08:10 am
 ایمان اور اسلام میں فرق

 ایمان اور اسلام میں فرق

08:10 am

محترم قارئین !سورۃ الحجرات کا دوسرا رکوع ہمارے زیر مطالعہ ہے۔اس سورت میں بہت اہم معاشرتی اور ریاستی اُصول بیان ہوئے ہیں۔اسی حوالے سے دوسرے رکوع میں یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ پوری عالمی برادری اللہ کی مخلوق ہے ۔ہم سب آدم و حوا کی اولاد ہیں ۔البتہ رنگ و نسل کا جو فرق نظر آرہا ہے وہ صرف تعارف کے لیے ہے ۔اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہی ہے جو تقویٰ میں بڑھ کر ہے ، یعنی جو سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ہے ۔ ظاہر ہے جو اللہ سے جتنا ڈرنے والا ہو گا اس کا اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان بھی اتنا ہی پختہ ہوگا اور یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون تقویٰ میں بڑھ کر ہے اور کس کا ایمان زیادہ کامل ہے۔ اسی حوالے سے یہاں یہ مثال بھی بیان ہوئی کہ : ’’یہ بدو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ (اے نبیﷺ ان سے ) کہہ دیجیے : تم ہر گز ایمان نہیں لائے ہو ‘بلکہ تم یوں کہو کہ ہم مسلمان (اطاعت گزار) ہو گئے ہیں‘‘
 
گویا ایمان اور اسلام میں بھی فرق ہے ۔اسلام ایک درجہ ہے اور ایمان اس سے اوپر کا ایک درجہ ہے۔ اسلام کا مطلب ہے سرتسلیم خم کردینا ا مکی دور میں تو ایمان لانے سے پہلے ہزار دفعہ سوچنا پڑتا تھاکہ ایمان لائیں گے تو تشدد ہوگا،برا بھلا کہا جائے گا یعنی ہر طرف سے مشکلات ہی مشکلات تھیں‘لیکن فتح مکہ کے بعد صورت حال بد ل گئی کیونکہ مکہ کی حیثیت عرب کے دارالحکومت کی تھی جس کی فتح کے بعد گویا اسلام غالب ہو گیا۔ مدینہ منورہ میں پہلے ہی مسلمانوں کا اپنا ایک معاشرہ تشکیل پا چکا تھا۔پھر پورے عرب کی دوسری جو بڑی قوتیں تھیں انہیں بھی غزوۂ حنین میں شکست ہوئی اور اب کوئی بڑی قوت نہیں رہ گئی تھی جو مسلمانوں کا مقابلہ کر سکتی اور مسلمان ایک نظریے کو ماننے والے تھے ‘چنانچہ اب لوگوں کو فکر پڑی کہ اگر ہم مسلمانوں کے نظریہ کو نہیں مانیں گے تو پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہوگا لہٰذا اب جو ق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح نصیب ہو۔اور آپؐ دیکھ لیں لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کے دین میں فوج در فوج۔‘‘(النصر:1،2)
وہ لوگ جو مکی دور میں ایمان لائے تھے ان کے ایمان میں اور جو اسلام کو غالب دیکھ کر ایمان لائے تھے ان کے ایمان میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔پہلے ایمان وہی لاتا تھا جس کا دل حضور ﷺ کی دعوت سن کر، قرآن سن کرگواہی دیتا تھاکہ بالکل یہ حق ہے او راس حق کے لیے مجھے کھڑے ہونا ہے، چاہے جو مرضی ہو جائے۔پھراس کے لیے کیا کیا سختیاں نہیں جھیلیں۔اس کے بعد مدینہ میں بھی اسلام کے نور کو بجھانے کے لیے مشرکین اکٹھے ہوتے رہے، غزوۂ بدر ہوا ، غزوۂ احد ہوا۔پھر غزوۂ احزاب میں توپورا عرب مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے آگیا تھا ۔ مدینہ کا گھیراؤ کیا گیا ۔ان سب مراحل سے جو مسلمان گزرے تھے ان کے ایمان کا لیول کچھ اور تھا ۔اب جبکہ دین غالب ہوچکا تھا اور اب جو بدو وغیر ہ آکر کہتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہوگئے تو ان کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبیﷺ! ان سے کہہ دیجیے کہ تم ابھی ایمان نہیں لائے۔ایمان اور شے ہے جس کا مطلب یقین قلبی ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ اس بات کی دعوت دے رہے تھے کہ اللہ ایک ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے یہ دلی یقین کر نا کہ معبود برحق ایک ہی ہے اور اس کے علاوہ کسی کے پاس اختیار نہیں ہے ،محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ اسی طرح آخرت پر بھی دلی یقین ہو اور اس پر بھی کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے ۔چنانچہ ایمان یقین قلبی کا نام ہے۔  اسلام کا مطلب ہے سرنڈر کر دینا ، سرتسلیم خم کردینا۔ آج ہمار ا اسلام بھی اسی قسم کا ہے جو ان بدوئوں کا تھا۔جب دل گواہی دیتا ہے تو پھر انسان کا عمل بھی بدل جاتا ہے یعنی اس دین کے مطابق ہو جاتا ہے۔مثلاً دل گواہی دے گا کہ اللہ ایک ہے اوراس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے:’’اور وہ شریک نہیںکرتا اپنے حکم میں کسی کوبھی۔‘‘(الکہف :26) جبکہ ہمارے ہاں اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سوں کو مانا جاتا ہے ۔اسی طرح ہم مانتے ہیں کہ  محمد رسول اللہﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر آپ ﷺ کی لائی ہو ئی شریعت کا اتباع ہماری زندگیوں میں نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا ایمان یقین قلبی والا ایمان نہیں ہے۔پھر گویا کہ زبان سے ہم نے کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس کے لیے فقہ میں دو اصطلاحات ہیں اقرار باللسان و تصدیق بالقلب ۔یعنی ایک ہے  زبان سے اقرار کر لینا کہ ہاں ہم نے مان لیا کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی خالق و مالک ہے اور ایک ہے ایمان جو کہ اگلا مقام ہے ۔آگے فرمایا:’’اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
یوں سمجھ لیجیے کہ اسلام ابتدائی درجہ ہے اور ایمان تکمیلی درجہ ہے۔ زبان سے کلمہ پڑھنے سے دنیا میں مسلمان مانا جائے گا۔ ظاہر ہے دنیا میں قولی اقرار پر ہی انحصار ہے ۔ چاہے کوئی شخص جھوٹ موٹ کا مسلمان ہو کر آ جائے، کلمہ پڑھ لیا تو ہم اس کو مسلمان مانیں گے۔ اسی طرح  ایک لیول یہ بھی ہوتا ہے کہ اسلام تو لے آئے لیکن  اس کے بعد نفاق پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ اسلام سے، مسلمانوں سے، حضورﷺ سے ہمدردی نہ رہی بلکہ دوستی یہودیوں سے بڑھ رہی ہے۔
(جاری ہے)

