08:11 am
شدت پسندی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!

شدت پسندی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے!

08:11 am

جب حکمرانوں کا رویہ شدت پسندی کی آگ میں تپ رہا ہو تو وہ قوم کو اعتدال پسندی اور میانہ روی اختیار کرنے کا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں؟اور پھر قوم ان کی باتوں پہ کان دھرے بھی کیوں؟ قوم کو ٹیکسوں کی مار مارنے والی حکومت جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرے گی؟
 
جب اخبارات کی لیڈ سٹوری یہ ہوگی کہ ’’عمران کا اعلان جنگ‘ اپوزیشن سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کرلی گئی‘ وزراء کو انہی کی زبان میں ہی جواب دینے کی ہدایت دے دی گئی‘ تو کوئی صاحب بصیرت مجھے بتائے کہ شدت پسندی کے اس حکومتی روئیے سے اس ملک و قوم کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ اگر زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کروانے کی خاطر اپوزیشن احتجاج کرتی ہے نعرے لگاتی ہے‘ اسمبلی کے اجلاس میں رکاوٹ ڈالتی ہے ‘تو عمران خان ہمت کرکے ایسی قانون سازی کیوں نہیں کرلیتے کہ  جو رکن اسمبلی بھی اپنے یا اپنی جماعت کے سستے مفاد کے لئے اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا‘ اس کی تنخواہ اور دیگر مراعات روک لی جائیں گی؟
یا یہ کہ اسمبلی کے اندر شور شرابہ کرنے والوں کی دن‘ ہفتے یا مہینے کے لئے اسمبلی رکنیت کو منسوخ کر دیا جائے گا‘ عمران خان نے اپنے وزیروں اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا نادر شاہی فرمان جاری کیا ہے... اس  سے بھلا اپوزیشن کی صحت پر کیا فرق پڑے گا؟
پاکستان کے عوام کو حکمرانوں کی پیدا کردہ مہنگائی کے عذاب نے ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے‘ اور نیازی حکومت   بے مقصد اسمبلی اجلاس پر کروڑوں روپے پھونک رہی ہے‘ اسپیکر اسمبلی  اسد قیصرقوم کو جواب دیں کہ اسمبلی اجلاس پر  یومیہ قومی خزانے سے کتنا پیسہ لٹایا  جارہا ہے ؟ میرے پاکستانیو! ذرا غور تو کرو کہ یہ کیسی ’’حکومت‘‘ ہے کہ جو مسلسل تین دنوں سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کرکے اجلاس ختم کروا دیتی ہے اور یہ سارا پتلی تماشا ہو بھی قومی خزانے پر رہا ہے‘ غریب کا بچہ پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے...کروڑوں غریبوں پر مہنگائی کا عذاب مسلط کرنے والے عمران خان یا ان کے کسی وزیر کی جیب سے تو ایک روپیہ نہیں لگ رہا‘ بلاول زرداری یا شہباز شریف کا بھی اسمبلی اجلاس پر اپنا ایک روپیہ خرچ نہیں ہو رہا۔
ان کے ٹھنڈے ٹھارے دفاتر‘ ان کی گاڑیوں میں ڈالا جانے والا پٹرول اور ڈیزل‘ ان کےپر سہولت دفاتر میں رکھا ہوا مہنگا ترین فرنیچر‘ غرضیکہ اجلاس کے دوران ان کے سارے اللے تللوں کا بوجھ قوم کی جیبوں پر پڑتا ہے‘ لیکن قومی اسمبلی کے اندر  ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی‘ مارا‘ ماری الزام تراشیوں اور دھکم پیل کے علاوہ حکومتی اور اپویشن اراکین کو کوئی کام  ہی نہیں ہے۔
کس قدر حیرت کی بات ہے‘ شدت پسندی کی معراج کو چھونے والی یہ حکومت اور اسمبلی‘ دینی معاملات بالخصوص ناموس رسالت ؐکے معاملے پر مسلمانوں کو صبر اور برداشت کی تلقین کرتی ہے ‘ اپنے اپنے قائدین کے مفادات کے اسیر‘ دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کو شدت پسندی کے طعنے دیتے ہوئے نہیں تھکتے؟ وزیراعظم عمران خان نریندر مودی جیسے بدنام زمانہ دہشت گرد اور پاکستان کے بدترین دشمن کو تو بار بار پیغام محبت بھیج کر راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں...لیکن اپنے ہی ہم وطن اپوزیشن کے لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں‘ اس حد تک نفرت انگیز رویہ شدت پسندی کو ہی جنم دیا کرتا ہے‘  وہ فرماتے ہیں کہ میں کرپٹ افراد سے ہاتھ نہیں ملا سکتا‘ اگر ان کی طبع نازک پہ گراں نہ گزرے تو اس خاکسار کی اس بات پر ضرور توجہ دینے کی کوشش کریں کہ کرپشن جرم ضرور ہے اور اگر کوئی لیڈر یا شخص کرپشن میں ملوث ہے اس کے ثبوت بھی موجود  ہیں تو اسے لازماً گرفتار ہی ہونا چاہیے لیکن دوسرے مسلمان کو سلام کرنا‘ اس سے ہاتھ ملانا یہ تو مسلمان کی شان ہے‘ آپ کو کوئی نہیں کہتا کہ آپ کرپشن کے جرم میں گرفتار ہونے والوں کو جیلوں یا نیب کے دفاتر میں جا کر سلام کریں یا ان سے ہاتھ ملاتے پھریں‘ بالکل نہ  ملائیں‘ لیکن ایوان کے اندر جن اپوزیشن رہنمائوں سے آمنا سامنا ہو جائے ان سے تو کم از کم ہاتھ ملالیں اور پھر کون سی کرپشن اور کہاں کی کرپشن؟ کیا ان دس مہینوں میں نواز شریف سے کرپشن کی ایک پائی بھی برآمد کروانے میں کامیاب ہو سکے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اپوزیشن کا احتجاج بھی ہمیں سمجھ میں آرہا ہے...ان کا احتجاج عوامی مسائل پر نہیں بلکہ نواز شریف اور زرداری  کی گرفتاریوں سے متاثر ہو کر ہے‘ لیکن اپوزیشن اگر احتجاج کرتی بھی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے کہ عمران خان ساری حکومت کو شدت پسندی کے رویوں کے اظہار پر مجبور کر دیں؟ یہ غلط ہے اس سے معاشی مشکلات میں گھرا ہوا پاکستان مزید نقصان سے دوچار ہو جائے گا‘میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ تکبر اور رعونت کے حصار سے باہر نکل کر زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے کی کوشش کریں‘ اگر ان سے اپوزیشن کا احتجاج برداشت نہیں ہو رہا‘ تو انہیں فی الفور اسمبلی اجلاس ختم کرکے قومی خزانے کو بھی مزید نقصان سے بچانا چاہیے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ علماء کرام اور دینی مدارس تو اعتدال پسندی اور میانہ روی کو عام کرنے کی محنتوں میں مصوف ہیں...جبکہ آکسفورڈ کے ترتیب یافتہ حکمران ملک میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کو رواج دینے میں مصروف ہیں۔

تازہ ترین خبریں