08:12 am
حکومت اور اپوزیشن میں شرافت کا معاہدہ

حکومت اور اپوزیشن میں شرافت کا معاہدہ

08:12 am

٭حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ بحث میں شریفانہ طرز عمل کا معاہدہ!O شہباز شریف کی پرامن تقریر، حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کشO بی این پی، ایم کیو ایم کا ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے تعاونO جعلی اکائونٹس بہت بڑا جرم ہے بنک بھی ملوث ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ…O 40 برسوں میں 40 ارب ڈالر باہر بھیج گئے، چیئرمین ایف بی آرO کوئی بے و قوف ہی قرضہ کمیشن کا چیئرمین بن سکتا ہے سید خورشید احمد اور وزیراعظم نے سابق پولیس افسر حسین اصغر کو چیئرمین بنا دیاO مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی کا جنازہ، جیل میں گھر کی عورتوں نے اٹھایا۔
 
٭وزیراعظم عمران خان کا ایک اور یو ٹرن! پیر کے روز پارٹی کو حکم دیا کہ اپوزیشن کے لیڈر شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرنے دی جائے، سپیکر کو حکم کہ آصف زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیا جائے۔ ان احکام پر عمل ہوا اور اگلے روزمنگل کے روز حکم جاری ہوا کہ اپوزیشن کو تقریر کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ اس روز اجلاس میں حکومتی پارٹی نے حکم آنے سے پہلے حسب حکم  ہنگامہ کیا مگر اجلاس ملتوی ہونے پرنئے حکم کے تحت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن سے معاہدہ کر لیا کہ شہباز شریف اور اپوزیشن کے دوسرے مقررین اور حکومتی پارٹی کے ارکان باری باری پر امن ماحول میں تقریریں کریں گے! اور پھر بدھ کے روز میاں شہباز شریف نے بڑے آرام کے ساتھ بجٹ کے پرخچے اڑائے اور پھر حکومت کو پیش کش کر دی کہ وہ تین گھنٹے سے زیادہ وقت میں معیشت کی بحالی کے لئے حکومت سے تعاون اور ’میثاق معیشت‘ کے لئے تیار ہیں۔ پتہ نہیں انہوں نے ن لیگ کی ولی عہد مریم نواز سے اس بارے میں اجازت لی یا نہیں اور یہ کہ نواز شریف کا اپنے احکام کی خلاف ورزی پر کیا عمل ہو گا؟ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ عام انتخابات کے بعد وزیراعظم کے حکم پر شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر بننے سے روک دیاگیا۔ پھر چند ہفتے بعدحکم واپس لے لیا۔ قوم کا کتنا وقت اسمبلیوں کے کھیل تماشوں میں ضائع کیا جا رہا ہے۔ قومی، پنجاب و سندھ اسمبلیوں بازاری منڈیوں کے گالم گلوچ، ہاتھا پائی کے اکھاڑے بن چکی ہیں۔ دونوں طرف کے کھلاڑی صرف لڑنے کی تیاری کرکے آتے ہیں۔ قانون سازی ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ اتنی تعلیم ہی نہیں کہ آئین اور قوانین کو پڑھ سکیں، انہیں سمجھ سکیں! صرف پیسے کا زور چلتا ہے۔ انتخابات میں جتنا سرمایہ لگایا جاتا ہے، کامیاب ہو کر کئی گنا کما لیا جاتا ہے۔ بات ذرا دوسری طرف نکل گئی۔حکومتی بجٹ آٹھ دن پہلے پیش ہوا تھا۔ آٹھ دنوں میں کوئی بحث نہ ہو سکی۔ سارا وقت ایک دوسرے کو گالیاں دیتے، دھینگا مشتی میں گزار دیا۔ اس عمل کی بھی باقاعدہ تنخواہیں وصول کی جائیں گی۔ اب آصف زرداری کو اسمبلی میں لانے پر بھی ہنگامے ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو اپنے ماتحت ملازم کے طور پر حکم دیا ہے کہ آصف زرداری کو اسمبلی میں لانے کا آرڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں باقاعدہ پروڈکشن آرڈر جاری ہو رہے ہیں، قومی اسمبلی میں یہ عمل روک دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا ایک وفد سپیکر اسد قیصر کے پاس گیا اور پروڈکشن آرڈر کا مطالبہ کیا۔ سپیکر نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ’ میں بے بس ہوں‘! اسمبلی کی حیثیت واضح ہو گئی کہ اصل سپیکر تو وزیراعظم ہے جو اسمبلی چلا رہا ہے! ویسے یہاں دیر سے ہی سہی، بالآخر یو ٹرن ہو جائے گا۔ شائد ہو بھی چکا ہوں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آصف زرداری کے اسمبلی میں آ جانے پر کیا قیامت آ جائے گی؟ وہ وہی کچھ کہیں گے جو مختلف جلسوں میں کہہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے 1990ء میں ن لیگ کے سپیکر گوہر ایوب نے انہیں جیل سے اسمبلی میں بلا لیا تھا تو کیا فرق پڑ گیا تھا؟ اب کیا فرق پڑ جائے گا؟
٭قارئین کرام! دوسری باتیں بعد میں! میں ایک دکھ بھرے انسانی المیہ پر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ مختصر یہ کہ مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو آمرانہ ظلم کے ماحول میں صرف آٹھ افراد کے جنازے کے ساتھ دفنا دیا گیا، ان افرادمیں گھر کی سات عورتیں اور ایک بھائی شامل تھا۔ جنازہ جیل میں ہوا اور اسے عورتوں نے ہی اٹھایا۔ یہی ظالمانہ سلوک ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے والے جنرل ضیاء الحق نے ملک کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔ یہ شخص اتنا اذیت پسند تھا کہ وزیراعظم جونیجو کو برطرف کرنے کا حکم عصر کی نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھے ہوئے ایک سفید کاغذ پر قلم کے ساتھ لکھ کر جاری کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا حکم بھی اس طرح نماز پڑھ کر جاری کیا گیا۔( یہ قلم چودھری ظہورالٰہی نے مانگ لیا تھا۔) بھٹو کے لواحقین کو مرحوم کی شکل دیکھنے کی اجازت نہ دی گئی اور اس کے جسد خاکی کو فوجی طیارہ میں نوڈیرو کے قبرستان میں منتقل کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں طیارے کے عملے کے چند ارکان اور قبرستان کے دوچار ملازمین موجود تھے۔ اسی طرح کا سلوک جنرل پرویز مشرف نے اکبر بگٹی کے ساتھ کیا۔ انہیں ایک غار کے اوپر گولہ باری کر کے اس کے اندر ہی قتل کر دیا گیا۔ مگر پھر ان آمروں کا اپنا انجام کیا ہوا؟ جنرل ضیاء الحق صرف چند سیکنڈ میں طیارہ کی قیامت خیز آگ میں چل کر راکھ ہو گیا (صرف جبڑا بچا تھا) اس کی راکھ کو فیصل مسجد پاس قبر میںڈال دیا گیا۔جنرل پرویز مشرف اس وقت کہاں آخری سسکیاں لے رہا ہے!
٭ڈاکٹر محمد مرسی دنیا بھر میں سب سے بڑی اسلامی تنظیم اخوان المسلمون کے نائب صدر تھے۔ اس تنظیم کے صدر حسن البنا کو 1949ء میں مصری خفیہ پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اخوان المسلمان جمہوریت پسند تھی۔ سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، کویت اور اردن کی بادشاہتیں اخوان المسلمون کی سخت دشمن تھیں۔ ان ممالک نے اپنے ہاں اپنی اپنی مرضی کا اسلام نافذ کر رکھا تھا (اب بھی ایسے ہی ہے) یہ ممالک اپنے ہاں  جمہوریت گوارا نہیں کر سکتے۔ ان کی سخت مخالفت اور مصر میں آمرانہ حکومتوں، خاص طور پر حسنی مبارک کے دور میں امریکہ کے زیر سایہ اس تنظیم کو ختم کرنے کے لئے بے تحاشا پر تشدد کے باوجود یہ تنظیم زندہ رہی اور 2012ء کو عوام کے انقلاب کے بعد مصر میں برسراقتدار آ گئی۔ تنظیم کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مرسی صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کی حکومت صرف ایک سال چل سکی اور پھر امریکہ کی مدد سے تختہ الٹ دیا گیا۔ صدرمرسی کوجیل میں بند کر دیا گیا اور طویل مدت کی طویل سزائے قید سنا دی گئی۔ جنرل الَسیسی نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ سعودی عرب نے فوری طور پر جنرل السیسی کو چھ ارب ڈالر کی امداد بھیج دی۔ قطر کے سوا دوسرے عرب ممالک نے فوراً السیسی کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ جیل میں ڈاکٹر مرسی کو ایک کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ کسی شخص کو ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں شوگر اور دوسرے امراض لاحق ہو گئے، مگردوائیں نہیں دی جاتی تھیں۔ شوگر کا لیول کم ہو جاتا تو بے ہوش ہو جاتے۔انتہائی ظلم یہ کہ چھ سال کی قید میں ان سے گھر والوں اور وکیل کو صرف چار بار ملاقات کرائی گئی اور انتہا یہ کہ انہیں ایک سائونڈ پروف پنجرے میں عدالت میں لایا جاتا تھا، تا کہ باہر کوئی ان کی آواز نہ سکے! عدالت میں ان کی شوگر نہائت کم ہو گئی، وہ پنجرے کے اندر گر کر بے ہوش ہو گئے۔ انہیں کسی عام ہسپتال کی بجائے جیل کے ہسپتال میں لے جایا گیا وہ راستے میں ہی چل بسے۔اس کے بعد فوری طور پر ان کی لاش کو لواحقین کے حوالے کرنے کی بجائے کئی گھنٹے تک جیل میں ہی رکھا گیا۔ رات کو دو بجے ان کے گھر کی خواتین اور بھائی کو جیل بلایا گیا، جیل کے اندر ہی کچھ افراد نے نماز جنازہ پڑھی گئی گھر کی خواتین نے جنازہ اٹھایا اور ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اِنا للہ و انا الیہ راجعون!
٭قارئین کرام! میرا مصر تو کیا، خود پاکستان میں کبھی کسی سیاسی پارٹی سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اخوان المسلمون تو بہت دور کی بات ہے مگر جو حسن البنا اورڈاکٹر مرسی سے لرزہ خیز سلوک ہوا، جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور اکبر بگٹی کو راستے سے ہٹایا گیا، اور اسے کوئی بھی حساس شحص کیسے فراموش کر سکتاہے؟

تازہ ترین خبریں