09:19 am
پاکستانی معاشی استحکام اورامریکی پلان

پاکستانی معاشی استحکام اورامریکی پلان

09:19 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
وہ برطانیہ کامعاملہ تھا۔اب معاملہ امریکا سے  ہے۔یہ اس سے بھی دوہاتھ آگے ہے۔انہوں نے توجنگ ہارنے کے بعداپنے حلیفوں پرحملہ کیاتھا، امریکانے توسوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے فورابعدپہلی پابندیاں اپنے حلیف پاکستان پرلگائی تھیں جبکہ اس وقت تواسے افغانستان میں ایک عبرتناک شکست کاسامناہے۔اب وہ کیوں نہ پاکستان  پر اپنا غصہ نکالے گا؟
 
پاکستان نے2001ء میں جب امریکہ کا ساتھ دینے کافیصلے کیاتووہ دراصل امریکہ کاساتھ نہیں  تھا،وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قراردادکے پریشرسے مجبور تھا جسے چین نے پیش کیااوراسے سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ممبران کی پوری حمایت حاصل تھی،تاہم پاکستان کویہ بات بخوبی معلوم تھی کہ ایک دن یہ بات اقوام متحدہ کے بجائے اس کے اورامریکاکے درمیان قضیہ بن کرسمٹ آئے گی اوروہ دن بالآخرآگیا۔اسی دن کیلئے پاکستان نے اپنے تمام آپشنز امریکہ کے حوالے نہیں کیے اورآج طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے پاکستان کاسہاراہی لینا پڑا۔ 
آج پوزیشن یہ ہے کہ نہ وہ چین امریکہ کے ساتھ کھڑاہے،جس نے سلامتی کونسل کی قرارداد ڈرافٹ کی اورنہ ہی روس امریکہ کے ساتھ ہے ، جس نے سلالہ حملے کے بعدامریکہ کیلئے شمالی کوریڈورفراہم کیا۔اب حلیف بھی بدل چکے ہیں اورحریف بھی۔امریکہ کابے بھاؤتاؤیہ بتاناہے کہ   وہ ہزیمت کے اعلان سے پہلے پاکستان کوزک پہنچانے پرآمادہ ہے تاکہ اس کی مجروح انا کی تسکین ہوسکے لیکن امریکہ کیلئے یہ سب براہ راست کرنااگرناممکن نہیں توآسان بھی نہیں ہے۔امریکی پلان ایک پنتھ دوکاج کاہے کہ پاکستان کوبھارت سے یہ نقصان پہنچے تاکہ پاکستان کی سبکی بھی ہواوربھارت کوعلاقائی سپرپاورکاباقاعدہ درجہ بھی حاصل ہوجائے لیکن فروری میں پاک بھارت معرکہ ٔ آرائی جوپاکستان کوسبق سکھانے اورچین کومحدود کرنے کی پالیسی کااہم ترین حصہ تھا،اس میں امریکہ،اسرائیل اوربھارت کونہ صرف منہ کی کھانی پڑی بلکہ اس کے مستقبل کے سارے پلان پرپانی پھرگیا۔اب امریکہ نے نئے پلان کے مطابق بھارت کوحساس قسم کے ڈرون میزائل کے علاوہ دیگر جدیدترین اسلحہ فروخت کرنے کا اعلان کیاہے ۔
یادرہے کہ مودی نے پاکستان کے جارحانہ عزائم اوراس سے انتقام کے نام پر انتخابی مہم چلاکردوبارہ اقتدار حاصل کیاہے ۔مودی کے آئندہ عزائم کسی سے ڈھکے  چھپے نہیں، اس کی پہلی بھرپورکوشش ہوگی کہ وہ  بھارتی آئین میں کشمیرکی خصوصی حیثیت آرٹیکل 370کوختم کرکے کشمیرکوبھارت میں مکمل طورپر ضم کردیاجائے جس کیلئے انہوں نے اپنی نئی کابینہ میں 10جون 2019 کوگجرات کے مسلم کش فسادات  کے پلان میکرامیت شاہ کو وزیر داخلہ مقررکیاہے۔ بھارت کی سیاسی روایت یہ ہے کہ اپنے جانشین کووزیرداخلہ مقررکرکے پیغام دیاجاتاہے ۔ یاد رہے کہ یہ وہی امیت شاہ ہے جس نے  مودی کیلئے اس کے دس اہم سیاسی حریفوں کوقتل کروایاجس میں ایک جج بھی اس میں شامل ہے جس نے امیت شاہ کی بات نہیں مانی۔اس کے ساتھ ہی ’’را‘‘ کے شیطان صفت اجیت ڈوول کو پاکستان میں اپنے پروگرامزکوجاری رکھنے کیلئے پانچ سوملین ڈالرکابجٹ صرف پاکستان میں اپنے پروگرامزکوجاری رکھنے کیلئے مختص کرکے اسے بے پناہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ  مقبوضہ کشمیرمیں اسرائیل کی غزہ میں جاری انسانیت کش پالیسیوں کی طرح بزورطاقت نافذ کیا جائے گا۔
دریائے نیلم پر ایک نیا ڈیم جو شروع کیا جاچکا ہے جس کامقصدمظفرآبادمیں آنے والے پانی کومکمل طورپربندکیاجائے گا۔ دریائے کابل پرافغان حکومت کی مددسے پہلے ہی دوڈیم شروع کرنے کیلئے امدادکی شکل میں دوبلین ڈالرکی گرانٹ منظور ہوچکی ہے جس کوخفیہ اندازمیں امریکہ  اوراسرائیل اداکرے گا۔بلوچستان میں مزید دباؤ بڑھایاجائے گا جس کیلئے امریکی بیڑہ بظاہرایران کی طرف بڑھانے کااعلان کیاجاچکاہے لیکن امریکہ کبھی بھی ایران پرحملہ نہیں کرے گا‘ ایران صرف بہانہ ہے مگر پاکستان نشانہ ہے۔ اگربھارت امریکہ  اوراسرائیل ٹرائیکااپنے اس منصوبے میں صرف ایک سال کی تاخیرکرتاہے توپاکستان کوسی پیک پرنہیں روکاجاسکتااورنہ ہی کوئی دباؤکام آسکے گا۔  امریکہ ہرصورت میں افغانستان میں طالبان کو اقتدارسے دوررکھے گا اوریہ امن کے نام پر مذاکرات محض اپنے پلان کی کامیابی کیلئے وقت حاصل کرنا ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنے چارمضبوط ہوائی اڈوںکوکسی صورت میں چھوڑنے کیلئے تیارنہیںکیونکہ ازبکستان میں امریکہ کاسب سے  بڑافوجی اڈہ جس پراب تک کئی بلین ڈالرکی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، وہ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اوران ریاستوں میں دوہزاربلین ڈالرکاپٹرول امریکہ کسی بھی صورت میں محروم نہیں رہناچاہتا۔
پاکستان کواب اوربھی زیادہ چوکنا رہنا ہوگا بالخصوص بھارت کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کو ایسی کسی بھی خبرکو سرخیوں میں جگہ دینے سے گریزکرناہوگاجس میں بھارت میں کسی عسکریت پسند حملے کاذکرہونہ ہی ایسا کرنے والوں کو مجاہدین وغیرہ لکھاجائے۔بھارت نے جوبھی کرنا ہے اس سے قبل وہ گنگاہوائی جہازکے اغوا جیسا ڈرامہ ضرورکرے گاتاکہ اسے کسی فوجی اقدام کا جواز مل سکے۔اگرہم اس حوالے سے نہیں چوکے توبھارت کیلئے بھی کچھ کرنامشکل ہوگا نیزاپنے ہاں کسی بھی دہشت گردانہ کاروائی کے خلاف نیوکلیئرتنصیبات کی حفاظتی پیش بندی بھی نہایت اہم ہے۔پاکستان کیلئے یہ صورتحال غیر متوقع نہیں،تاہم یہ افسوس ضرورہے کہ ہم اپنی غیر سنجیدگی کے باعث خودکومعاشی طورپرمضبوط نہ کرسکے اورنہ ہی سیاسی طورپرمستحکم،اب بھی وقت ہے،سیاسی استحکام کوموقع ملناچاہیے۔یادرہے تالپوروں کی شکست میں یہ ایک بہت بڑاعنصرتھا۔

تازہ ترین خبریں