08:11 am
وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

08:11 am

ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ بجٹ تقریر کرتے وقت وزیر خزانہ اعداد وشمار کو یوں پیش کرتا ہے جیسے عوام کی ہر سہولت کو مدِنظر رکھ کر ہر مد میں رقم مختص کی گئی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ ہر حکومت محدود آمدن کے تناظر میں جو بجٹ بناتی ہے اس میں عوام کو تمام سہولتیں ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم ہے۔ حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے اور یہ خسارہ غیر ملکی قرضے لیکر پورا کیا جاتا ہے۔ اگلے بجٹ کا زیادہ تر حصہ ان لئے گئے قرضوںکا سود اتارنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس مالی سال کے بجٹ میں بھی 2891ارب روپے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے رکھے گئے ہیں۔ دوسرا بڑا خرچہ دفاع پر اٹھتا ہے۔ رواں سال پاک فوج نے اپنے بجٹ میں کمی لانے کا اعلان کیا ہے جو سرحدوں پر جاری کشیدگی اوراندرون ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ کے تناطر میں بہت بڑی بات ہے لیکن اس کے باوجود دفاعی بجٹ 1152ارب روپے کا ہے یعنی قرضوں کی اقساط اور دفاع پر مجموعی طور پر 4043ارب روپے خرچ ہوں گے۔ واضح رہے کہ کل ملکی بجٹ 7036ارب روپے کا ہے چنانچہ بجٹ کا 57فیصد گزشتہ ادوار میں لئے گئے قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں لگ رہا ہے۔ پنشن ایک بہت بڑی حکومتی ذمہ داری بنتی جا رہی ہے۔ 421ارب روپے اس سال پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں جبکہ431ارب روپے سول حکومت کو چلانے کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔ ان اخراجات کی وجہ سے وفاقی ترقیاتی بجٹ سکڑ کر700ارب روپے رہ گیا ہے۔ دریں حالات وفاقی حکومت نے اپنے تئیں ایک بہترین بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے خاص توجہ دی گئی ہے۔ 
 
صوبائی حکومت کے تعاون سے 280ارب روپے کی خطیر رقم زراعت کے شعبے کیلئے مختص کی گئی ہے جو پانچ سالہ پروگرام کے تحت خرچ کی جائے گی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو تقویت دینے اور ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے 1650آئٹمز کے خام مال کی درآمد پر زیرو فیصد ڈیوٹی کر دی گئی ہے۔ بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے سب سے اہم پیش رفت ریونیو کا زبردست ٹارگٹ ہے۔ رواں سال موصول ہونے والے ریونیو سے 1500ارب روپے زیادہ کا ریونیو ٹارگٹ رکھا گیا ہے جو اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ اب اس نہایت اہم کام کی جانب مبذول رہے گی۔ وزیراعظم کو بخوبی احساس ہے کہ قوم اور دیگر مقتدر حلقے ان سے توقع رکھتے تھے کہ وہ ماضی کی حکومتوں کی نسبت زیادہ ٹیکس اکٹھا کریں گے لیکن یہ توقع پوری نہیںہوئی۔ شاید اس کی وجہ وزیراعظم کا اسد عمر کی صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا چنانچہ معیشت سے زیادہ ان کی توجہ گورننس سمیت دیگر خرابیوں کو دور کرنے پر رہی۔ اب جیسا کہ انہوں نے قوم کے نام اپنے خطاب میں فرمایا ہے کہ وہ اب دیگر مسائل سے کافی حد تک فارغ ہو چکے ہیں لہٰذا ان کی اولین ترجیح اب ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہوگی۔
 اس میںکوئی شک نہیں کہ پاکستان مسائل زدہ ملک ہے لیکن سردست معاشی مسئلہ ہمارا مسئلہ نمبر ایک ہے۔ پاکستان جب تک اپنے ریونیو کو 10ہزار ارب روپے تک نہیں لے جاتا ہم کشکول لئے اغیار کے در پر دھکے کھاتے پھریں گے۔  سوال یہ ہے کہ 10ہزار ارب روپے ریونیو وصولی کا ہدف عبور کیسے ہوگا؟ عمران خان اپوزیشن میں تھے تو دعوی کرتے تھے کہ وہ پاکستان سے ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائیں گے، آج بحیثیت وزیراعظم یہ ان کا امتحان ہے۔ پہلے مالی سال وہ بہت سارے کاموں میں الجھے رہے ہیں جس کا عوام کو احساس ہے لیکن معیشت اتنی دگرگوں حالت میں ہے کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ عوام پر روایتی انداز میں ٹیکسوں کا بوجھ لادنا اور ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں کی رگوں سے خون چوسنے والا میکنزم ترک کر کے تمام تر توجہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے پر اگر نہیں دی جائے گی تو مزید تباہی ہمارا مقدر بنے گی۔
 موجودہ بجٹ میں احساس پروگرام کیلئے جو رقم رکھی گئی ہے وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کو معاشی سرگرمی میں شامل کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کی توجہ اول دن سے غریب طبقات کی معاشی حالت بہتر بنانے پر رہی ہے۔ ریاستِ مدینہ کی بابت ان کا تصور یہ ہے کہ معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے طبقات کو برتر اور باعزت حیثیت دلوانے میں ریاست کا اہم کردار تھا۔ 2019-20 ء کے بجٹ میں خاص طور پر معذوروں اور غریب افراد کا خیال رکھا گیا ہے۔ سپیشل افراد کے الانس میں ایک ہزار روپے اضافہ اور بی آئی پی ایس کے تحت امداد میں فی کس 500روپے کا اضافہ کرنے کیساتھ ساتھ 80ہزار افراد کو ہر ماہ بلاسود قرضے دینے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ وہ معاشی سرگرمی میں حصہ لے سکیں۔ کم سے کم اجرت میں بھی اضافہ کرکے اسے ماہانہ 17500روپے کر دیا گیا ہے جو نہایت خوش آئند ہے۔ سماجی تحفظ پروگرام کے تحت ہیلتھ کارڈز کا اجرا اور اثاثوں کی منتقلی جیسے منصوبے یہ سمجھنے میںمدد دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت غربت کے خاتمے میںکس قدر سنجیدہ پیش رفت کر رہی ہے۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں بعض اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے جس کی وجہ سے گھریلو بجٹ ضرور متاثر ہوگا اور یہ بات حکومت کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ جلد ازجلد عوام کو کیسے ریلیف دینا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں