08:21 am
سوشل میڈیا‘ پی ٹی ایم اور علماء کرام

سوشل میڈیا‘ پی ٹی ایم اور علماء کرام

08:21 am

ملک میں بے یقینی‘ سیاسی عدم استحکام اور مہنگائی کے بادل منڈلا رہے ہیں‘ چھوٹے دوکاندار سے لے کر بڑے تاجر تک‘ عام مزدور‘ کسان سے لے کر 21ویں گریڈ کے افسروں تک ہر شخص حکومتی کارکردگی اور حکومتی وزراء کے رویوں کو دیکھ کر ملک کے مستقبل کے لئے فکر مند نظر آرہا ہے۔
 
 ایسے نازک حالات میں افواہیں پھیلا کر بے چینی کی فضاء پیدا کرنے والے بھی رات دن اپنے افواہیں پھیلانے کے مذموم کام میں لگے ہوئے ہیں‘ گزشتہ روز ختم نبوتؐ کے ایک کارکن دوست نے مجھے واٹس ایپ کے ذریعے ایک ایسی لسٹ بھجوائی جس کا عنوان  تھا کہ مختلف ٹی وی چینلز کے قادیانی رپورٹر کے نام ملاحظہ فرمائیں‘ اس لسٹ میں ساٹھ‘ ستر کے لگ بھگ مختلف رپورٹرز کے نام درج تھے...اس خاکسار نے وہ مسیج ایک ایسے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کر دیا کہ جس میں لکھاریوں کے ساتھ ساتھ علماء کرام بھی شامل ہیں۔
مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس گروپ میں شامل علماء کرام نے اس مبینہ لسٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح قادیانیت کا الزام لگا کر بغیر تحقیق کے ناموں کو شیئر کرنا نہ صرف یہ کہ مناسب نہیں بلکہ کبائیر  میں سے ہے۔
گروپ میں شامل علماء کرام نے قادیانی رپورٹرز کے نام سے پھیلائی جانے والی اس لسٹ کی نہ صرف یہ کہ دھجیاں اڑا کر رکھ دیں بلکہ بغیر تحقیق کے ایسی لسٹیں شیئر کرنے والوں کے بھی خوب لتے لئے
سچی بات ہے کہ یہ سب  دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا‘ اور مجھے ان ’’نابغوں‘‘ کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا کہ جو اکثر علماء کرام پر غلط فتوے دینے کی پھبتی کستے ہیں۔
ٹی وی چینلز کے رپورٹرز کی وہ مبینہ لسٹ کس نے تیار کی؟ یہ مجھ سمیت کسی کے علم میں نہیں ہے‘ لیکن بعض صاحب الرائے نامور شخصیات کے مطابق قادیانی نیٹ ورک کی طرف سے بھی خفیہ انداز میں  بعض اوقات جان بوجھ کر ایسی لسٹیں تیار کرکے پھیلائی جاتی ہیں تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو ہی شک و شہبے کی نگاہوں سے دیکھتے رہیں۔
بہرحال سوشل میڈیا ہو‘ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ان سے وابستہ ہر اچھے ’’انسان‘‘ سے میری گزارش ہے کہ خدا کے لئے دوسروں سے جتنا بھی اختلاف کیوں نہ ہو‘ کبھی کفر کا فتویٰ مت لگائیے خصوصاً کسی کو بغیر ثبوت کے قادیانی قرار دینا تو بم مارنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے‘ اس لئے کہ قادیانیت کفرکی وہ آخری غلاظت ہے کہ جس کے بعد جہنم کی شعلے مارتی آگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
زمانہ چاہے جتنا بھی کیوں نہ بدل جائے‘ لیکن الحمدللہ پاکستان کے علماء کرام کو آج بھی اس کا احساس ہے کہ کسی دوسرے مسلمان کو بغیر کسی ثبوت کے قادیانی قرار دینا  دینی اور اخروی تباہی کے سوا کچھ  بھی نہیں۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیکولر شدت پسند پاک فوج کے خلاف  پروپیگنڈہ کرنے میں ہمیشہ صف اول پر رہے‘ سابق صدر زرداری کی  نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کے بعض مظاہروں میں بھی پاک فوج کے خلاف جو نعرہ بازی کی گئی اس کے وڈیو کلپس سوشل میڈیا پر دیکھے جاسکتے ہیں... حال ہی میں بعض وکلاء نے بھی اپنے احتجاجی پروگرام میں اسی طرح کی متنازعہ نعرے بازی کرکے پاکستان دشمنوں کو ہنسنے  کا موقع فراہم کیا۔
پختون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم نے صرف جلسوں‘ جلوسوں اور مظاہروں میںہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پاک فوج کے خلاف جو گند اچھالنے کی کوشش کی وہ بھی سب کے سامنے ہے جبکہ قومی سلامتی کے ضامن ادارے پی ٹی ایم کے حوالے سے کھل کر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اس کی جڑیں دہلی سے لے کر یروشلم تک پھیلی ہوئی ہیں۔
کوئی راضی رہے یا ناراض ہویہ خاکسار اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا ملک دشمنی ہی نہیں بلکہ اسلام دشمنی بھی ہے...غیر ملکی ایجنٹوں کے ایماء پر پاک فوج کے خلاف مہم چلانے کی کسی طور پر بھی حمایت نہیں کی جاسکتی‘ پی ٹی ایم کے حوالے سے ہر سوال اٹھانے والے کو گالیاں دینے ‘جب لال مسجد آپریشن ہوا‘ قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرون حملے ہوئے تب بھی وہ امریکہ کے مخبر تھے اور آج بھی وہ امریکی اور بھارتی دستر خوان کے راتب خور ہیں ۔
میں ذاتی طور پر پی ٹی ایم کے خلاف  فوجی آپریشن کے مخالف ہوں‘ لیکن کسی محسن داوڑ‘ کسی منظور پشتین‘ کسی اسماعیل گلالئی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ بہادر اور غیور پختون قوم کے مستقبل کے فیصلے کرتے پھریں۔
میری محب وطن سوشل میڈیا  ایکٹوسٹ اور لکھاریوں سے گزارش ہے کہ وہ قومی اداروں بالخصوص پاک فوج کے خلاف پی ٹی ایم  یا بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا آلہ کار بننے سے گریز برتیں‘ بالخصوص مذہب پسند سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن علماء سے محبت کرتے ہیں وہ اپنے قائدین علماء سے پوچھ کر دیکھ لیں‘ مولانا فضل الرحمن سمیت کوئی بھی مذہبی لیڈر حتیٰ کہ بریلوی‘ دیوبندی ‘ اہلحدیث کا کوئی بھی عالم دین پاک فوج کے خلاف  کئے جانے والے غلیظ پروپیگنڈے کی نہ اجازت دیتا ہے اور نہ حمایت کرتا ہے۔ 
جب اکابر علماء میں سے کوئی ایک بھی پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈے کا حامی نہیں ہے‘ تو پھر ہم پی ٹی ایم کے ریاست سے ٹکراتے موقف کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟ اسماعیل گلالئی جیسی عورتوں کو پختون قوم کا نمائندہ مقرر کرنا بدقسمتی کی انتہا ہے۔
ان خطرناک حالات میں پاکستان کی مذہبی جماعتیں دینی مدارس اور مذہبی قائدین بہرحال مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ ملکی سلامتی اور سرحدات کی حفاظت کی خاطر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آرہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں