07:56 am
آہ  ! ڈاکٹر محمد مرسی شہید

آہ  ! ڈاکٹر محمد مرسی شہید

07:56 am

 6 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے  اور شب وروز پس زندان میں گزارنے کے بعد سابق مصری صدر اور الاخوان ا لمسلمون کے عظیم  قائد 67سالہ ڈاکٹرمحمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔  قاہرہ جیل میںقید کئے گئے  ملک کے اس سابق منتخب سربراہِ حکومت کا تختہ ایک آمر جنرل السیسی نے  الٹ پلٹ دیا تھا۔جب وہ فوجی بغاوت سے خود قاہرہ کی زمام ِاقتدارپر قابض ہو گئے، صدر مرسی کو معزول کر کے جیل بھر دیا اور ان کے سینکڑوں حامیوں کا قتل عام کیا، اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے کر اس پر پابندی عائد کی، تنظیم کی قیادت سمیت اراکین کو غداری، ملک دشمنی اور دیگر سنگین الزامات میں مقدمات  درج کر کے پابند سلاسل بنا دیا۔ڈاکٹر مرسی  اپنے خلاف جاسوسی کے الزام کے بارے میں جج کے سامنے اپناموقف بیان کر رہے تھے کہ آہنی پنجرے میں بولتے ہوئے بے ہوش ہوکر گر گئے، انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔ حسنی مبارک کی آمریت کا خاتمہ ہونے کے بعد صدر مرسی جمہوری طور منتخب پہلے مصری صدر تھے۔ انہوں نے ایک سال تک حکومت کی اور نظم مملکت میں کئی اصلاحات جاری کیں، 2013ء میں مصری فوج نے السیسی کی قیادت میں ان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ۔محمد مرسی کے انتقال پر سب سے پہلا تعزیتی پیغام ترک صدر نے جاری کیا۔
 
رجب طیب ایردوان  نے ڈاکٹر مرسی کو شہید قرار دیتے ہوئے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔دائیں بازو کے اخوانی رہنما محمد مرسی کو فوج نے  اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ان پر متعدد مقدمات بنائے  جن میں ایران کے لئے جاسوسی اور فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کے الزامات لگائے گئے تھے۔آپ  کا پورا نام محمد مرسی عیسیٰ العیاط تھا۔ وہ مصر کے پانچویں صدر کے طور پر منتخب ہوئے ۔ 25 جنوری کے تحریرا سکوائر انقلاب کے بعد مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ انہیں مصر کا پہلا عوامی منتخب صدر مانا جاتا ہے۔پیشے کے اعتبار سے مکینکل انجینئر تھے اور یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی تھے۔ محمد مرسی کا بچپن مصر کے معروف علاقے الشرقیہ میں گزرا۔ والد کاشتکار اور والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ والدین کے بڑے بیٹے تھے۔ 2 بہنیں اور 3 بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم الشرقیہ کے اسکولوں میں حاصل کی۔ وہاں سے وہ یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے قاہرہ منتقل ہو گئے ۔
 مصری فوج میں 1975-76ء کے دوران فوجی تربیت بھی لی ، یہ تربیت مصر میں لازمی ہوتی ہے۔محمد مرسی نے 30نومبر 1978ء کو نجلاء محمود سے شادی کی ۔ ان کے بچوں میں احمد، شیماء، اُسامہ، عمر اور عبداللہ  شامل ہیں۔ 1982ء میں امریکہ سائوتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پروفیسر کروگر اسکالر شپ پر پی ایچ ڈی کی ۔ مصری حکام نے شہید کی عوامی جنازے کی اجازت نہیں دی۔شہید کے صاحبزادوں احمد اور عبداللہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کے گھر والوں کو تدفین کی کارروائی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں۔  عدالت کے پنجرے میں موجود الاخوان کے کئی رہنما اپنے قائد محمد مرسی کی موت پر بے ہوش ہوگئے ۔ اخوان کے کئی رہنما ترکی اور دیگر ممالک میں جلاوطن کر دیئے گئے ہیں۔محمد مرسی نے اپنے بیان میں مقدمے کی کارروائی پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بات نہیں کہی۔ مرسی نے اپنا بیان ایک شعر پر ختم کیا، اس کا مفہوم یہ ہے    ۔
