08:06 am
اک  چراغ  اور بجھا اور بڑھی تاریکی

اک  چراغ  اور بجھا اور بڑھی تاریکی

08:06 am

 رازی صاحب پر اللہ کی رحمت  ہو ابھی کل کی بات ہے ،ایکسپریس میڈیا گروپ کے افطار ڈنر  میں کاظم اور میرے ساتھ انکی محبتوں بھری چھیڑ چھاڑ  چل رہی تھی۔ہم دونوں نے رازی صاحب سے پوچھے بغیر انکی طرف سے اگلے روز کی افطاری کا اعلان کر  کے دیسی مرغی کا مینو بھی جاری کر دیا  مگر  اعجاز الحق صاحب کی واپس کراچی روانگی کے سبب یہ  پروگرام کینسل کرنا پڑا۔ایسے بے شمار کام تھے جو ہم رازی صاحب سے پوچھے بغیر ان کے کھاتے میں ڈال دیتے تھے اور بڑا  ہونے کے ناطے وہ  انہیں قبول کر لیتے تھے۔مجھے اور ایاز خان صاحب کو لگتا تھا کہ ہمارے ساتھ نوائے وقت کے پرانے رشتے کے سبب ان کا پیار زیادہ ہےمگر انکی وفات کے بعد محسوس ہوا ،ہم دونوں کا  پیار تو کسی شمار میں ہی نہیںوہاں تو پیار کرنے والے سینکڑوں ہزاروں میں ہیں۔گزشتہ جمعہ کی رات گئے ،اوصاف کے آرٹ ایڈیٹر بابر کا  وائس میسج مجھے  موصول ہوا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ،میں نے رازی صاحب کے
 
 عزیز اور اوصاف کے ڈیزائنر عثمان کو فون کیا تو وہ بھی ابھی لاعلم تھے۔میں نے یہ  سوچتے ہوئے کہ  یہ خبر غلط ہوگی ،رازی صاحب کے موبائل فون پر رنگ کی ،گھنٹی بار بار بجنے کے بعد خاموش ہو گئی تو میں نے رازی صاحب کے برادر نسبتی برادرم خضر گوندل کو فون کیا تو انہوں نے روتے ہوئے فون سنا تو تصدیق ہو گئی کہ وہ اپنے اللہ کے پاس جا چکےہیں۔میں ان کے گھر پہنچا  تو آنے والے یہ یقین کرنے کو تیار نہ تھے کہ رازی صاحب نہیں رہے۔ رحمت علی رازی صاحب  کو مرحوم و مغفور لکھتے ہوئے  کلیجہ منہ کو آتا ہے، ان کے ساتھ طویل  پیشہ وارانہ  رفاقت رہی، دوستانہ  سے زیادہ  برادرانہ تعلقات رہے،  ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا،  شعبہ صحافت  میں نئے آنے والوں کیلئے وہ ایک شجر سایہ دار تھے۔مجیب الرحمٰن  شامی صاحب   اسی لئے  انہیں  صحافت  کا ’’امام رازی‘‘  لکھا ہے۔رحمت علی رازی  سیکرٹریٹ، بیوروکریسی کی بیٹ کے گل سرسبز تھے، مجھے سیاسی رپورٹنگ سے بیوروکریسی کی رپورٹنگ  کی طرف بھی انہوں نے مائل کیا ۔ مرحوم نے جب پیشہ صحافت کا آغاز کیاتب نہ صرف صحافتی امور  کی انجام دہی  کچھ آسان کام نہ  تھا بلکہ معاشی حالات  بھی ناسازگار، معمولی تنخواہ میں دن بھر دفاتر  میں حاضری،  افسروں سے ملاقاتیں، تقاریب میں شرکت اور پھر بروقت  خبریں دفتر  کو فراہم کرنا کار  در د تھا مگر رحمت علی رازی  نے بڑے وقار ، احترام اور عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ چو مکھی جنگ لڑی۔اپنی بیٹ میں بھی مرحوم  و مغفور عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے نوائے وقت  کیساتھ  لمبا عرصہ گزارنے کے بعد روزنامہ جنگ  سے وابستہ ہوئے اور پھر دم آخر تک  روزنامہ  طاقت کے مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔  نوائے وقت سے وابستگی  سے قبل بھی کچھ    اداروں  سے انکی  وابستگی  رہی اور ’’جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے‘‘  کے مصداق  جہاں بھی رہے پورے  طمطراق کے ساتھ  رہے ادارہ سے علیحدگی  اختیار کی تو ساتھیوں کے دل و ذہن  میں  نہ بھولنے والی یادیں چھوڑ کے آئے۔جرات  کے مالک اور مدیر اعلیٰ جمیل اطہر قاضی  صاحب  کے ساتھ انکی محبت بھی دیدنی تھی اسی ادارے سے انہوں نے ابتدا کی ،تعلق کا عالم یہ رہا  کہ  روزنامہ جرات اور دی بزنس کے ایڈیٹر  عرفان اطہر قاضی  انکے ہاتھوں میں کھیلے۔  ’’درون پردہ‘‘  ان کی زندگی  کیسی گزری بہت کم لوگ اس سے آگاہ ہیں ، جس  قلندرانہ طریق  سے مرحوم نے پیشہ وارانہ  زندگی  بسر کی اسی درویشانہ  انداز میں خانگی  زندگی  بھی گزاری  مگر  نفاست  کو قائم رکھا ، مرحوم نے زندگی کا طویل عرصہ رپورٹنگ  کرتے گزارا مگر اس کے ساتھ ’’درون پردہ‘‘ کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتے رہے، ان کے کالم عموماً  اچھے شعروں   سے مزین ہوتے تھے اور اس خوبصورتی سے ان کا استعمال کرتے کہ  شعر  کے ساتھ ایک   پوری فلم  ہی قاری کے پردہ ذہن پر چلنے لگتی، اگر کہا جائے کہ مرحوم ایک دبنگ، طرحدار، وضعدار، مہمان نواز اور صلح جو انسان تھے تو غلط نہ ہوگا۔رحمت علی رازی  نے کمرشل صحافت کے دور میں زوربازو  سے ’’طاقت‘‘ کے نام  سے روزنامہ متعارف کرایا اور وسائل کی کمی کے باوجود وہ اس چھوٹے سے ادارے  کو کامیابی سے قدم بقدم آگے بڑھاتے رہے جو ان کی الوالعزمی کا بین ثبوت ہے سچ  یہ ہے کہ وہ محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین و فطین انسان اور صحافی تھے، اپنی    انہی خصوصیات اور خوبیو ں کے باعث   اخباری  مالکان  اور ایڈیٹرز  کے دونوں اداروں   اے پی این ایس اور سی پی این ای  کے روح رواں رہے۔ رازی  صاحب ذہانت، فطانت اور علم و 
ہنر  میں تو یکتا و یگانہ  تھے ہی مصیبت زدہ   ساتھیوں، بیروزگار صحافیوں اور نوآموز قلمکاروں کیلئے رحمت بھی تھے، مطالعہ  کے انتہائی دلدادہ تھے مرحوم قدیم و جدید لکھاریوں  کی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتے  تھے، کتابیں نہ  صرف خریدتے   بلکہ کتب بینی  کیلئے    گوناں گوں مصروفیات  سے وقت بھی  نکال لیتے تھے، جونیئر صحافیوں کو شفیق لہجے  میں مطالعہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔مرحوم  ایک دبنگ شخصیت کے مالک تھے اپنی بات کہنے اور سننے والوں کو قائل کرنے کے سلیقہ سے بخوبی آشنا تھے، ٹھوس دلیل کے ساتھ بات کرتے مگر مختصر، طویل  تمہید باندھنے  کے بجائے سیدھی اور کھری بات کرنے کے عادی تھے، ان کی وفات  حسرت  آیات شعبہ صحافت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے کہ پیدائشی اور فطری صحافیوں  کا قبیلہ کم سے کم تر  ہوا جاتا ہے، رحمت علی رازی  کی موت سے شعبہ صحافت میں پیدا ہونے والا خلاء  شائد مدتوں پر نہیں ہوسکے گا کہ ان جیسے نفیس انسان مدتوں بعد جنم لیتے ہیں اور اپنے ہم عصروں کے دل و دماغ میں ایک عرصہ زندہ رہتے ہیں۔ رازی صاحب   نے  جن لوگوں کے ساتھ صحافیانہ خدمات انجام دیں یا جن لوگوں نے ان کے ساتھ کوچہ صحافت  کی سیر کی وہ انہیں مدتوں فراموش نہیں کرسکیں گے، مرحوم کی ذات  شفافیت  کامرقع تھی، سچائی، دیانتداری ان کی شخصیت کا خاصہ تھا، ایک اکل کھرے انسان کی حیثیت سے جو بات سچ ہوتی اسے کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کرتے خواہ انہیں اس کی کتنی ہی کیسی ہی قیمت  چکانا پڑتی، مگر دریغ کبھی ان کی طبعیت میں نہ آتا تھا، اس حوالے سے   مرحوم نے ایسی روایات قائم کیں جو نہ صرف قابل تحسین بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔ان   کاشمار گنتی کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مواقع میسر ہونے کے باوجود مراعات کا حصول اپنی زندگی  کا مقصد نہ بنایا،  محنت پر یقین نے ان کو انسانوں کی بھیڑ میں  منفرد مقام عطا کیا اور ان کا دامن ہر قسم کی بے اصولی سے محفوظ رہا،   مرحوم چونکہ  دیہاتی کلچر سے تعلق رکھتے تھے اس لئے سادگی آخر دم تک ان کا حسن رہاوہ ایک مرنجان مرنج شخصیت رہے اور دوستوں  کے مخصوص حلقہ میں لطیف گفتگو کی وجہ سے خاصے   ہر دلعزیز تھے۔سچ یہ ہے کہ رحمت علی رازی  صاحب اس دور پر فتن میں غنیمت تھے، اللہ پاک ان کی قبر کو وسعت دے، ٹھنڈک دے اور اپنی رحمت کی بارش فرمائے،    ان کے درجات کو بلند فرمائے، حقیقیت یہ ہے کہ شعبہ صحافت  ان کے جانے سے  ایک عرصہ ویران و تاریک رہے گا،اک  چراغ  اور بجھا اور بڑھی تاریکی۔
  

تازہ ترین خبریں