09:15 am
پھیکا پھیکا بجٹ

پھیکا پھیکا بجٹ

09:15 am

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں پی ٹی آئی کے پیش کردہ بجٹ کے بارے میں چند اہم نکات پر اپنی رائے دی تھی۔ بجٹ پر پارلیمان میں تو کوئی بامعنی بحث نہیں ہو پارہی۔ اپوزیشن بجٹ کی مخالفت تو کررہی ہے مگر بجٹ کو بہتر بنانے کیلئے کوئی واضح تجاویز پیش نہیں کر رہی۔ میری کوشش ہوگی کہ میں چند ایسی تجاویز پیش کروں جس سے نہ صرف بجٹ زیادہ متوازن ہو جائے بلکہ عوامی مشکلات میں بھی تھوڑی سی کمی آجائے۔
میری پہلی تجویز یہ ہے کہ انفرادی اشخاص پر جو انکم ٹیکس کے ریٹس وضع کیے گئے ہیں انہیں تبدیل کیا جائے۔ چھ لاکھ سالانہ سے زائد آمدنی پر ضرور ٹیکس لگایا جائے مگر ٹیکس سلیب کو صرف پانچ مرحلوں تک محدود کر دیا جائے۔ یعنی چھ لاکھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدنی پر صرف پانچ فیصد انکم ٹیکس ہو ‘ بارہ لاکھ سے اٹھارہ لاکھ تک آمدنی پر دس فیصد ٹیکس ہو اٹھارہ لاکھ سے چوبیس لاکھ تک کی آمدنی پر پندرہ فیصد ٹیکس ہو۔ چوبیس لاکھ سے تیس لاکھ تک کی آمدنی پر بیس فیصد ٹیکس اور تیس لاکھ سے زائد تمام آمدنی پر پچیس فیصد ٹیکس رکھا جائے۔ ظاہر ہے اس تجویز سے متوقع انکم ٹیکس  آمدن میں کچھ کمی ضرور آئے گی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے کمپنیوں کے منافع پر ٹیکس کی شرح میں دو فیصد اضافہ کر دیا جائے۔ میرے ذاتی خیال کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور کرلی جاتی ہیں تو انکم ٹیکس کے زمرے میں ہونے والی حکومتی آمدن میں تھوڑا سا اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں ہوگی۔
جب آپ انفرادی انکم ٹیکس کی شرح کو اتنا بڑھا دیں گے جتنا کہ بجٹ میں تجویز کیا گیا ہے تو لوگوں کو مزید ترغیب ملے گی کہ وہ انکم ٹیکس کے دائرے سے دور رہیں۔ صرف تنخواہ دار طبقہ ہی بحالت مجبوری ٹیکس نیٹ میں رہے گا۔ اس کے علاوہ انفرادی ٹیکس کا زیادہ سے زیادہ ریٹ جو بجٹ میں 35 فیصد تجویز کیا گیا ہے  وہ کمپنی ٹیکس ریٹ29 فیصد  سے بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ اصولی طور پر صحیح نہیں ہے کہ اشخاص کی آمدن پر ٹیکس کی شرح کمپنیوں کے ٹیکس کی شرح سے زیادہ ہو۔
میری دوسری تجویز یہ ہے کہ بینکوں اور سرکاری بچت کی سکیموں پر ملنے والے منافع یا سود پر ٹیکس کی شرح کم کر دی جائے۔ اس سے حکومت کی ٹیکس آمدن میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا مگر لوگوں میں ایک تو اپنی رقوم بینکوں سے جمع کرنے کا رجحان بڑھے گا اور دوسری طرف افراط زر میں کمی ہوگی۔  یہ سادہ سی اقتصادی تھیوری ہے کہ جب کسی معاشرے میں بچت کا رجحان بڑھتا ہے تو ملک میں گردش کرنے والے سرمائے میں کمی آتی ہے جس سے افراط زر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے انٹر یسٹ انکم پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ابھی بھی  وقت ہے اس غلطی کو  درست کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح کمپنیاں جو منافع ڈیوڈنڈ کے طور پر ادا کرتی ہیں اس پر شیئر ہولڈر کو لگنے والے ٹیکس کی شرح کو بھی دس فیصد سے زیادہ نہ رکھا جائے۔ ورنہ لوگ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا کم کر دیں گے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کو اس وقت بچت اور سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا بچت اور سرمایہ کاری کی آمدنی پر لگنے والا ٹیکس ہمیں کم سے کم رکھنا چاہیے۔ چند کروڑ کے ٹیکس کی خاطر ہمیں ملک میں بچت اور سرمایہ کاری کے رجحان کو دھچکا نہیں لگانا چاہیے۔ 
بجٹ میں مکانوں اور پلاٹوں کی خریدو فروخت پر جو ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کی ہیں میں ان کی تائید و حمایت کرتا ہوں۔ پراپرٹی میں کھیلنے والے اشخاص ہماری حقیقی معیشت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے پھر بھی کثیر منافع کماتے ہیں اور اس پر جائز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے۔