 میرا وطن مجھ پر ظلم ڈھائے تب بھی مجھے عزیز ہے
 میرے اپنے میرے ساتھ بُرا کریں تب بھی وہ میری نظر میں صاحبِ کرم ہیں
 مرسی کو اپنے وکیل سے ملنے یا بیرونی دنیا یا اہل خانہ سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں جیل میں الگ کمرے میں رکھا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ادارے کی چیئرپرسن سارہ لیا ویٹسن نے کہا کہ مصری حکومت مرسی کی موت کی ذمہ دار ہے۔ حکومت نے صحت نگہداشت کے سلسلے میں لاپرواہی برتی گی۔ وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ الاخوان نے مرسی کی موت کا ذمہ دار مصری حکومت کو قرار دیا ہے۔حاجی بشیر احمد اور برہان صدیقی نے ڈاکٹر مرسی کی زندگی اور شہادت پر زبردست اور فکر انگیز تبصرے کئے ہیں۔ 2011ء میں مصر میں عوامی انقلاب کی بنیاد ڈالی گئی اوروہاں کے صدر حسنی مبارک کو اقتدا ر سے بے دخل کر دیاگیا۔ان سے ایک جمہوری نظام کا وعدہ کیا گیا۔انتخابات کو دھاندلیوں سے بچانے اور آئین کے مطابق صاف شفاف انتخابات کرانے کے لئے الیکشن کمشنر نے بہت سے امیدواروں کی درخواستوں کو رد کردیا اور بڑی جانچ پڑتال کے بعد ہی امیدواروں کی درخواستیں منظور کی گئیں۔اس لئے جب مصر ی باشندوں کو اپنی آزادانہ رائے کے صحیح استعمال کا موقع ملا تو ان کی نگاہیں ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ پر جاٹکیں،جس کے نمائندے حب الوطنی سے سر شار، لوگوں کے غم گسار، اصلاح معاشرہ کے لیے فکر مند، عزم کے پختہ، خدا ترس اور علم جدید سے مسلّح، اپنے ملک و ملت کے مسائل سے آشنا اور ان کے سد باب کے لئے کوشاں،جن کی نمائندگی عوام کے چہیتے اور ہر دلعزیز شخص ڈاکٹر محمد مرسی کر رہے تھے۔ 
اصلاح معاشرہ اور نوجوانوں کی رہنمائی کا فریضہ آپ پوری تندہی اورجگرسوزی سے کرتے رہے، آپ کی عوام دوستی اور خدمت خلق کے بے لوث جذبا ت نے1992ء میں اخوان المسلمون کی سیاسی ونگ کا آپ کو باقاعدہ ممبر بنا دیا۔ مصریوں کو صدیوں سے نہ غریب کادوست، رعایا کا ہمدرد حضرت یوسف ؑ جیسا فرماں روا ملا،نہ عمر وبن العاص ؓجیسا حکیم و دانا گورنر ملا۔
(جاری ہے)
 نہ عمر بن عبدالعزیز جیسا عادل خلیفہ ملا جس نے خلافت ملتے ہی رعایا میں اعلان کرادیا’’اے لوگو! میں تمہاری مرضی معلوم کیے بغیر تمہارا خلیفہ بنا دیا گیا ہوں ،میں تمہیں اپنی بیعت سے آزاد کرتا ہوں تم جس کو چاہو اپنا خلیفہ منتخب کر لو‘‘۔آزادی رائے کی اس سے مضبوط آواز سر زمین عرب ہی کیا، اس پورے کرہ ارض نے اس کے بعد کبھی نہیں سنی۔ انہوں نے اپنی آزادی رائے کا استعمال کرکے ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کو (1,89,95,083)فیصد 51.73 ووٹ سے نمایاں کامیابی دلاکر،اپنی امیدیں اور برسہا برس سے دبائے جذبات کو نو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حوالے کر دیا۔ان کا یہ صدر پہلا ایسا صدر تھا جو ان ہی میں کا ایک عام شہری تھا، ورنہ اس سے پہلے کے صدر، فوج کے افسران ہوتے تھے جو یا تو با لجبر حکمران بنے  یا خوف کی ایک لہرکے ساتھ وہ حکومت کی کرسی تک پہنچے تھے۔
مصر کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی بحران تھا، اس کو ختم کرنے کے لئے صدر مرسی نے اپنی اور اپنے عہدے کی اصلاح سے کام شروع کیا، ایوان صدار ت پر خرچ ہونے والی بے حساب دولت کو محدود کیا۔اپنے وزراء کو سادگی اپنانے کا حکم دیا۔ سیاسی مفاہمت کو قائم کرنے کے لئے اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو بھی وزارتیں دیں۔بڑی پوسٹ پر بیٹھے ذمہ داروں کو ان کے عہدے پر بحال رکھا۔میڈیا کو مکمل آزادی دی۔اپنے ملک کی فوجی قوت کو بڑھانے اور انتشار سے بچانے کے لئے عبدالفتاح سیسی کو وزیر دفاع اور آرمی چیف جنرل بنایا۔صدر محمد مرسی کے سامنے مصر کی گرتی معیشت بھی ایک بڑا چیلنج تھی، ا س چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے آپ نے اور آپ کے وزراء نے،زراعت، آبپاشی، قومی و بین الاقوامی تجارت پر توجہ مرکوزکی۔نوجوانوں اور بے روز گاروں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے مختلف اسکیمیں چلائی گئیں اوربہت سے منصوبے بنائے گئے۔ بیرونی ممالک سے اپنے رشتے کو بہتر بنانے،یکجہتی،آپسی تعاون، بیرونی مسائل میں شرکت اور امن و امان کا ماحول باقی رکھنے کے لئے مختلف ممالک کے دورے کئے جانے لگے۔  اپنے پڑوس میں انسانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا۔ غزہ اور اسرائیل کے درمیان چل رہی جنگ کو بند کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ غزہ کے لوگوں کی خستہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے آپ نے غزہ کے تمام راستے کھول دیئے۔
صدرمحمد مرسی کے ترقیاتی کاموں کی راہ میں حسنی مبارک کے زمانے سے بڑی بڑی پوسٹوں پر براجمان بے لگام عہدیدار ان ر کاوٹیں کھڑی کرنے لگے‘ چنانچہ آپ نے ان کے خلاف کارروائی کی،اور جن کو سبکدوش کرنا ممکن تھا،ان کو سبک دوش کر دیا،اورنا اہل عہدیداروں کی جگہ با صلاحیت افراد کولائے۔ 1981ء سے صدارت کی کرسی پر براجمان حسنی مبارک نے قانون اور آئین کو اپنے مفادات ا ورخواہشات کے تابع بنا رکھا تھا، جس میں اصلاحات بہت ضروری تھیں،’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘نے قانون میں جمہوری  قدروں کا لحاظ رکھتے ہوئے ترمیمات کیں۔اس پر اپوزیشن نے صدر مرسی اور ان کی پیش کردہ قانونی ترمیمات کو روکنے کے لیے زبر دست ہنگامہ بر پا کیا، جگہ جگہ حکومت مخالف مظاہرے کرائے۔ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ نیا قانون کہتا ہے اس کا مرجع قرآن ہوگا جو آزادی  نسواں کے لیے خطرہ ہے،جمہوریت کا د شمن ہے!نئے قانون کے خلاف ماحول بنانے کے لیے اپوزیشن نے سارے حدود پارکر دئیے، وہ صدر مرسی کی حکومت گرانے کا اسے سنہری موقع تصور کرتے تھے۔محمد البرداعی اور احمدشفیق نے اسلا م کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہ انا پ شناپ پھیلایالیکن باشعورمصری عوام نے ا س طرح کی گمراہ کن باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی کیونکہ ان کے سامنے اپنے صدر کا عملی نمونہ تھا، ایک بوڑھیا اپنا علاج نہ ہو پانے پر صدر مرسی کو اللہ کے سامنے جواب دہی کی دھمکی دیتی ہے اور ہسپتال کا اسٹاف یہ دیکھ کر ششد رہ جاتا ہے کہ مصر کا صدر اس بوڑھیا کو تلاش کرتا ہوااس تک پہنچ  گیا۔انصاف پسند اتنے کہ اپنے ہی بیٹے کو نوکری کی سفارش سے منع کر دیتے ہیں،اور کیو ں نہ ہو! جو قرآن ان کا دستور، اور ان کا قانون تھا، اس کے شارح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عالم تھا کہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ وہاں کے عوام سکون کی نیند سو سکیں۔خلیفہ اوّل اپنے پہلے ہی خطبے میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ: ’’تم میں سے کمزور آدمی میر ے نزدیک اس وقت تک قوی ہے جب تک میں اسے ظالم سے اس کے حقوق نہ دلا دوں۔‘‘
