08:09 am
بھارت‘ متشدد ہندتوا اور سیکولر ہندو ازم کشمکش

بھارت‘ متشدد ہندتوا اور سیکولر ہندو ازم کشمکش

08:09 am

ہم بھارت میں سیکولر ازم‘ پلورل ازم‘ لبرل ازم کے خاتمے اور ہندو ازم کے سماجی و معاشرتی متشدد اسلوب کو ریاستی فیصلہ ساز بننے تک پر بحث کر رہے ہیں۔ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ ماضی بعید میں برصغیر مسلمان بادشاہوں سے قبل متعدد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ راجے‘ مہاراجے حکمران تھے۔ ادیان‘ قبائل‘ تہذیبوں‘ ثقافتوں کی الگ الگ دنیا تھی۔ یہ صرف مسلمان فاتحین اور پھر بادشاہ بننے والے ہی تھے جنہوں نے اپنا دین محکوم ریاستوں میں جبراً نافذ نہ کیا بلکہ اپنی بیورو کریسی‘ فوج اور کابینہ میں ہندو سماج کی نمایاں شخصیات کو خوشی سے وافر حصہ دیا۔ یوں برصغیر میں صرف مسلمانوں نے وفاقیت‘ اجتماعیت اور انسانیت نوازی‘ رواداری‘ تحمل و برداشت کے اصول نافذ کئے۔ تغلق کا عہد حکومت دیکھ لیں۔ ہر دین اور مسلک پر پابندی تھی کہ اس کے مذہبی جلوس‘ اجتماع‘ بازاروں یا کھلی جگہوں پر ہرگز سامنے نہیں آئیں گے بلکہ اپنے گھروں‘ حویلیوں‘ مذہبی عبادت گاہوں کے اندر موجود رہیں گے تاکہ کسی ایک دین یا مسلک کے سیاسی اور ثقافتی پہلو سے کسی دوسرے دین یا فرقے یا تہذیب و ثقافت کو اعتراض ہو نہ ہی سماجی اشتعال و جنون کا راستہ بنے۔ یہ اصول مسلمانوں اور ان کے تمام مسالک پر ہندوئوں پر بھی‘ سب پر یکساں نافذ تھا۔ ریاست ہی پر دین کی عبادت گاہوں اور تعمیر و انتظام و انصرام اور درکار مالی معاملات کا بندوبست کرتی تھی۔ سلطان تغلق ہوں یا مغل بادشاہ ہوں‘ شیر شاہ سوری ہو یا شہاب الدین غوری اس اصول کو سب نے اپنایا۔ موجودہ کرناٹک ( میسور) سے وابستہ سلطان ٹیپو کا عہد حکمرانی ہندوئوں کے لئے اتنا ہی مفید اور خیر خواہ تھا جتنا مسلمانوں کا‘ جو لبرل ازم‘ سیکولر ازم انسانیت نوازی ہندوئوں کو سلطان ٹیپو نے میسور یعنی موجودہ کرناٹک میں دی اس کی بنیاد پر ہی ہندوئوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا رہا ہے کہ سلطان ٹیپو کو کرناٹک کا ہیرواور ثقافتی حکمران مانا جائے۔ یہ تحریک مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندوئوں نے اٹھائی تھی۔ اس ٹیپو‘ مغل‘ تغلق‘ سوری حکمران روئیے کو ہم جلال الدین اکبر کے پچاس سالہ عہد حکمرانی میں بھی آسانی سے دیکھ سکتے  ہیں۔
 
