08:19 am
  مذاکرات اور سازشیں 

  مذاکرات اور سازشیں 

08:19 am

  بھارتی انتخابات سے قبل  پاکستانی وزیراعظم نے ایک چونکا دینے والا بیان دیا تھا کہ اگر نریندر مودی فتح یاب ہوکے دوبارہ نئی دلی کے راج سنگھاسن پر براجمان ہو ئے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس پیش رفت کرنا ممکن ہوگا ۔ بعض جذباتی حضرات نے اس بیان پر پاکستانی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا ‘تاہم کچھ حلقے ایسے بھی تھے جو جزوی طورپر اس رائے سے متفق تھے کہ  پاکستان کے خلاف  بی جے پی اور مودی کے پیدا کردہ  جنگی جنون کی زہریلی فضا میں کسی اور جماعت خصوصاً کانگریس کے لیے کشمیر جیسے حساس مسئلے پہ پیش رفت سیاسی موت ثابت ہو گی  بلکہ یوں کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کشمیر پر پاکستان سے مذاکرات کرنے والی ہر جماعت یا سیاسی اتحاد کو بھارت میں  مخالفین کی جانب سے غداری جیسے الزامات کا سامنا کرنا  پڑے گا ۔ 
 
بھارت سے مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے  ایک پہلو قطعاً نظرانداز کیا جاتا رہا ہے کہ آیا بھارت مذاکرات کی نیت یا ارادہ رکھتا بھی ہے یا نہیں ؟ اس اہم نکتے کا درست ادراک کر لیا جائے تو خارجہ محاذ پر پیش رفت کے لیے درست حکمت عملی اپنانے کے لیے مختلف امکانات پہ غور کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر جیسے اہم اور حساس مسئلے پہ متفقہ پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ ذمہ داری حکومت سمیت حزب اختلاف پر بھی عائد ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے کشمیر جیسے اہم معاملے پہ توجہ دینے کی فرصت کسی کو بھی نہیں ۔ رسمی بیان بازی  کے لیے بھی اب صرف پانچ فروری کا دن مختص کر لیا  گیا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر پر گھسے پٹے بیانات کے ذریعے خانہ پری کر کے ہمارے قائدین بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ تلخ حقیقت یہی ہے کہ پارلیمان میں قوم کی ترجمانی کے دعویداروں کے نزدیک اہم ترین مسئلہ کرپشن یا منی لانڈرنگ کی تفتیش اور اس کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریاں ہیں ۔ 
حالیہ حکومت ہی نہیں بلکہ سابقہ ادوار میں بھی پارلیمان میں اہم قومی امور پر سنجیدہ بحث کبھی بھی ہوتی دکھائی نہیں دی ۔ ذرا ذرا سی بات پر اپنے مخالفین کے گلے پڑ جانے والے بڑبولے اراکین پارلیمان کی شعلہ بیانیاں غیر اہم موضوعات کے گرد ہی گھومتی رہیں ۔ اگر سیاسی جماعتوں کی صفوں میں درد مند اور دانش ور قائدین دستیاب ہوتے تو پارلیمان میں ملک کی خارجہ ، داخلہ اور معاشی پالیسیاں زیربحث آتیں ۔ حزب اختلاف اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار کرکے حزب اقتدار کو پالیسیوں کی خامیوں سے آگاہ کرتی ۔ اجتماعی دانش بروئے کار آتی اور عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والی پارلیمان سے ملک و قوم کو بھی کچھ فیض ملتا ۔ مقام افسوس کہ عوام کے لیے بحیثیت مجموعی پارلیمان ایک بے فیض ایوان ہی ثابت ہوتی چلی آئی ہے۔ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان نہایت پیچیدہ خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ بھارت جیسے جارحیت مزاج پڑوسی کے ساتھ کشمیر سمیت افغانستان میں پنجہ آزمائی جاری ہے۔ اندرونی محاذ پر بھارت کے پروردہ دہشت گرد ملکی معیشت ، یکجہتی اور  امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان کو خارجہ محاذ پر تنہا کرنے کی بھارتی خواہش پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری مبنی برحق تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی بھارتی حکمت عملی کو امریکی سرپرستی دستیاب ہوچکی ہے۔ اس مہلک حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک جانب مظلوم کشمیری تیزی سے عالمی برادری کی اُس حمایت سے محروم ہوتے جائیں گے جو کہ پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے ‘ ساتھ ہی بھارت کو اپنے غیرانسانی مظالم کے لیے جھوٹے جواز دستیاب ہو رہے ہیں ۔ اس مایوس کُن صورتحال میں مقبوضہ کشمیر  کے نوجوان حریت پسندوں کا مسلح جدوجہد اور جہادبالسیف کی جانب راغب ہونا ایک فطری امرہے۔کشمیری حریت پسندوں کی مسلح کارروائیوں کو پاکستان کے کھاتے میں درج کر کے بھارت سرحد پار دہشت گردی کا ڈھول پوری شدت سے پیٹ کر دنیا کی توجہ اپنے غاصبانہ کرتوتوں سے ہٹا نا چاہتا ہے۔ 
بدقسمتی کہیں یا حکمرانوں کی بے دانشی کہ بھارت اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کی جانب کامیابی سے رینگ رہا ہے۔  پاکستان نے خارجہ محاذ پر معنی خیز سست روی کی روش ترک نہ کرنے کی گویا قسم کھا رکھی ہے۔ درپیش چیلنجز سے نبٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ مباحثہ نہ ہونا کسی المیے سے کم نہیں ۔ بی جے پی اور مودی کی کامیابی کے بعد بار بار بھارت کو مذاکرات کی پیشکشیں اس انداز میں کی جارہی ہیں گویا پاکستان بھیک مانگ رہا ہو۔ آخر ہمیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ بھارت کسی صورت بھی کشمیر سمیت دیگر  تنازعات  پر پاکستان سے پرامن مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔
 پاکستان نے بارہا مذاکرات کی پیشکش کی۔  وزیر اعظم نے خیر سگالی کے جذبات کا خط کے ذریعے بھی اظہار کیا اور فون بھی کیا ۔ دفتر خارجہ کی جانب سے بھی گاہے بگاہے مذاکرات کی خواہش کی قوالی جاری رہتی ہے ۔ ادھر بھارت کی جانب سے رعونت بھرا انکار اور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے سوا کوئی مثبت رد عمل کبھی سامنے نہیں آیا ۔ حکومت وقت اور حزب اختلاف کو ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے سے فرصت ملے تو اس معاملے پر غور فرما لیں کہ بھارت کی جارحانہ پالیسی اور سازشوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟     

تازہ ترین خبریں