ان کی محفلوں میں جا رہے ہیں، ان سے دنیوی فائدے اُٹھا رہے ہیں۔ جب یہ پراسس شروع ہوتا ہے تو بالآخر وہ نفاق تک پہنچ جاتا ہے اور منافقت کاایک درجہ وہ بھی ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ :’’ یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔‘‘(النساء : 145)
اسی طرح ایمان میں ایک مقام صحابہ کرام ؓ کا ہے کہ جن کے بارے میں اللہ نے خود فرمایا:’’ لیکن (اے نبیﷺ کے ساتھیو!) اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے۔اوراُس نے تمہارے نزدیک بہت نا پسندیدہ بنا دیا ہے کفر‘فسق اور نافرمانی کو۔یہی لوگ ہیں جو صحیح راستے پر ہیں۔‘‘(الحجرات:7)
یعنی تمہارے دلوں میں کفر اور فسق کی اتنی نفرت  بٹھا دی گئی ہے کہ تمہارا اس طرف اب رجحان ہی نہیں ہے۔یہ بھی ایمان کا ایک اعلیٰ مقام تھا لیکن ایک یہ ہے کہ جیسے ہم مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوگئے ہیںیا جیسے بدوؤں کا معاملہ تھا کہ اسلام کو غالب کو دیکھ کر اسلام لے آئے تھے ۔ فرمایا :’’لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میںسے کوئی کمی نہیں کرے گا۔یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘بہت مہربان ہے۔‘‘
یعنی ابھی اللہ پر اور حضورﷺ کی رسالت پر یقین پیدا نہیں ہوالیکن کلمہ پڑھنے کے بعد تم اگر اللہ اور رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرو، نماز پڑھو، صاحب نصاب ہو تو زکوٰۃ دو، حرام کاموں اور گناہوں سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو ضائع یا کم نہیں کرے گا۔ یعنی انہیں قبول کر لے گا بشرطیکہ تمہارے دل میں اسلام کے خلاف منفی جذبہ نہ ہو ۔ آج ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ وہ حقیقی ایمان تو ہمیں حاصل نہیں ہے الا ماشاء اللہ لیکن اگر پھر بھی ہم اللہ و رسولﷺ کی اطاعت شروع کر دیں گے تو ہمارے اندر ایمان راسخ ہونا شروع ہو جائے گا اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تواندیشہ ہے کہ ہم اپنی نالائقی اور اللہ و رسولﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے آہستہ آہستہ نفاق کی طرف چلے جائیں گے ۔گویا یہ ایک طرح کا زیرو لیول ہے کہ مثبت طور پر ایمان نہیںہے لیکن منفی طور پر منافقت بھی نہیں ہے، کفر بھی نہیں ہے ۔ اس لیول پر بھی اگر انسان کلمہ پڑھنے کے بعد دین پر عمل کرنا شروع کر دے تو اس کے اعمال اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا اور پھر ایمان کی دولت عطا کر دے گا۔ اس میں ہم سب کے لیے بڑی بشارت ہے۔جاتا ہے لیکن دین کچھ اور کہتا ہے اور اس کی لازمی شرط یہ ہے کہ اس لیول پر کہ چاہے ہمیں یقین کی دولت نہیں بھی حاصل لیکن اگر ہم اسلام پر عمل شروع کر دیں تو ایمان کی نعمت ہمیں مل جائے گی اور ایمان اگر نہیں ہے تو پھر انسان کے لیے آگے کچھ بھی نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں ایک بڑی عجیب آیت ہے:  ’’اے ایمان والو! ایمان لائو اللہ پر‘ اُس کے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے نازل فرمائی اپنے رسولؐ پر اور اُس کتاب پر جو اُس نے پہلے نازل فرمائی۔‘‘(النساء:136)
یعنی صرف زبانی دعویٰ نہ کرو بلکہ اصل اور یقین قلبی والے ایمان تک پہنچنے کی کوشش کرو اور اپنے عمل سے ثابت کرو کہ ہم حقیقی ایمان والے ہیں۔ اسلامی ریاست کا سچا شہری وہی ہو سکتا ہے جواللہ ،اس کے رسول ﷺ ، قرآن مجید اور آخرت پر دل سے ایمان رکھتا ہو لیکن دنیا میں ہمیں نہیں معلوم کہ کس شخص کے دل میں ایمان ہے اور کس کے دل میں نفاق ہے۔ لہٰذا کلمہ جو بھی پڑھ رہا ہے وہ  اسلامی ریاست کا شہری ہے اور مسلمان ہی تسلیم کیا جائے گا۔ اسلام میں اس حوالے سے اس قدر تاکید ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اُسامہؓ  کے ہاتھوں ایک ایسا شخص قتل ہوگیا جو عین قتل کے وقت کلمہ پڑھ چکا تھا لیکن حضرت اُسامہ ؓ نے اس کے کلمہ پڑھنے کا اعتبار اس لیے نہ کیا کہ شاید وہ جان بچانے کے لیے دھوکہ دے رہا ہو ۔جب حضور ﷺ کو اس کا پتا چلا تو آپ ؐ ناراض ہوئے اور فرمایا : اُسامہ ؓ! کیا تم نے اُس کے دل کو چیر کر دیکھا کہ اُس میں ایمان ہے یا نہیں ‘‘لہٰذا جب تک کوئی اپنے عمل سے ثابت نہ کر دے کہ وہ اسلام دشمن قوتوں کا ایجنٹ ہے تب تک وہ مسلمان ہی شمار ہوگا ۔ اس وقت تک کلمہ کی ڈھال اس کے پاس موجود ہے‘ البتہ جب ثابت ہو جائے کہ یہ کافر ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کا اسلام تسلیم نہیں ہو گا یعنی وہ اسلامی ریاست کا شہری نہیں ہو سکتا‘لیکن اصل مسئلہ آخرت کا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے کہ کس کے دل میں ایمان تھا، نہیں تھایا نفاق تھا اور کس درجے کا تھا۔
 اگلی آیت میں حقیقی ایمان کا ایک معیار بیان ہوا ہے جس پر ہر بندہ اپنے آپ کو پرکھ سکتا ہے کہ وہ مومن ہے یا نہیں ؟  ’’مؤمن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ‘پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے‘‘
بہت سے لوگ ہوں گے جو جب قرآن پڑھتے ہیں یا درس قرآن سنتے ہیں تو دل گواہی دیتا ہے کہ بات بالکل حق ہے اوریہ واقعی اللہ کا کلام ہے‘چنانچہ سچا مومن وہ ہے جسے پورا یقین اور اطمینان ہو کہ واقعی یہ حقائق ہیں جن کو میں کلمۂ شہادت کی شکل میں تسلیم کر رہا ہوں ۔ ایسے حقیقی ایمان والوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ :’’اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔‘‘
 اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں اللہ کے دین کو عام کرنا ، اس کی دعوت دینا اور اسے قائم اور غالب کرنے کی جدوجہد کرنا بھی جہادہے ۔ ظاہر ہے جس کے دل میں ایمان اُتر گیا تو پھر دینی ذمہ داریاں ادا کرنا اس کی اولین ترجیح ہو گی ۔ ’’یہی لوگ ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔‘‘ ایسے انسان کا ایمان کا دعویٰ سچاہو گا جس کے دل میں ایمان لانے کے بعد کوئی شک نہ رہے یعنی یقین قلبی حاصل ہو جائے ۔ یہ یقین قلبی کہاں سے ملے گا؟ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھو گے تو ایمان جنریٹ ہو گااور اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کا مشن اللہ کے دین کو قائم و غالب کرنابن جاتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں