08:20 am
پاکستانی معاشی استحکام اورامریکی پلان

پاکستانی معاشی استحکام اورامریکی پلان

08:20 am

یہ 1838 ء کی بات ہے،ہندوستان کے گورنرجنرل لارڈآکلینڈکوافغانستان کے حوالے سے اب ایک اہم فیصلہ کرناتھا۔روس کے ساتھ جاری تجارتی مخاصمت میں ایسٹ انڈیاکمپنی پچھڑنے لگی تھی اوراس صورتحال میں تبدیلی کیلئے ضروری  تھاکہ افغانستان میں اپنی پوزیشن کومضبوط کیا جائے۔کابل کابارکزئی حکمران،امیر دوست محمدخان،برطانوی مفادات کیلئے معاون ثابت نہیں ہورہاتھا۔اس کی پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے ساتھ پشاورکے علاقے پرسخت کشمکش جاری تھی اوررنجیت سنگھ ایسٹ انڈیاکمپنی کی حکومت کا حلیف تھا۔دونوں سے بیک وقت دوستی رکھنا ناممکن ہورہاتھا۔رنجیت سنگھ کوناراض کرنے کا مطلب افغانستان تک براہ  راست رسائی میں ایک بڑا تعطل ہوتاجبکہ کابل آسان ہدف تھا کیونکہ وہاں پر اندرونی خلفشارکی وجہ سے استحکام کاشدید فقدان تھا۔
 
صورتحال کودیکھتے ہوئے گورنرجنرل نے افغانستان پرحملہ کرنے کافیصلہ کرلیا۔ہدف یہ تھا کہ وہاں پرحکمران کی تبدیلی عمل میں لاکر روس  کے مقابلے میں اپنی پوزیشن بہتربنائی جائے۔ لارڈآکلینڈنے اس ضمن میںشملہ فرمان جاری کردیااورافغانستان پرحملے کی تیاری شروع ہوگئی۔ بنیاد یہ بتائی گئی کہ دوست محمد خان روسی مفادات کیلئے کام کررہاہے اوراس کی سرکوبی ضروری ہے۔ رنجیت سنگھ سے رابطہ کیا گیا،اس نے حملہ میں ساتھ دینے کی حامی بھرلی لیکن ساتھ ہی دوشرائط بھی عائدکردیں۔اول یہ کہ اس کی افواج کابل پرحملہ میں توساتھ دیں گی لیکن وہ وہاں پرقبضہ برقراررکھنے کیلئے ٹھہریں گی نہیں۔ دوسرا برطانوی فوج کو پنجاب سے گزرکرافغانستان جانے کی اجازت نہیں ہوگی،اس کیلئے انہیں کوئی اورراستہ اختیار کرنا ہوگا۔برطانیہ نے کچھ ردوکدکے بعدیہ دونوں شرائط مان لیں کیونکہ اس اہم معرکہ کیلئے وہ رنجیت سنگھ کی فوجی مددسے ہاتھ دھونانہیں چاہتے تھے۔
اب مسئلہ یہ درپیش ہواکہ افواج اور سازوسامان کی نقل وحرکت کیلئے کون ساراستہ اختیارکیاجائے۔فوجی منصوبہ سازوں نے فیصلہ کیا کہ  رنجیت سنگھ کی فوج درہ خیبرسے حملہ آور ہوگی اور برطانوی دستہ درہ بولان کے راستے افغانستان میں داخل ہوگااورسندھ سے گزر کر وادی  بولان پہنچاجائے گا۔سندھ میں اس وقت تالپور خاندان حکمران تھا۔ان کے ساتھ ایسٹ انڈیاکمپنی نے فوری طورپردائمی دوستی کامعاہدہ کیا اورساتھ ہی اپنی فوج کیلئے راہداری مانگ لی، جوانہیں فوراہی دے دی گئی۔بہرحال،طے شدہ پلان کے مطابق دونوں اطراف سے افغانستان پر حملہ ہوا اورناقابل یقین سرعت سے حملہ آورافواج کابل تک جاپہنچیں۔ دوست محمد خان کی حکومت ختم  ہوگئی اور اگست1839ء میں کابل کاتخت شاہ شجاع کے حوالے کردیا گیا۔1840ء میں دوست محمد خان نے خودکوایسٹ انڈیاکمپنی کے حوالے کردیااور اسے ایک قیدی کی حیثیت میں ہندوستان بھیج دیاگیا۔
اب کہانی کااگلاموڑآتاہے۔دنیاکی جنگی تاریخ میں ایک جنرل ایساہے جس نے بہت سی جنگوں میں فاتح کاکرداراداکیاتاہم اس کا ذکرکچھ خاص کیانہیں جاتا۔وہ جنرل ہے’’ موسمِ سرما‘‘ نپولین اورہٹلرکوروس میں اسی جنرل نے اصل شکست دی۔برطانیہ کے ساتھ بھی کچھ ایساہی ہونے جارہاتھا۔ دسمبر1841ء میں دوست محمد کے بیٹے وزیرمحمداکبرخان نے کابل میں حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلندکردیااوروہاں پرتعینات برطانوی نمائندہ(فی الواقع اصل حکمران) ولیم مکاہٹن کوقتل کردیا۔ یہ بغاوت تیزی سے پھیل گئی، ایک ماہ کے اندربرطانوی فوج کے پاں اکھڑ گئے اورانہوں نے جلال آبادکی طرف پسپائی کا سفرشروع کیا،یہ سفربرطانوی فوجی تاریخ کا بھیانک  ترین باب ثابت ہوا۔ کابل سے  16500 نفوس نکلے مگر صرف ایک،ڈاکٹرولیم برائڈن زندہ سلامت جلال آباد پہنچ سکا،باقی سب کو دشوارگزار راستوں اورسخت موسم نے لاچار کر دیا اورحملہ آوروں نے انہیں چن چن کرقتل کر دیا ۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ اس جنگ کے بعدکابل کاتخت پھرسے دوست محمد خان کومل گیا اور تمام ترتباہی کے بعدصورتحال پھرجوں کی توں ہوگئی۔
مندرجہ بالامعرکہ کوپہلی افغا ن جنگ کہاجاتاہے۔ اس جنگ میں اتنی بڑی ہزیمت ایسٹ انڈیاکمپنی کیلئے بہت پریشانی کاسبب تھی۔اگریہ ایک مثال بن جاتی تو ہندوستان پرقبضہ اور ایک برترفوجی طاقت ہونے کاتاثر،دونوں ہی خطرات کاشکارہوسکتے تھے۔اس لیے اپنارعب برقراررکھنے کیلئےکوئی جنگ جلدازجلد جیتنا ازحد ضروری تھا۔ بڑی طاقتوں کی نفسیات بھی بلی کی طرح ہوتی ہیں۔ جب پاں جلتے ہیں تو اپنوں کو ہی پاں تلے دے کر بچا کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب کہ قرعہ فال دائمی دوستی والے تالپورخاندان اورسندھ کی سرزمین کے نام نکلا۔چارلس نیپیئرکی سربراہی میں فوج سندھ کی جانب روانہ کی گئی۔اس وقت کے حکمران میرناصرخان تالپورنے چارلس نیپیئرسے مذاکرات کیے اوراس کی لگ بھگ تمام شرائط تسلیم کرلیں۔یہ طے ہواکہ نیپیئراپنی افواج کوپیچھے ہٹالے گا۔ اس نے ایساکرنے کاحکم بھی دے دیالیکن پھرپلٹ کرحملہ کردیا اور فروری 1843 میں میانی کے مقام پردونوں فوجوں کا ٹکراؤ ہوا اور انگریزی افواج نے فیصلہ کن فتح حاصل کرلی۔ پورے سندھ پربرطانیہ کاقبضہ ہوگیاجوقیامِ پاکستان  تک جاری رہا۔
کہاجاتاہے کہ افغانستان کوسمجھنے کیلئے پہلی افغان جنگ کودیکھ لیناکافی رہتاہے۔اس کے بعدکے تمام معرکے قریبااسی کاایکشن ری پلے ثابت ہوتے آئے ہیں۔ بیرونی جارحیت کیلئے کسی مناسب سی وجہ کی تشکیل،جارحیت کا ارتکاب، جارح کی تیزی سے کامیابی،پھراس کے خلاف بغاوت  اوربالآخرتھکے ہارے جارح کی واپسی۔ یہی نہیں،اس میں سندھ اورتالپوروں والی تاریخ بھی دہرائی جاتی ہے۔
وہ برطانیہ کامعاملہ تھا۔اب معاملہ امریکا سے  ہے۔یہ اس سے بھی دوہاتھ آگے ہے۔انہوں نے توجنگ ہارنے کے بعداپنے حلیفوں پرحملہ کیاتھا، امریکانے توسوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے فورابعدپہلی پابندیاں اپنے حلیف پاکستان پرلگائی تھیں جبکہ اس وقت تواسے افغانستان میں ایک عبرتناک شکست کاسامناہے۔اب وہ کیوں نہ پاکستان  پر اپنا غصہ نکالے گا؟
پاکستان نے2001ء میں جب امریکہ کا ساتھ دینے کافیصلے کیاتووہ دراصل امریکہ کاساتھ نہیں  تھا،وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قراردادکے پریشرسے مجبور تھا جسے چین نے پیش کیااوراسے سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران کی پوری حمایت حاصل تھی،تاہم پاکستان کویہ بات بخوبی معلوم تھی کہ ایک دن یہ بات اقوام متحدہ کے بجائے اس کے اورامریکاکے درمیان قضیہ بن کرسمٹ آئے گی اوروہ دن بالآخرآگیا۔اسی دن کیلئے پاکستان نے اپنے تمام آپشنز امریکہ کے حوالے نہیں کیے اورآج طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے پاکستان کاسہاراہی لینا پڑا۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں