09:26 am
حکومت کی اپنے ہی بجٹ کے خلاف ہنگامہ آرائی

حکومت کی اپنے ہی بجٹ کے خلاف ہنگامہ آرائی

09:26 am

٭عمران خان کا اپوزیشن کے خلاف اعلان جنگ، آصف زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیا جائے، سپیکر کو حکمO حکومتی ارکان کا بجٹ پر بحث نہ ہونے دی، سپیکر کا گھیرائوO سندھ حکومت کا ’’ٹیکس فری‘‘ بجٹ، 43 ارب کے نئے ٹیکس! O وزیراعظم نے تقریر میں نامناسب الفاظ استعمال کئے، فردوس عاشق اعوانO اڈیالہ جیل: آصف زرداری کے لئے خصوصی کمرہ، اعلیٰ رعائتیں O بی این پی کے بعد ایم کیو ایم کی بلاول سے ملاقاتیں O پاکستان کرکٹ ٹیم میں پھوٹ، آپس میں لڑ پڑے O چند روز میں مزید اہم گرفتاریاں!! O بنگلہ دیش کی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی O شہباز خاندان کے فرنٹ مین مشتاق چینی کے سنسنی خیز انکشافات۔
٭ساری خبریں گرما گرم۔ لگتا ہے عمران خان سخت گھبرا گئے ہیں عجیب سا اعلان جنگ جاری کیا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے، کرپشن کے خلاف اکیلا لڑوں گا۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو واضح ہدائت کی ہے کہ آصف زرداری وغیرہ کو اسمبلی میں لانے کا آرڈر جاری نہ کیا جائے۔ سپیکر نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے پروڈکشن آرڈر کا انکار کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے مزید اعلان کیا ہے کہ اسمبلی میں مجھے تقریر نہیں کرنے دی گئی تو اپوزیشن کو بھی تقریر نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس پر شہباز شریف کی تقریر پر حکومتی ارکان نے ہنگامہ اور سپیکر کا گھیرائو کر لیا! ملک کی تاریخ کا پہلا افسوس ناک واقعہ ہے کہ خود حکومت بجٹ پر بحث کے راستے میں رکاوٹ بن گئی ہے! عمران کا رویہ مدبر سیاسی دانش ور کی بجائے پہلوانوں کے کسی اکھاڑے والے پہلوان کا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے عالم میں کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے بھائی میاں نوازشریف کی ہدایات کے برعکس اسمبلی میں سپیکر کے شکریے کے ساتھ بجٹ پر تقریر کرنے آگئے تھے جس کی پاداش میں نوازشریف نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے شہباز شریف کی جگہ اپنی بیٹی مریم نواز کو مسلم لیگ کی قیادت سونپ دی ، مریم نواز نے بلاول کو جاتی عمرا میں مذاکرات کے لئے بلا لیا اور پارٹی کے صدر شہبازشریف کو نظر انداز کر دیا۔ عمران خان کو چاہئے تھا کہ تدبر اور حوصلہ مندی کے ساتھ شہباز شریف کے ساتھ مراسم کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے برعکس احکام جاری کر دیئے اور خود حکومتی ارکان نے سپیکر کا گھیرائو کر لیا! حکومت خود اپنے ہی بجٹ کی مخالفت پر اتر آئی۔ اس کا اثر کیا ہوا کہ بلاول اور مریم کے بجٹ منظور نہ ہونے دینے کے اعلان میں شہباز شریف بھی شریک ہو گئے! اور دوسری طرف اتحادی پارٹیوں نے رخ بدل لیا ہے بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) تو کھلم کھلا منہ پھیر کر اپوزیشن کی صف میں جا کھڑی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم نے پورا منہ تو نہیں پھیرا، البتہ نظریںضرور پھیرلی ہیں۔اسمبلی کے ایوان میں ہی تحریک انصاف کے سامنے بلاول زرداری کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیئے جوکہ دیر تک جاری رہے۔ تیسری پارٹی ق لیگ نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کری ہیں۔ عمران خان نے ق لیگ کے چودھری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو وزیربنانے کا وعدہ پورا نہیں کیا، اس پر پرویزالٰہی بپھر رہے ہیں۔
 اب ذرا تحریک انصاف کی اتحادی پارٹیوں کا مختصر جائزہ! قومی اسمبلی کی 342 نشستیں ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس 178 نشستیں ہیں ان میں سے 21 نشستیں اتحادی پارٹیوں کے پاس ہیں۔ ان کی تفصیل یوں ہے۔ ایم کیو ایم '7'، ق لیگ '5'، بلوچستان عوامی پارٹی '5'، جی ڈی اے '3' (پیرپگاڑا گروپ) اور عوامی لیگ '1'۔ اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت کی باقاعدہ اتحادی پارٹی نہیں مگر اس کی حمائت کرتی رہی ہے۔ وہ حمائت سے ہٹ جائے تو حکومت پھر بھی برقرار رہ سکتی ہے مگر ایم کیو ایم کی سات نشستیں ہاتھ سے نکل جائیں تو حکومت ختم ہو جائے۔ ق لیگ کی مزید پانچ نشستوں کا نقصان حکومت پر مزیدکاری وار ثابت ہو گا۔ ایسے حالات میں دانش مند حکومتیں انتہائی تدبر اور مصالحانہ دانش کا مظاہرہ کرتی ہیں، ناراض لوگوں کی شکائتیں دور کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے ناجائز مطالبات بھی تسلیم کرنا پڑتے ہیں۔ نوازشریف کی حکومت نے کس طرح ایک اتحادی پارٹی کا دبائو قبول کیا۔ محض چند ارکان کو دو وزارتیں، سینٹ کی ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ، کشمیر کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی صدارت پارٹی کے سربراہ کو وزیر کا عہدہ، اعلیٰ بنگلہ، متعدد اعلیٰ کاریںاور کروڑوں کے فنڈز دینے پڑے۔ یہ صریح بلیک میلنگ تھی جوکہ اب بھی سامنے آ رہی ہے۔ ق لیگ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں وزارتیں لے چکی ہے، اب مونس الٰہی کی وزارت کا تنازعہ اٹھا دیا ہے۔ ان باتوں سے حکومت کا تخت لرز رہا ہے مگر کسی مفاہمت کا مصالحت کی بجائے کھلم کھلا للکارے مارے جا رہے ہیں۔ سمجھداری کا تقاضا تھا کہ کسی طرح مخالفت برداشت کر کے بجٹ منظور کرا لیا جائے مگر بالکل برعکس مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
٭مگر دوسری طرف اپوزیشن کی وطن سے محبت!سرحدوں پر دشمن کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہے اور اپوزیشن ہر حالت میں حکومت کو گرانے کے لئے ہر قسم کے حربے اختیار کر رہی ہے۔ پہلا اور بہت موثر حربہ بجٹ کی منظوری روکنے کا ہے۔ ان لوگوں کو احساس نہیں کہ بجٹ منظور نہ ہوا تو اس کے کیا خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ فوج سمیت لاکھوں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ،تمام ترقیاتی، غیر ترقیاتی منصوبے رک جائیں گے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی نہیں ہو سکے گی، ملک شدید مالیاتی بحران اور عدم اعتماد کا شکار ہو جائے گا اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ موجودہ حکومت کے گرنے اور بجٹ ناکام ہو جانے سے ملک کے ساتھ کیا بیتے گی؟ ان لوگوں کا اصل مقصد ہے کہ کسی طرح مریم نواز کے والد نوازشریف اور بلاول کے والد آصف زرداری قانون کے شکنجے سے باہر نکل آئیں۔ ایسے حالات میں ٹھنڈے دماغ سے کام لینے کی بجائے وزیراعظم کے بھڑکتے ہوئے للکارے! اللہ تعالیٰ اس عظیم ملک پر رحم فرمائے۔ سیاست دانوں کی ایسی ہی حرکتوں کے باعث بار بار فضا میں خاکی رنگ اُبھرنے لگتا ہے، بھاری بوٹوں کی دھمک اور ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کی آواز گونجنے لگتی ہے…مگر…مگر پھریہی سیاست دان بھاری بوٹوں کے حاشیے پر بیٹھ جاتے ہیں۔
٭پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی شرمناک کارکردگی! اور اب آپس میں کھلم کھلا جانوروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ اس ٹیم کی عبرتناک شکست پر پاکستان میں سوگ کا عالم ہے اور بھارت میں جشن منایا جا رہاہے۔ کرکٹ کے بھارتی ہیرو ٹنڈولکر نے تبصرہ کیا ہے کہ پاکستان کے کپتان کو یہ علم نہیں تھا کہ فیلڈر کہاں کھڑے کرنے ہیں! اور اب! ٹیم کے کپتان سرفراز کی دیوانگی! خود کیچ چھوڑ دیئے، کئی بار گیند کو نہ روک سکا، خود پانچ اووروں میں صرف 11 رنز بنائے اور ہوٹل میں اپنے کھلاڑیوں حسن علی، وہاب ریاض اور امام الحق پر برس پڑا۔ تمام سینئر کھلاڑی اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر ایک دوسریے پر برہم ہو گئے۔ 
  ان باتوں سے قطع نظر اہم بات کہ پاکستانی ٹیم کا ضابطہ مقرر ہے کہ رات کو گیارہ بجے کے بعد لازمی طور پر ہوٹل میں موجود ہونا چاہئے، پھر شعیب ملک، اس کی بیوی، امام الحق اور دوسرے کھلاڑی رات دو بجے تک ایک شیشہ کیفے میںکیوں موجود تھے؟ باقی کھلاڑی رات بھر ایک تاجر کے گھر پر رات بھر موج مستی کرتے رہے! ٹیم کا منیجر کہاں تھا؟ بہت اہم بات کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق چھوٹے بچوں کو شیشہ والے کیفے میں لے جانے کی اجازت نہیں۔ وہاں اندر شیشہ کازہریلا دھواں بھرا ہوتا ہے، مگر شعیب ملک اور اس کی بیوی اپنے چند ماہ کے بچے کو وہاں لے گئے! اس پر دونوں کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان ہے۔ غضب خدا کا! پاکستان کرکٹ بورڈ: ساڑھے چھ ارب سالانہ کا بجٹ، لاکھوں روپے ماہوار والے بے شمار اعلیٰ افسر، غیر ملکی کوچوں کو لاکھوں روپے ماہوار کا معاوضہ، تقریباً 35,30 کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے ماہوار کی تنخواہیں، عہدیداروں کے بے تحاشا غیر ملکی دورے! چیف سلیکٹر ٹیم کو مشور دینے کے لئے ایک ماہ پہلے ہی لندن میں ٹیم سینکڑوں میل دور اپنے خاندان میں پہنچ گیا۔ ٹیم کے سارے ارکان کسی تعلیم سے بے بہرہ اور اب آپس میں لڑ رہے ہیں۔!

تازہ ترین خبریں