ہر مسلمان حکمران کی فوج‘ کابینہ‘ بیورو کریسی میں ہندوئوں کو نمایاں منصب‘ عہدے‘ مرتبے ملے ‘ اب ذرا موجودہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو دوبارہ دیکھ لیں۔ موجودہ بھارت میں مسلمان پندرہ فیصد بتائے جاتے ہیں۔ کچھ انتخابی حلقوں میں ان کی نمایاں حیثیت ہے‘ جیسے راہول گاندھی جس حلقے سے جیتے وہاں مسلمانوں کے ووٹ نمایاں ہیں اور انہی کے ووٹوں سے راہول گاندھی رکن اسمبلی بن سکے ہیں۔ مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی کافی موجود ہیں۔ اس کے بعد ہندو کم تر ذات کے دلت اور شودر وغیرہ آتے ہیں کہنے کو وہ ہندو ہی ہیں مگر ان کی حیثیت مسلمانوں کی طرح ہی ہے۔ مودی زندگی بھر آر ایس ایس کے ممبر رہے ہیں۔ آر ایس ایس کی سیاسی شاخ کا نام بی جے پی ہے۔ آر ایس ایس اپنے سیاسی چہرے بی جے پی کے ذریعے کیسا‘ ہندو بھارت تشکیل دینا چاہتی ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے آر ایس ایس کے اہم ترین فکری رہنماجو گولوالکر نے 1938ء میں ہندو انڈیا کا نقشہ یوں پیش کیا تھا۔
’’ہندوستان میں رہنے والے غیر ہندو‘ ہندی تہذیب و زبان کو اپنائیں‘ ہندو مذہب کی تقدیس کو قبول کریں اور اپنائیں بھی اور صرف ہندو نسلی قوم اور ثقافت کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے مکمل نفاذ و کامیابی کے لئے خود کو وقف کر دیں۔ غیر ہندو اس بات کو قبول کرلیں۔ یہ جو غیر ملکی (گھس بیٹھے مسلمان و مسیحی وغیرہ ہیں) صرف اسی صورت میں بھارت میں رہ سکتے ہیں اگر وہ مکمل طور پر ہندو نسلی قوم کے سامنے سرنڈر کر دیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ کسی بھی قسم کا استحقاق یا خصوصی حیثیت کا تقاضا نہیں کر سکیں گے۔ حتیٰ کہ وہ شہری حقوق کا مطالبہ بھی نہیں کر سکیں گے۔ کیونک اصلاً وہ غیر ملکی ہیں۔‘‘(ملاحظہ کریں پاکستان اینڈ اے ورلڈ ان ڈس آرڈر۔ اے گرنیڈ اسٹریٹجی فاروی ٹونٹی فرسٹ سینچری صفحہ78)
سابق سفیر جاوید حسین نے اپنے انگریزی کالم میں اس بحث کو جگہ دی ہے۔ جبکہ اس بات کو بھی ذرا سمجھنا چاہیے کہ ہندو بالادست دین میں انسان پیدائشی طور پر اعلیٰ و ادنیٰ درجوں میں تقسیم ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ اعلیٰ برہمن ہندو حکمران و بالادست ہوتے ہیں۔ شودر اور دلت کم تر اور کمی کمین طرز کے جو کبھی بھی اعلیٰ درجے  پر فائز نہیں ہوسکتے خواہ وہ کتنی ہی ہندو دین اور ریاست کی خدمت اور وفاداری پیش کرلیں جبکہ یہودی مذہب صرف نسلی ہے‘ یعنی یہودی ماں کے بطن سے پیدا ہوتی اولاد ہی یہودی قبول ہوتی ہے۔ باپ خواہ کسی بھی قوم‘ قبیلے یا دین کا ہو اس کا یہ بچہ نہیں ہوگا۔ بچے کی نسبت صرف اپنی یہودی ماں کی طرف ہے  جبکہ اسلام میں ذات پات کی اعلیٰ و ادنیٰ   تقسیم یا نسلی فوقیت کا تصور ہی موجود نہیں ہے۔ اس اعتبار سے اسلام اور ہندتواکا  تصور باہم متضاد ہے جبکہ مسیحی اور مسلمان کوئی بھی انسان ہوسکتا ہے ۔
موجودہ  بی جے پی اقتدار 1938ء میں آر ایس ایس کے فکری قائد گوالکر کے تشکیل ہندو بھارت کی عملی شکل چاہتا تھا جس میں شودر‘ دلت‘ ہندوئوں کو بھی کم تر حقوق بلکہ صاف لفظوں میں کہنا چاہیے کہ دلت و شود محض غلام‘ کمی کمین ‘ خدمت گار ہندو طبقے ہیں ۔ بھارت میں ایک بحث یہ بھی ہوچکی ہے کہ بی جے پی کی اصل سیاسی  جنگ مسلمانوں اور مسیحیوں کے ساتھ نہیں ہوئی کیونکہ یہ تو ویسے ہی اقلیتیں ہیں بلکہ آر ایس ایس فکر پر مبنی بی جے پی کی سیاسی و انتخابی جنگ اصل میں تو ان ہندوئوں کو کچل ڈالنے کی جدوجہد ہے جو کمیونسٹ‘ لبرل‘ سیکولر ہیں۔ یہ بحث بھارتی صحافی جاوید نقوی نے اپنے کالم میں چند روز پہلے پیش کی ہے۔ 
بنگال میں بی جے پی کیوں جیتی؟ کیونکہ بنگالی ہندو خاتون رہنما نے مسلمانوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا تھا۔ یہ موقف کمیونسٹوں کا ہے جبکہ جاوید نقوی ان کیمونسٹوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر یہ کیمونسٹ مسلمانوں کی طرح سیکولر بنگالی خاتون میں سیاست دان  کے ساتھ انتخابی سیاست میں کھڑے ہو جاتے توامیت شاہ کو  مقامی سطح پر کامیابی ہرگز نہیں ملتی۔ کمیونسٹوں‘ سیکولر اور لبرل ہندوئوں نے سیکولر ہندو خاتون سیاست دان سے خود کو الگ رکھا جبکہ یہ بی جے پی کے اتحادی بھی نہیں تھے گویا بنگال میں جو ہندو سیکولر بنگالی سیاست کی شکست ہے وہ مسلمانوں کے ساتھ  اتحاد کرنے کی بناد پر نہیں بلکہ کیمونسٹوں‘ سیکولروں کے  سبب ہوئی ہے لہٰذا اصل شکست بنگال اور بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کو نہیں بلکہ ان ہندوئوں کو ہوئی ہے جو انسانی مساوات ‘ رواداری‘ تحمل کے ایجنڈے کے داعی رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں