08:07 am
بجٹ  میں بہتری کی چند تجاویز 

بجٹ  میں بہتری کی چند تجاویز 

08:07 am

 وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے کہ عوام زیادہ سے زیادہ ٹیکس ادا کریں تا کہ حکومت ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکے اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئر مین شبر زیدی کو ایک چیلنج کی حیثیت سے چیئرمین ایف بی آر کی ذمہ داری سونپی گئی شبر زیدی پرائیویٹ سیکٹر کے اندر ایک بہت بڑا نا م ہیں کئی اداروں کے سربراہ رہے ہیں اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ 
 
چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ادارے کے اندر نئی اصلاحات لائیں تاکہ عوام از خود ایف بی آر کے دفاتر سے رابطے کریں ایف بی آر کو عوام دوست ادارہ بنایا جائے اس کا خوف عوام کے اندر ختم کیا جائے بر وقت ٹیکس کی ادائیگی کی افادیت سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ بجٹ تیار کرتے وقت وزیر اعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی تھی کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔وزیر اعظم عمران خان نے غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی ہے جبکہ انکے وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک حیر ت انگیز بیان سامنے آیا ہے کہ پنجاب کے امرا  ء کو سہولت دینے کے لیے لگژری کاروں پر ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان کو ریلیف مل سکے ۔ 
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ذہن میں رکھیں کہ عوام دوست حکمران نہ صرف تاریخ میں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اورعوام دوستی یہ نہیں کہ آپ امرا کا خیال کریں آ پ کو چاہیے کہ لگژری گاڑیوں کی درآمدگی کی حوصلہ شکنی کریں اوران پر ایک ہزار فیصد ٹیکس عائد کریں ۔عثمان بزدار کوئی بھی بات کرنے سے قبل اس کے عواقب و عوامل پر ضرور غور کر لیا کریں ،انہیں چا ہیے کہ وہ تمام درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کئی سو گنا اضافہ کریں اس سے ملکی سطح پر تیار کی گئی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا جبکہ شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کے رش بھی کم نظر آئیں گے اس کے ساتھ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر پر بھی کم بوجھ پڑے گا ۔ حکومت کی خدمت میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں اگر حکومت قومی آمدنی میں اضافہ چاہتی ہے تو تفریحی ٹیکس میں اضافہ کرے جن میں پارکوں میں داخلے کے ٹکٹ ، ریلوے میں فرسٹ کلاس کے ٹکٹوں پر ایک سو روپے فی ٹکٹ پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ اسی طرح ہوائی جہاز کی بزنس کلاس کے ٹکٹوں پر اضافی ٹیکس لاگو کرے نیز سڑکوں کے کناروں اور فٹ پاتھ پر بیٹھے غذائی اجناس جیسے بریانی ،نان چھولے فروخت کرنے والوں سے ایک سو روپے یومیہ فکس ٹیکس وصول کرے اور ٹیکس دینے والوں کو پھر کسی ادارے کے ملازم یا اہل کار تنگ نہ کریں ،نیز وقتی طور پر ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی والوں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا جائے نیز بیوریج پر ہر بوتل پر ایک روپیہ ٹیکس عائد کیا جائے ،جن اشیا ء کے بغیر زندگی گزاری جا سکتی ہے ان پر کچھ نہ کچھ ٹیکس عائد کیا جانا چاہیئے جبکہ ضروریات زندگی کی قیمتوں میں کمی آنی چاہیئے اس طرح عوام پر زندگی جبر مسلسل نہیں رہے گی بلکہ وہ زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں گے ۔
 دوسری طرف بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پر تنقید جاری ہے قومی اسمبلی میں بجٹ پر 1بحث کی جا رہی ہے تاکہ اسے منظور کیا جا سکے اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اسمبلی سے بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے بجٹ میں بعض معاملات پر تبدیلی کی گنجائش ہے ۔حقیقت یہ کہ کہ بجٹ بنانے والوں کو بجٹ سازی سے پہلے ایک سروے کرانا چاہیے کہ ملک میں غریب عوام کی طلب کیا ہے اور ان کی طلب کو دیکھتے ہوئے ان تمام اجناس کو اول تو ٹیکس سے مبرا رکھا جائے اور اگر ایسا نا ممکن ہو نہ تو پھر بھی اتنا کم ٹیکس عائد کیا جائے کہ غریب عوام ان اجناس سے محض قیمت میں اضافے کی بنا پر محروم نہ ہوں ۔ جو حکومت ایسا سوچتی اور کرتی ہے وہی عوام کے دلوں پر راج کرتی ہے اور جو حکومتیں عوامی ضروریات کا خیال نہ رکھیں تو صرف دیانت داری ہی عوام کے دلوں پر راج کرنے کے لیئے کافی نہیں ہوتی کیونکہ عوام دیانت داری کے ساتھ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حکومت نے انکو کیادیا ہے اور کیا چھین لیا اگرحکومت عوام سے کھانے پینے اور جینے کا حق چھین لے وہ خواہ کتنی ہی دیانت دار ی کا مظاہرہ کیوں نہ کرے عوام اس سے بیزار ہی ہوتے ہیں لہذا وزیر اعظم عمران خان اس بجٹ پر نظر ثانی کریں اور مرغی کو گوشت اور دالوں پر ٹیکس ختم کر کے عوام کے دلوں میں جگہ بنائیں ۔
وزیر اعظم عمران خان سے پاکستانی عوام ابھی مایوس نہیں ہوئے عوام ابھی تک وزیر اعظم عمران خان سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں عوام کے اندر امید کی کرن زندہ ہے کہ عمران خان ملک کے اندر معاشی حالت میں بہتری لانے کے لیے اپنی تمام تر کاوشیں بروئے کار لائیں گے اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہو گا۔ مہنگائی اور غربت کا خاتمہ ہو گا ۔

تازہ ترین خبریں