08:21 am
مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

08:21 am

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ 10 جون سے 16 جون تک لکی مروت، ملانہ، ڈیرہ اسماعیل خان، موسی زئی شریف، بن حافظ جی میانوالی، چودھواں، اسلام آباد، دھیرکوٹ، باغ، ہاڑی گیل، بیس بگلہ، ملوٹ، مانگا، مری، چکوال اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا۔ اس دوران 13 جون کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ آزاد کشمیر کی ایک نشست میں بھی حاضری ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 
 
 میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ کے صدر  سردار اعظم حیدر ایڈووکیٹ اور دارالعلوم تعلیم القرآن باغ کے مہتمم مولانا امین الحق  کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے باغ میں حاضری کے موقع پر معزز وکلا کے ساتھ اس ملاقات  کا اہتمام کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔ اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں دو تین باتوں کی طرف وکلا کے اس باوقار فورم کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
پہلی بات تو یاددہانی کے لیے ہے کہ آپ حضرات کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں جس میں مجاہدین کے جہاد آزادی سے لے کر بین الاقوامی ماحول کی سفارتی محنت تک مختلف دائروں میں جدوجہد جاری ہے۔ یہ سعی و کاوش سات عشروں سے تجاوز کر چکی ہے اور ابھی تک نتیجہ خیز ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ کشمیر اور فلسطین کے دو حساس مسئلوں نے پورے عالم اسلام کو مضطرب اور بے چین کر رکھا ہے مگر جن قوتوں کے ہاتھ میں ان مسائل کا حل ہے وہ اس کے احساس و ادراک سے محروم ہیں، یا ان دونوں مسئلوں کو اپنے مفادات کے لیے اسی طرح موجود و قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ جہاد آزادی میں مصروف مجاہدین اور مختلف شعبوں میں محنت کرنے والے طبقات کی حمایت و تعاون کے ساتھ ساتھ ہمیں موجودہ صورتحال کے اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان کے حل میں رکاوٹوں کو بھی اجاگر کرتے رہنا چاہیے اور عالمی رائے عامہ کو ان مسائل کے حل کے لیے موثر کردار کے لیے تیار کرنے پر محنت کرنی چاہیے۔ آج کی اس نشست میں چونکہ معزز وکلا کے ساتھ  علما کرام بھی موجود ہیں اس لیے میں بطور خاص یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ دونوں کو مل جل کر مشترکہ طور پر اس جدوجہد کو موثر بنانے  کے راستے نکالنے چاہئیں۔ 
دوسری گزارش وکلا اور علما کے اس مشترکہ اجتماع میں یہ کرنا چاہوں گا کہ آزاد ریاست جموں و کشمیر میں عدالتی سطح پر اسلامی شریعت اور عصری قوانین کے امتزاج اور جج صاحبان اور قاضی حضرات میں اشتراک عمل کا جو تجربہ کیا گیا ہے وہ نفاذ اسلام کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسے مزید موثر اور کامیاب بنانے کی محنت کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا کو اس سے متعارف کرانے کا کام بھی ہونا چاہیے۔ نفاذ شریعت کی جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کے طور پر میرا یہ احساس ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد کشمیر کے اس عدالتی تجربہ کو مختلف ممالک بالخصوص پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے راہنما بنایا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو اس سے متعارف کرایا جائے اور اسے مزید مستحکم اور موثر بنانے کی محنت کی جائے جو میرے خیال میں علما کرام اور وکلا کو مل کر کرنی چاہیے۔ میں ڈسٹرکٹ بار باغ سے اس طرف خصوصی توجہ کی گزارش کرتا ہوں جبکہ میری تیسری گزارش یہ ہے کہ اس وقت مختلف بین الاقوامی معاہدات نے جس طرح پوری انسانی سوسائٹی اور دنیا بھر کے ممالک و اقوام کو حصار میں لے رکھا ہے ان سے  آگاہی حاصل کرنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ مثلاً یورپی یونین پاکستان سے مسلسل کہہ رہی ہے کہ اسے یورپ کے ساتھ تجارتی مراعات کے دائرے میں شامل ہونے کے لیے ستائیس بین الاقوامی معاہدات پر مکمل عملدرآمد کی ضمانت دینا ہوگی اور اس ضمن میں توہین رسالت پر سزائے موت، قصاص کے قوانین، ختم نبوت کے تحفظ کے قوانین اور سزائے موت کو مکمل طور پر ختم کر دینے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے علما کرام اور معزز وکلا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ستائیس معاہدات کا جائزہ لیں، اس سے عوام اور متعلقہ حلقوں کو واقف کرائیں اور اس سلسلہ میں قوم کی راہنمائی کریں۔ 
اس موقع پر ایک معزز وکیل نے سوال کیا کہ کیا ان بین الاقوامی معاہدات سے نکل کر ہم بطور ریاست اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں معاہدات سے نکلنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں کم از کم ان سے واقف تو ہونا چاہیے اور قوم کی راہنمائی کرنے والے طبقات بالخصوص علما کرام، وکلا، سیاسی راہنماں، اساتذہ، قوم کے نمائندوں اور میڈیا کے پالیسی سازوں کو پورے ادراک اور آگاہی کے ساتھ ان معاہدات کے ایسے حصوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جن پر اسلامی تعلیمات، قومی مفادات اور ملکی وقار کے حوالہ سے ہمیں تحفظات درپیش  ہیں۔ پھر ان تحفظات پر متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے گفتگو کرنے اور انہیں اپنے مسائل و مشکلات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ 
میرے خیال میں بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کچھ عرصہ قبل جو بات کی تھی اور اب ترکی کے وزیراعظم  طیب اردگان وہ بات کر رہے ہیں، اسے منظم طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جبکہ علما کرام اور وکلا کو اس کا ماحول اور اس سلسلہ میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ کی اس نشست میں بعض محترم وکلا نے انتہائی اہم سوالات کیے جن کے جواب میں کچھ گزارشات میں نے پیش کیں۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 
ایک وکیل نے کہا کہ اسلام کے سیاسی نظام کے بارے میں کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کوئی کنفیوژن نہیں ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب خلافت کا نظام قائم ہوا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے نہ تو اقتدار پر طاقت کے بل پر قبضہ کیا تھا اور نہ ہی خاندانی استحقاق اور وراثت کے طور پر حکومت حاصل کی تھی‘ بلکہ انہیں حکومت کا حق امت کی اجتماعی صوابدید کی بنیاد پر ملا تھا، جس سے یہ بات طے ہوگئی کہ اسلام میں حکمرانی کا حق عوام کی اجتماعی صوابدید سے حاصل ہوتا ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں