08:11 am
عزیمت کااستعارہ!محمدمرسی

عزیمت کااستعارہ!محمدمرسی

08:11 am

زندگی کی متاع عزیزکیاہے؟روپیہ پیسہ، زرو جواہر ، زمینیں وجائیداد،منصب وجاہ وجلال، ناموری، واہ واہ،دادوتحسین،صلہ وستائش،بیوی بچے، عزیز واقارب، یار دوست۔۔۔ کیا یہی ہے زندگی کی متاع عزیز؟توپھرنظریہ کیاہے،اصول کیاہے،حق وصداقت کیاہے،دارورسن کیاہے،عشق کیاہے،شہادت کیا ہے، محبت کیاہے،بے غرضی کیاہے،جاں نثاری کیا ہے، مرمٹناکیاہے؟بتایئے پھریہ سب کیاہیں؟کسے کہتے ہیں’’متاع عزیز‘‘؟کیا’’انکار‘‘متاع عزیزنہیں ہے؟ جبرکے سامنے انکا ر، فرعونیت کاانکار،صلہ کا انکار ، سودے بازی سے انکار،دولت بے بہاکاانکار،باطل کا انکار، سرجھکانے سے انکار،ظلم وجبرکاانکار،رب کی حاکمیت کے سواسب کا انکار‘انکارمتاع عزیزنہیں ہے توپھرکیاہے انکار؟ انکار اور یکسرانکار،پورے شعورکے ساتھ انکار،کوئی مصالحت نہیں،بالکل بھی نہیں‘مجسم انکار‘باطل کے سامنے،طاغوت کے سامنے،رب کے باغیوں کے سامنے،نفس پرستوں کے سامنے،دنیائے حرص  وتحریص کے سامنے،دھوکے کے سامنے،بے وفائی کے سامنے،خدائی لہجے میں بات کرنے والوں کے سامنے‘انکاراوریکسرانکار،پورے شعوراور پورے و جو د کے ساتھ انکار،بس انکار۔دلیل چاہے کتنی بھی مضبوط ہو،میرے رب کے سامنے کیاحیثیت رکھتی ہے!بس انکار‘لیکن انکاراپنے نفس کوخوش کرنے کیلئے نہیں،نفس کوخوش کرنے کیلئے انکارتو ابلیسی انکار ہے، صرف اپنے رب کیلئے انکار‘یہی ہے اصل اورکچھ نہیں۔
 
نہیں مانیں گے کسی کی بھی،کسی طاقت کی،کسی بھی نظام باطل کی‘نہیں مانیں گے چاہے لاکھ دلیلیں دو،بس مانیں گے توصرف رب اعلی کی، بس اسی کی اورکسی کی بھی نہیں۔ یہی توحیدہے اورہے کیا توحید۔ میرادین توشروع ہی انکارسے ہوتاہے یعنی ’’لا‘‘ سے۔پہلے انکارکی منزل ہے پھرتسلیم کی۔میں انکارکے بغیر تسلیم کیسے کرسکتاہوں!اگرمیں انکارنہ کروں اورتسلیم بھی کروں تویہ منافقت ہے جوقابل قبول نہیں۔ملاوٹ نہیں،خالص درکارہے،بالکل خالص ‘چاہے ذرہ ہی ہو،ملاوٹ شدہ پہاڑدرکارنہیں ہے۔یہی ہے اخلاص اورکیاہے!انکارروح اسلام ہے،انکارروح حسینیت ہے،انکار‘جانہیں مانیں گے۔تمہارے دھوکے تمہیں مبارک ،ہماراسچ ہمیں‘ انکارلکھنے میں بہت آسان ہے، پانچ حرفی لفظ،بہت آسان ہے لکھنا،لیکن کرنا ازحد مشکل،جان لیواہے، بہت نقصان دہ،بہت قربانی چاہتا ہے،خودسے باربار لڑناپڑتاہے،بیوی بچوں سے، یا ر د و ستو ں سے،ایک چومکھی جنگ لڑنی پڑتی ہے ،اپنا انکاربھی،نہیں اپنی بھی نہیں مانوں گا،بہت مشکل ہے یہ،بہت کٹھن منزل ہے۔معرکہ خیروشرکیاہے؟معرکہ حق وباطل کیاہے؟ حق کاساتھ دیناخیر ، باطل کاساتھ دیناشر!رب کے سامنے سرتسلیم خم کرناخیراورابلیس کاپیروکار بنناشر۔معرکہ خیر و شر یہی ہے،بس یہی توہے!پورے عالم میں یہی کچھ ہوتاہے،ہوتارہے گا،نہیں رکے گایہ معرکہ اورسلسلہ،کوئی نہیں روک سکے گا!
آخرکربلاکادرس کیاہے؟جنگ بدر کیا ہے ، جنگ احدکیاہے،جہادکیاہے؟؟یہی ہے بس!سب کا درس ایک ہے:بس انکار۔انکارکروتواس میں جان سے گزرنا پڑتا ہے، خاندان نثارکرناپڑتاہے،سب کچھ نثار کرناپڑتاہے،آگ وخون میں نہاناپڑتاہے،خاک آلودہوناپڑتاہے،اپنی خواہشات کوخوداپنے ہاتھوں ذبح کرناپڑتاہے،تیزدھارپرسے گزرناپڑتا ہے،لاشے اٹھانے پڑتے ہیں۔جب شعورکے ساتھ انکار ہو تو ہر لاشہ اٹھاتے ہوئے یقین بڑھتاہے،پختگی آتی ہے،رب اعلیٰ کیلئے سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ بڑھتاہے، سر شا ری اسے ہی کہتے ہیں۔ہنستے کھیلتے لاشے اٹھانا او ر پھر آوازبلندسے اپنے رب کی کبریائی بیان کرنا۔یہی ہے دین اورہے ہی کیا!اسے کہتے ہیں اپنی نذرپوری کرنا،اپنے دعو ے کی صداقت کومجسم کردینا لیکن یہ ہے بہت مشکل۔
یہ  قدم قدم  بلائیں یہ  قدم  کوئے جاناں
وہ یہی سے لوٹ جائے جسے زندگی ہوپیاری
توفیق پرہے یہ،جانوں کانذرانہ پیش کرنا اور رب سے التجاکرناکہ قبول کرلیجئے ہماری قربانی‘اورپھریقین کی منزل پرپہنچ کربے ساختہ پکارنا‘بے شک میری نماز،میری قربانی، میرا جینا مرناتوبس میرے رب کیلئے ہے رب کیلئے خالص!باطل ہمیشہ سے گھمنڈی ہوتاہے،دھوکے کاشکار۔میں دیکھ رہاہوں،نیا معرکہ کربلاغزہ،قاہرہ اورکشمیرمیں برپا ہے۔ معصوم لاشے اٹھتے ہیں توتکبیربلندہوتی ہے۔انکارمجسم ہوتاہے، ساری دنیادنگ ہے کہ یہ کیاہیں‘کیسے لوگ ہیں، پتھرسے گولی کا مقابلہ کرنے والے،کوئی تخصیص نہیں ہے ،نوجوان لڑکے اورلڑکیاں،معصوم بچے اور عورت ومرد،جوان وبوڑھے سب کے سب مجسم انکار،نہیں مانتے ۔انکارجتنی شدت اختیار کرتا چلا جائے، انقلاب اسی شدت سے نمودار ہوتاہے اور پھرہمارامسئلہ نتائج نہیں،کارزارخیروشرمیں اپنا حصہ ایمانداری سے ادا کرنا ہے، ایسے،ویسے، چونکہ چنانچہ اورلیکن ویکن کچھ نہیں‘یکسرانکار۔رب پرکامل یقین کے ساتھ باطل کاانکار‘طاغوت کاانکار!اوریہ محمدمرسی نے کرکے دکھادیاجس کوتاریخ کبھی بھی فراموش نہ کرپائے گی۔
مصرکے سرکاری ٹی وی کے مطابق سابق صدرمحمدمرسی ایک مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں انتقال کرگئے ہیں۔وہ عدالت میں پیشی کے بعد بیہوش ہونے کے بعد67 برس کی عمرمیں انتقال فرماگئے۔2012 ء میں مشرق وسطیٰ میں عرب سپرنگ کے نام سے چلنے والی تبدیلی کی لہرکے بعدباقاعدہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے صدرمنتخب ہوئے لیکن فوج نے ایک برس بعدان کی حکومت کوختم کرکے انہیں جیل میں ڈال دیاتھا۔ان پرالزام عائدکیاگیاکہ انہیں2011 ء میںمسلمانوں کو جیل سے بھاگنے میں مدد کے جرم پرسزائے موت کاحکم جاری کیاگیاجسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ختم کرکے ان پردوبارہ مقدمہ چلانے کاحکم دیاتھا۔محمد مرسی کے خلاف قاہرہ میں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے ایک جاسوسی کے مقدمے کی کارروائی جاری تھی لیکن محمدمرسی نے جس جوانمردی سے طاغوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرطاغوت کوشکست دی ہے یقینا:
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفامیرے لئے ہے
محمدمرسی!آپ نے مرد حق ہونے کاثبوت اس شجاعت سے دیاہے۔یقینا مرسی اپنے آقااور مولارسول اکرم ﷺ کے سامنے جب پیش کئے جائیں گے جیسے کوئی عاشق اپناسب کچھ لٹاکراپنے محبوب کے قدموں میں اس طرح حاضرہوجہاں کامیابیاں ان کے گلے لگنے کیلئے منتظروبے تاب ہوں۔  آج بڑی شان سے ایک اورامام حنبل اورامام ابوحنیفہ کاجنازہ جیل سے نکل کراپنے ساتھیوں سیدقطب اورسیدحسن البنا سے جاملاہے۔انااللہ واناالیہ راجعون 

تازہ ترین خبریں