09:24 am
جبل استقامت محمد مرسی اور پی ٹی ایم کے کرتوت؟

جبل استقامت محمد مرسی اور پی ٹی ایم کے کرتوت؟

09:24 am

جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہو کر للکارتے ہوئے اعلان  کیا تھا کہ ’’ہم صرف اس کی عزت کریں گے‘ جو ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کی عزت کرے گا اور جو بھی  ان کی توہین کرے گا اس سے دشمنی رکھی جائے گی‘‘ مصر کے وہ سابق صدر محمد مرسی ڈکٹیٹر کی نام نہاد عدالت میں زندگی کی بازی ہار گے...صدر محمد مرسی کی زندگی ہی نہیں بلکہ موت بھی غیرت و حمیت کا استعارہ بن گئی‘ وہ عمر عزیز کی 67بہاریں گزار چکے تھے‘ میرے ابا جی دامت برکاتھم سے اگر کوئی پوچھتا ہے کہ حضرت آپ کی عمر کتنی ہے تو وہ مسکرا کر جواب دیتے ہیں کہ ’’سنت‘‘ عمر پوری کرکے اب تو ’’بونس‘‘ پہ زندہ ہوں...مطلب یہ کہ 63سالہ سنت عمر پوری ہوگئی ‘اب زندگی کے باقی سارے سانس ’’بونس‘‘ کے طور پر ہیں‘ یوں محمد مرسی بھی سنت عمر گزار کر بونس پر زندہ تھے ‘وہ مصر کے ایسے منتخب جمہوری صدر تھے کہ  جنہوں نے براہ راست عوام کے پچپن فیصد ووٹوں کے ذریعے حکومت حاصل کی تھی۔
 
