09:25 am
مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

09:25 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس موقع پر ایک معزز وکیل نے سوال کیا کہ کیا ان بین الاقوامی معاہدات سے نکل کر ہم بطور ریاست اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں معاہدات سے نکلنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں کم از کم ان سے واقف تو ہونا چاہیے اور قوم کی راہنمائی کرنے والے طبقات بالخصوص علما کرام، وکلا، سیاسی راہنماں، اساتذہ، قوم کے نمائندوں اور میڈیا کے پالیسی سازوں کو پورے ادراک اور آگاہی کے ساتھ ان معاہدات کے ایسے حصوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جن پر اسلامی تعلیمات، قومی مفادات اور ملکی وقار کے حوالہ سے ہمیں تحفظات درپیش  ہیں۔ پھر ان تحفظات پر متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے گفتگو کرنے اور انہیں اپنے مسائل و مشکلات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کچھ عرصہ قبل جو بات کی تھی اور اب ترکی کے وزیراعظم  طیب اردگان وہ بات کر رہے ہیں، اسے منظم طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جبکہ علما کرام اور وکلا کو اس کا ماحول اور اس سلسلہ میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ کی اس نشست میں بعض محترم وکلا نے انتہائی اہم سوالات کیے جن کے جواب میں کچھ گزارشات میں نے پیش کیں۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 
ایک وکیل نے کہا کہ اسلام کے سیاسی نظام کے بارے میں کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کوئی کنفیوژن نہیں ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب خلافت کا نظام قائم ہوا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے نہ تو اقتدار پر طاقت کے بل پر قبضہ کیا تھا اور نہ ہی خاندانی استحقاق اور وراثت کے طور پر حکومت حاصل کی تھی‘ بلکہ انہیں حکومت کا حق امت کی اجتماعی صوابدید کی بنیاد پر ملا تھا، جس سے یہ بات طے ہوگئی کہ اسلام میں حکمرانی کا حق عوام کی اجتماعی صوابدید سے حاصل ہوتاہے۔
 اس کے ساتھ ہی حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ مطلق العنان حکمران نہیں ہوں گے بلکہ قرآن و سنت کے پابند ہوں گے۔ اس طرح اسلام کے سیاسی نظام کی دو بنیادیں واضح ہوئیں۔ ایک یہ کہ حکومت کی تشکیل عوام کی اجتماعی صوابدید پر ہوگی، اور دوسری یہ کہ حکومت و ریاست قرآن و سنت کے احکام کی پابند ہوں گی۔ میرے خیال میں اس کے بعد اسلام کے سیاسی نظام کے بارے میں کسی کنفیوژن کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ 
ایک وکیل محترم نے پوچھا کہ مسئلہ کشمیر کا آخر کیا حل ہو سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے کہ اقوام عالم اور بین الاقوامی برادری نے کشمیری عوام کا یہ حق تسلیم کر رکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے اور متعلقہ عالمی طاقتوں اور اداروں کو کشمیری عوام کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ بہرصورت پورا کرنا چاہیے۔ 
ایک وکیل نے سوال کیا کہ امریکہ جب افغانستان سے نکلنے کی بات کر رہا ہے تو افغان طالبان اس کے لیے تعاون کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے عرض کیا کہ امریکہ وہاں سے نکلنے سے پہلے افغان طالبان سے اس حکومت کو تسلیم کرانا چاہتا ہے جوکہ اس نے کابل میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں طاقت کے زور سے قائم کر رکھی ہے۔ افغان طالبان یہ بات نہیں مان رہے اور انہیں یہ بات تسلیم نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ اگر امریکہ اپنی مسلط کردہ حکومت کو تسلیم کرا کے افغانستان سے جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر افغانستان میں موجود رہنا چاہتا ہے جو افغانستان کی قومی خودمختاری کے منافی ہے۔ اس لیے افغان طالبان کا موقف اس حوالہ سے بالکل اصولی اور درست ہے کہ امریکی اتحاد کی فوجیں افغانستان سے غیر مشروط طور پر نکلیں اور افغانستان کے عوام کا یہ حق تسلیم کریں کہ ان کے تمام طبقات باہم مل بیٹھ کر کسی دبا اور مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ 
محترم وکیل  نے سوال کیا کہ جب کابل کی موجودہ حکومت افغانوں کی ہی ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے؟ میں نے گزارش کی کہ سری نگر کی موجودہ حکومت کشمیریوں کی ہی ہے اور بظاہر عوام کے ووٹوں کے ذریعے آئی ہے، اگر بھارت کی حکومت آپ سے کہے کہ آپ سری نگر کی موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیں تو وہ کشمیر سے فوجیں واپس لے جائے گا تو کیا آپ اس پیشکش کو قبول کر لیں گے؟ میرے خیال میں دونوں کا مسئلوں کا یہی ایک حل ہے کہ بیرونی افواج وہاں سے نکلیں اور ان خطوں کے عوام کو مکمل آزادانہ ماحول میں اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ مسلط قوتوں کے نمائندوں کو حکمران تسلیم کر لینے کے بعد ان کے تسلط کا ظاہری خاتمہ کوئی معنی نہیں رکھتا، یہ نوآبادیاتی نظام کی ایک تبدیل شدہ شکل ہے جس کا عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں ہمیں مسلسل سامنا ہے، اور یہ صورتحال حریت پسندوں سے آزادی کی ایک نئی جدوجہد کا تقاضہ کر رہی ہے۔ 

تازہ ترین خبریں