08:22 am
 بھتیجی اِن، چچا آئوٹ!

 بھتیجی اِن، چچا آئوٹ!

08:22 am

٭بلاول مریم اعلامیہ، شہباز شریف آئوٹO بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے، بلاول…بجٹ پاس کر کے دکھائیں گے، فردوس عاشق اعوان O کرکٹ ٹیم: شرمناک ترین شکست، رات ریستورانوں میں، میچ کے دوران سوئے رہےO سندھ اسمبلی سپیکر سراج درانی کے لئے ’سب جیل‘O اسرائیل کے وزیراعظم کی اہلیہ کو بھاری جرمانہ۔
 
٭ن لیگ کا صدر شہباز شریف کو بنایا گیاتھا۔ اب بھتیجی مریم نواز نے صدارت سنبھال لی۔ بلاول کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ! شہباز شریف لاتعلق! بھتیجی اِن، چچا آئوٹ! بتایا گیا ہے کہ مریم نوازکو والد نوازشریف نے ہدائت کی تھی کہ ن لیگ کو سنبھال لے۔ مریم نواز اور بلاول، دونوں ولی عہدوں نے نیا ’میثاق جمہوریت‘ بنا ڈالا۔ دونوں کے والد جیل میں اور ولی عہد سیاست کی ریل میں! سیاسی پنڈت پوچھتے رہ گئے کہ ن لیگ کے صدر کی موجودگی میں نائب صدر کس طرح اعلامیہ جاری کر سکتی ہے؟ اس اعلامیہ کی سیاسی اور سماجی حیثیت کیا ہے؟ جواب آسان ہے کہ یہاں تو چچا کا معاملہ تھا، اورنگزیب عالم گیر نے تو باپ کو نہ صرف تخت سے اتارا، اسے قلعہ میں قید بھی کر دیا تھا (میں نے وہ بستر دیکھا ہے جس پر لیٹا ہوا شاہ جہاں قلعہ کے ایک جھروکے سے دور تاج محل کو دیکھتا رہتا تھا!) ویسے دوحہ میں بھی ایسا ہی ہوا، مملکت کا امیر غیر ملکی دورے پر گیا، عدم موجودگی میں بیٹے نے تخت سنبھال لیا۔ باپ واپس نہ آ سکا۔ اب جو صورت حال سامنے آئی ہے، اس کے مطابق ن لیگ کی قیادت ماڈل ٹائون لاہور سے کوٹ لکھپت جیل میں منتقل ہو گئی ہے۔ وہاں سے بیٹی مریم نواز کو ہر ہفتے ملاقات پر نئی ہدایات ملا کریں گی یوں ن لیگ کے اندر ش (شہباز) گروپ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ شہباز شریف ایک عرصے سے حکومت کے خلاف تشدد انگیز تحریک چلانے کے مخالف تھے۔ نوازشریف ہر قسم کے نتائج سے بھرپور تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ نوازشریف کو شہبازشریف کے سیر سپاٹے اور لندن میں دو ماہ خاموشی پسند نہیں تھی، مزید یہ کہ شہباز شریف نے اسمبلی میں بجٹ پر تقریر کی دعوت پر سپیکر کا شکریہ ادا کر دیا! نوازشریف کو یہ بات کیسے گوارا ہو سکتی تھی! ن لیگ کا ایک حصہ اب بھی شہباز شریف کی بجائے نوازشریف کو پارٹی کا صدر تسلیم کرتا ہے۔ خبر بتاتی ہے کہ بلاول کی جاتی امراء میں ن لیگ کے پرویز رشید، رانا ثناء اللہ، ایاز صادق، کیپٹن صفدر اور مریم اورنگزیب مریم نواز کی قیادت تلے موجود تھے۔ شہباز شریف، خواجہ آصف، احسن اقبال، امیر مقام وغیرہ موجود نہیں تھے، ان لوگوں کو بلایا ہی نہیں گیا اور جاتی عمرا میں ن لیگ کی قیادت مریم نواز نے کی۔ ماضی میں بھی پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن نصرت بھٹو کی موجودگی میں بے نظیر بھٹو نے شریک چیئرپرسن بن کر نصرت بھٹو سے قیادت چھین لی تھی۔ اب مریم نواز اِن اور شہباز شریف آئوٹ ہو گئے ہیں ان کے پاس صرف اسمبلی کی اپوزیشن لیڈری اورعدالتوں میںپیشیاں جاری ہیں۔ بزرگ شاعر حسرت موہانی کا کلام یاد آ رہا ہے کہ ’’ہے مَشقِ سُخن جاری، چکی (جیل) کی مشقت بھی…!!‘‘ اب شریک صدر پرانے حریف زرداری خاندان کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی اورن لیگ کے حاضر صدر صرف اسمبلی میں تقریریں کیا کریں گے!
٭ایک دل جلے قاری نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو فوری طور پر واپس بلا کر نیب کے حوالے کر دیا جائے اور کرکٹ بورڈ کو ختم کر دیا جائے۔ اس مفلوج کرکٹ ٹیم نے پوری قوم کو جس طرح صدمے سے دوچار کیا، اس پر دماغ کھول رہا ہے۔ صدمہ اتنا سخت ہے کہ کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ جس ٹیم کا کپتان میدان میں بار بار جمائیاں لے کر نیند پوری کرتا رہا، اسے پتہ ہی نہ چل سکا کہ گیند دائیں طرف گزرا ہے یا بائیں طرف سے؟ جو ٹیم مبینہ طور پر میچ والی رات دو بجے ریستوران میں شیشہ کا نشہ پیتی رہی، اس نے خاک مقابلہ کرنا تھا۔ میں نے زندگی میں اتنا بُرا میچ نہیں دیکھا۔ ایک موقع پر مخالف ٹیم کے دونوں کھلاڑی ایک ہی وکٹ پر جمع ہو گئے، دوسری وکٹ بالکل خالی پڑی تھی اور پاکستانی کھلاڑی اس خالی وکٹ پر روہت شرما کو رن آئوٹ کرنے کی بجائے اس وکٹ پر بال پھینک رہے تھے جہاں دونوں مخالف کھلاڑی کھڑے تھے۔ وزیراعظم نے صاف کہا تھا کہ ٹیم میں ریلو کٹے شامل نہ کئے جائیں۔ (ریلو کٹا: ہل چلانے والے بھینسے کے ساتھ بندھا، زیر تربیت بچہ) شعیب ملک کی عمر 38 برس ہو چکی ہے، پچھلے 15,14 میچوں میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی، بیٹنگ یا بائولنگ، کچھ نہیں واحد میرٹ چیف سلیکٹر انضمام الحق کی پرانی دوستی! ٹیم میں شمولیت سے کروڑوں کی آمدنی! رات بیگم کے ساتھ شیشہ کیفے میں گزاری۔ وہاں دوسرے کھلاڑی بھی موجود تھے۔ دو بجے رات کسی نے ان کی فلم بنا لی، اس کے بعد بھی وہاں موجود تھے۔ چار بجے کے بعد ہوٹل میں آئے، دوسرے کھلاڑی لندن میں ایک دوست تاجر کے گھر پر موج مستی کرتے رہے۔ نو بجے صبح میدان میں حاضری تھی۔ سوتے جاگتے میدان میں پہنچے! اور نتیجہ! شعیب ملک پہلی ہی گیند پر کلین بولڈ! اور کپتان! ہر میچ میں ہارنے کے بعد بیان دیتا ہے کہ آئندہ غلطیاں نہیں کریں گے،بہتر کھیلیں گے۔ اس شخص کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ گیند کو ہٹ کیسے ماری جاتی ہے؟ اس میچ میں 27 گیند (تقریباً 5 اوور) ضائع کر کے صرف 11 سکور کیا۔ شاہد آفریدی کے بعد کوئی چوکے چھکے مارنے والا کھلاڑی ٹیم کو نصیب ہی نہیں ہوا۔ اسی انداز میں موہالی سٹیڈیم چندی گڑھ میں مصباح الحق نے مسلسل پانچ اوورز ٹِھپ ٹِھپ کر کے ضائع کئے اور ٹیم ہار گئی تھی۔ اس ٹیم نے بائولنگ، بیٹنگ، فیلڈنگ میں شرمناک کارکردگی سے پوری قوم کو صدمہ سے دوچار کر دیا ہے۔ مجھے پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم یاد آ رہی ہے، کیا اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے، پروفیسر حفیظ کاردار حکومت کا مشیر، فضل محمود ڈی آئی جی پولیس، جاوید برکی، سیکرٹری ایجوکیشن، کرنل شجاع الدین، ونگ کمانڈر امتیاز احمد!! ان کھلاڑیوں کو صرف 25 روپے روزانہ فیس ملتی تھی، گھر کا نظام اپنی سرکاری تنخواہوں سے چلاتے تھے! اور اب!! پوری ٹیم میں شائد ہی کسی کے پاس بی اے وغیرہ کی ڈگری ہو! گلی محلے میںگلی ڈنڈا کھیلتے کسی طرح ٹیم میں آ گئے، کروڑوں میں کھیلنے لگے اور کارکردگی! اس محترم قاری کی تجویز معقول لگتی ہے کہ کرکٹ بورڈ کو ختم کر کے کم از کم 10 سال کے لئے کرکٹ بند کر دی جائے!
٭سارا کالم بوجھل ہو گیا۔ چلئے ایک آدھ دوسری خبر! اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی بیوی سارہ نیتن کو ایک مجسٹریٹ نے سرکاری خزانے کے ناجائز استعمال پر15 ہزار ڈالر (23 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا ہے۔ اس خاتون نے اپنے مہمانوں کی ضیافتوں میں باہر سے مہنگے کھانے منگوانے پر سرکاری خزانے سے ایک لاکھ ڈالر خرچ کر دیئے تھے جب کہ گھر میں باورچی خانہ موجود تھا۔ اس نے جرمانہ ادا نہ کیا تو قید بھگتنا ہو گی۔ ویسے شوہر نامدار’’ نیتن یاہو‘‘ پہلے ہی سرکاری وسائل کی بدعنوانی کا مقدمہ میں عدالتوں میں پیش ہو رہا ہے۔ اسرائیل کو لاکھ گالیاں دیں مگر وہاں انصاف اور ہمارے ہاں!!اور ہاں سارہ نیتن یاہوکو اس سے پہلے اپنے ایک ملازم کو تھپڑ مارنے پر 47ہزار ڈالر جرمانہ ہو چکا ہے۔ تھپڑ مارنے کی روائت بہت پرانی ہے۔ ایوب خان کے دور میںایک بڑا سرکاری افسر غلام یزدانی ملک نے بہاول پور کے ایک بزرگ عالم دین اور مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن علامہ (نام بھول رہا ہوں) کو اسمبلی کی راہداری میں تھپڑ مارا۔ وہ زاروقطار روتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے۔ ایوان میں سناٹا چھا گیا۔ یزدانی ملک ایوب خان کا چہیتا تھا۔ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ ایک عرصے کے بعد اب یہ ضروری کام وفاقی وزیر سائنس اور فواد چودھری نے سنبھال لیا فیصل آباد کے ایک صحافی کو تھپڑ مارا اور معذرت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ وزارت چھوڑدوں گا، معافی نہیں مانگوں گا۔

تازہ ترین خبریں