 بدنام زمانہ دہشت گرد اور قاتل نریندر مودی کو گلے سے لگانے والے یہود و نصاریٰ اور منافقین‘ صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت الااخوان کی جمہوری حکومت  کو بھی برداشت نہ کرسکے‘ کیوں؟ شاید کہ اس مرد غیور نے قبلہ اول کی آزادی اور مظلوم  فلسطینیوں کی حمایت کرکے اسرائیل کو جو للکارا تھا‘ فرعون مصر جنرل السیسی کی عدالت نما کمین گاہ میں صدر  مرسی کا جان‘ جان آفرین کے سپرد کرنا‘اس بات کا اظہار ہے کہ جنرل السیسی کے فرعونی مظالم بھی اس مرد قلندر کے نظرئیے کو ختم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے‘ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین
اب بڑھتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف‘ منگل کے روز چھپنے والے کالم ’’سوشل‘‘ میڈیا پی ٹی ایم اور علماء کرام‘‘ میں اس خاکسار نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور دیگر لکھاریوں سے گزارش کی تھی کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پاک فوج کے خلاف غیروں کا آلہ کار بننے سے باز رہیں۔
الحمدللہ میری اس گزارش کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے‘ لاہور‘ کراچی اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے چار‘ پانچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے مجھے فون کرکے میری باتوں سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’’پشتون کارڈ‘‘ کو استعمال کرکے پاک فوج کے خلاف نفرتیں پھیلانے والی پی ٹی ایم کے ’’جنم‘‘ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر کراچی میں رائو انوار کے ہاتھوں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے جنازے کے بعد ’’پیدائش‘‘ کا جھانسہ دینے والی پی ٹی ایم کے قائدین سے کوئی پوچھے کہ فرحت اللہ بابر اور افراسیاب خٹک کا پختون قوم کے حقوق سے کیا تعلق بنتا ہے؟
جس وقت امریکہ نے سرحد پار کرکے قبائلی علاقوں پر 300 سے زائد ڈرون  حملے کرکے قبائلی بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کے جسموں کے پرخچے اڑائے‘تب صوبہ خیبرپختونخوا میں افراسیاب خٹک کی اے این پی کی حکومت تھی اور اسفندیار ولی سے لے کر افراسیاب خٹک تک ان ڈرون حملوں کے اعلانیہ حامی تھے۔جس وقت سوات میں قومی پرچم لہرانے کے نام پر وزیرستان سے لے کر سوات تک جنگ مسلط کی گئی...تب وفاق میں فرحت اللہ بابر کی پارٹی‘ پیپلزپارٹی کی حکومت تھی‘ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور آصف علی زرداری صدر مملکت تھے‘فوج نے ان کے حکم کے بعد وہاں آپریشن شروع کیا تھا‘  آج اگر پی ٹی ایم کی قیادت ان کی این جی اوز سے ڈالر لے کر پختون قوم کے حقوق کے خوشنما نعرے کی آڑ میں پاک فوج کے خلاف  مہم  چلائے گی تو یہ قوم اتنی بیوقوف بھی نہیں ہے کہ جو ’’پی ٹی ایم‘‘ کی ڈور ہلانے والوں کے مکروہ  چہروں کو نہ پہنچان  سکے۔
26مئی 2019ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے ’’خڑکمر‘‘ میں پاک فوج کی سیکورٹی چیک پوسٹ پر پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم )کی جانب سے کئے جانے والے حملے کے بعد سے وہاں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔
یقینا لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہونا چاہیے‘ لیکن سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیا تعلق؟ پھر شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں ہی پاک فوج کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی بلاسٹ کے ذریعے نشانہ بنا کر ایک حوالدار سمیت 3دیگر فوجی افسران کو شہید کرنا  کیا حب الوطنی کہلائے گا؟
اسلام حب الوطنی کا سبق سکھاتا ہے اور پشتون قوم ایک اسلام پسند قوم ہونے کے ناطے سب سے زیادہ محب وطن کہلائے جانے کی مستحق ہے‘ میں ان ہزاروں پختون خاندانوں سے ذاتی طور پر واقف ہوں کہ جنہوں نے اس ملک کی سلامتی اور سالمیت کے لئے اپنے پیاروں کی جانیں قربان کیں‘ پشاور سے لے کر سوات‘ درہ آدم خیل سے لے کر کوہاٹ‘ ھنگو‘ بنوں اور میران شاہ تک اس خاکسار کا سینکڑوں مرتبہ آنا جانا رہا۔
آج بھی قبائلی علاقوں میں میرے دوستوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے‘ لیکن میں نے ہمیشہ پختونوں کو حب الوطنی کے جذبات سے لبریز دیکھا‘ پرویز مشرف کے دور میں یقیناً امریکی دبائو پر ریاست سے بھی کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی جوکہ نہیں ہونی چاہئیں تھیں اور ان کا ازالہ بھی  ہونا چاہیے لیکن پی ٹی ایم میں اگر کوئی عقلمند ہے تو وہ اس بات کا جواب ضرور دے کہ رائو انوار جیسے وحشی قاتل کو  بہادر بچہ قرار دینے والے آصف علی زرداری کے فرزند دلبند بلاول زرداری نے پی ٹی ایم والوں کو بھی اپنا بچے کیوں قرار دیا تھا؟ یعنی ایک ہی وقت میں قاتل اور مقتول دونوں ’’بچے‘‘ کیسے ہوگئے؟ یعنی ’’قاتل‘‘ اگر زرداری  باپ کے لئے بہادر بچہ تو مقتول کے خون آلود کپڑے لہرا کر انصاف کا مطالبہ کرنے والے...بلاول جیسے بیٹے کے ’’بچے‘‘
یہ کیا ماجرا ہے؟ اس سارے ماجرے کا ایک پہلو  یہ بھی ہے کہ پشتون حقوق کا خود ساختہ نعرہ بلند کرکے لیڈری چکانے والوں کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بچے کچھے دہشت گرد اکٹھے ہو رہے ہیں‘ بلکہ ان کو اپنی دہشت گردی کی صلاحیت میں بھی اضافے کا موقع ملا ہے ‘پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستانی قوم ’’را ‘‘اور  اس کے ایجنٹوں کے ناپاک عزائم کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ)

تازہ ترین خبریں