بھی دو بھر ہے۔ یہاں سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر سانس لینے کے لئے اِنسان کو کچھ اور بھی درکار ہوتا ہے۔ یہ جو کچھ اور ہے یہاں اِس پر بھی پابندی ہے۔ زندگی کے سارے راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں۔ جینے کی ساری راہیں بند ہیں۔ مرنے کے سبھی دروازے کھلے ہیں۔ ہر درووازے پر مہنگا کفن لٹکا دیا گیا ہے۔ کفن کے پیچھے ایک مہنگی قبر ہے۔ جس کی ایک قیمت ریاست وصول کرتی تو دوسری قیمت دنیا طلب کرتی ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہیں زندگی مہنگی لگتی ہے۔ کہیں موت گراں دِکھائی دیتی ہے، کہیں بچے فروخت ہو رہے ہیں کہیں مائیں بک رہی ہیں۔ کہیں باپ دھول چاٹ رہا ہے۔ کہیں اولاد کوڑے کے ڈھیروں سے رزق تلاش کر رہی ہے۔ یہ ایک اسلامی ریاست کا منظر نامہ ہے۔ یہ ایک جمہوریت کی قبیح شکل ہے۔ یہ جمہوریت کا قحبہ خانہ ہے جسے بدبخت سیاستدان سیاست کا کعبہ قرار دے کر ہمارے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ ہمارے ایمانوں کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ میرے جوانوں کے لاشے اُٹھا رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ اِس اخلاق باختہ، عیاش، بدعنوان، کرپٹ، بددیانت، بداخلاق اور بے وفا جمہوریت کے پائوں چاٹنے پر مجبور ہیں۔ وہ جنہیں تختہ دار پر لٹکانا چاہئے ہم اُنہیں تخت پیش کر رہے ہیں۔ وہ جو ہمیں اپنے پائوں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں ہم اُن کے سروں پر اقتدار کا تاج سجاتے ہیں۔ وہ جو ہمارے نوالوں پر شب خون مار رہے ہیں ہم اُن کی دعوتیں اور ضیافتیں کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے۔ ظالم وہ نہیں ہیں ظالم ہم ہیں۔ سفاک وہ نہیں ہیں سفاک ہم ہیں۔ جابر وہ نہیں جابر تو ہم خود ہیں۔ قاتل وہ نہیں ہیں قاتل تو ہم خود ہیں۔ مجرم وہ نہیں ہیں۔ مجرم تو ہم خود ہیں۔ کیوں کہ، کیوں کہ۔ امرواقعہ یہ ہے کہ
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا





 

تازہ ترین خبریں