اب میں ایک اہم مسئلے کی طرف آتاہوں۔ حکومت کا اگلے سال کا اخراجات کا تخمینہ7036 ارب روپے جبکہ مجموعی آمدن صرف6716 ارب ہے۔ میں نے کافی غور سے بجٹ کا مطالعہ کیا ہے مجھے وہاں پرائیوئزیشن کی مد میں کوئی آمدنی نظر نہیں آتی۔ حکومت کیوں اپنی کمپنیوں کو اور خاص کر نقصان دکھانے والی کمپنیوں کو بیچنا نہیں چاہتی مجھے تو تعجب ہے کہ آئی ایم ایف بھی حکومت کو مجبور نہیں کررہا کہ وہ نقصان میں جانے والی کمپنیوں سے جان چھڑائے۔  میرے اندازے کے مطابق کم از کم ایک سو ارب روپے ایک سال میں چند بڑی کمپنیوں کی فروخت سے آسکتے ہیں۔ حکومت کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ احتیاط صرف اس بات کی ہونی چاہیے کہ یہ کمپنیاں اپنے اپنوں میں نہ بانٹ دی جائیں۔
بجٹ کے مطابق حکومتی اخراجات میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود ہے جو2982 ارب روپے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قرضے میں غیر ملکی قرضہ بھی شامل ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی کی وجہ سے ان بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم بہت بڑھ گئی ہے۔ جب یہ بجٹ پیش کیا گیا تھا ڈالر148 روپے کا تھا اب157 روپے کا ہوچکا ہے۔ گویا سود کی ادائیگی کی اصل رقم2982 ارب سے بھی کہیں زیادہ بنے گی کیونکہ ڈالر تو مستقبل قریب میں ہی200 روپے تک پہنچتا نظر آتا ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سٹیٹ بینک سے قرض نہ لے۔ سٹیٹ بینک سے قرض لینے کا مطلب ہے نوٹ چھاپنا ۔ اب ظاہر ہے کہ حکومت اپنا مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے مقامی بینکوں سے ٹی بلز نیلام کرکے قرضہ لینا پڑے گا اس سے مجموعی قرضے اور سود کے حجم میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔
ہم اسحاق ڈار کو الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے روپے کی قیمت کو مصنوعی طور پر اوپر رکھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں ماضی سے کہیں زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ روپے کی قیمت میں استحکام پیدا کیا جائے۔ آئی ایم ایف کی شرائط اپنی جگہ مگر ہمیں اقتصادی خودکشی نہیں کرنی چاہیے۔ خدارا روپے کو مزید گرنے سے روکیں چاہے اس کے لئے مصنوعی طریقے ہی کیوں نہ اختیار کرنے پڑیں۔ ہمارے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ وہ روپے کو گرنے سے نہیں روک سکتے تو میری ناچیز رائے میں انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے تاکہ کوئی اور سمجھدار شخص آکر صورتحال کو سنبھال لے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ غیر ذمہ دارنہ بیان دے کر پاکستان کے مفادات کو شدید نقصان  پہنچایا ہے۔ اس پر ان کی باز پرس ضرور ہونی چاہیے۔
ایک تعجب کی بات یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے افراط زر میں اضافے اور معاشی شرح نمو میں واضح کمی کے باوجود سٹاک ایکسچینج انڈیکس بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ  ہے کہ حکومت نے 17 ارب روپے کا ایک فنڈ بنایا ہے جو سٹاک ایکسچینج میں شیئرز خریدنے میں مصروف ہے   اور مصنوعی طور پر حصص کی قیمتوں میں اضافہ لارہا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ سٹا ک ایکسچینج انڈکس میں مصنوعی طور پر اضافہ لانا کیوں جائز ہے اور روپے کی قیمت میں مصنوعی طور پر استحکام لانا کیوں ناجائز ہے۔
بجٹ پر اور بھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے وہ اگلی نشست میں سہی مگر ایک اور بات میں ضرور کہنا چاہوں گاکہ ہماری تمام اقتصادی بیماریوں کی جڑ ہمارے بیرونی قرضے ہیں جو ہمیں اس لئے لینے پڑتے ہیں کیونکہ ہماری درآمدات ہماری برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں۔ جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں کوئی بھی ایسی تجویز نہیں ہے جو ہماری ایکسپورٹس بڑھاسکے۔ میں اس کے بارے میں اگلے کالم میں زیادہ تفصیل سے لکھوں گا۔ ان شاء اللہ

تازہ ترین خبریں