جب قرآنی تعلیما ت ا ور نبویؐ ہدایات کے مطابق قانون سازی ہوئی، تو لوگوں کی آزادی اور بے باکی کا عالم یہ تھا کہ حضرت عمرؓ سے مسجد نبوی ؐمیں ایک شخص پوچھتا ہے:’’لوگوں  میں ایک چادر تقسیم کی گئی، آپ نے دو چادریں کہاں سے اوڑھ لیں؟‘‘ اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ؒنے جب قرآن وحدیث کو اپنی سلطنت کا دستور قرار دیا تو صرف دو سال کی قلیل مدت ہی میں آپ کی رعایا کے درمیان کوئی ایک شخص بھی غریب،بھوکا اور بے سہارا نہ بچا۔حمص،مصر،عراق ہر جگہ اعلان پر اعلان کرایا جاتا کہ جو کوئی صدقے کا ضرورت مندہو بیت المال سے سے اپنا حق لے لے۔ محاسب دن بھر انتظار کرتا، پر کوئی نہ آتا۔دنیوی زندگی کو سب کچھ سمجھنے والے ذہن لا محدود او رغیر قانونی عیش کے خواہش مندہوتے ہیں۔ اسی لئے شراب نوشی،جسم فروشی اور نائٹ کلبوں پر لگائی جانے والی پابندیاں ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں، اسکرٹ پہننے پر پابندی لگائی جائے تواسے  آزادی کے خلاف تصور کیا جا تاہے، عین اسی وقت جب اسکارف پر پابندی لگتی ہے تو وہ قانون کے مطابق کہلاتا ہے!انسان جدت پسندی (صحیح الفاظ میں نفس  پرستی)میں جب غرق ہوتا ہے تو اس کی حیثیت ان پتنگوں کی طرح ہوتی ہے جو رات بھر شمع کے چاروں طرف منڈلاتے اس محدود روشنی میں گم،بدمست ہوتے ہیں لیکن روشنی کا منبع سورج صبح سویرے آسمان سے جیسے ہی جھانکتا ہے ان کے کمزور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔اسی طرح انسان اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کے نقصان کی پرواہ کرنا ضروری نہیں سمجھتا، اپنے سامان عیش کے لئے کسی کا حق مارنے سے نہیں چوکتا،طریق زندگی اختیا ر کرنے میں اسے کسی کی بالادستی پسند نہیں آتی۔اسی لیے جب اسلام تمام انسانیت کے حقوق کی حفاظت کے لیے، اور پاکیزہ معاشرے کو سجانے کے لیے کہیں سختی اختیار کرتا ہے تو غیر تربیت یافتہ ذہن اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو تے ہیں۔وہ اس روشنی کی تاب نہیں لاپاتے۔اسی لئے جب ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘نے قانون کا مرجع قرآن کو قراردیا تو اپوزیشن اپنے حامیوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور روز مرہ کی زندگی کو درہم برہم کرنے لگے۔ ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘نے قانون کی بالادستی قائم رکھنے، عوام کو انتشار سے بچانے اور مصر میں امن کا ماحول برقرار رکھنے کیلئے ’’ریفر ینڈم‘‘ کرایا،اس میں عوام نے اسے 60 فیصد سے زیادہ ووٹ دے کر نئے قانون پر اپنا اطمینان ظاہر کیا۔’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ نے ایسے دور میں قرآن وسنت کو قانون کا منبع تسلیم کیا جبکہ دنیا میں سیکولر، جمہوریت پسند یا بڑی بڑی جماعتیں اور خاندان حکومتیں چلارہے ہیں۔ایسے میں اسلام کا اُبھرنا اور لوگوں کا اس کی طرف راغب ہونا،کیسے پسند کیا جاتا؟
مصر کے امن اور ترقی کی طرف بڑھتے قدم دیکھ کر دوسرے عرب ممالک میں بھی عوامی انقلاب کی چنگاریاں چمکنے لگیں۔یورپ و افریقہ کے اہل قلم اور دانش ور صدر محمدمرسی کی تعریف کرتے نظر آنے لگے۔ عوام کے درمیان اسلامی طرز حکمرانی اور اس کے بنیادی مآخذپر مجالس و مباحث ہونے لگے جس سے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو آنے والے ایام میں مختلف مقامات پر سر اٹھاتے عوامی انقلاب نظر آنے لگے۔اسی دوران ’’فریڈم اینڈجسٹس پارٹی‘‘کی جانب سے غزہ مصر کی سرحدوں کو کھولنے اور غزہ کے انسانوں کو آزادی فراہم کرنے سے اسرائیل اور اس کے ہم نوائوں کی نیندیں اڑ گئیں۔عرب ممالک میں عوامی انقلاب کے خطرے نے عرب حکمرانوں کو مصرکی جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں میں مشغول کر دیا۔احمد شفیق،عمر و موسیٰ،محمد البرداعی اور حسنی مبارک کے اسلام دشمن نمک خواروں کو پہلے تو الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر دوبارہ ریفرنڈم کے موقع پرعوام نے انہیں زمین پر دے ماراتھا۔اپنی ان ناکامیوں سے یہ لوگ بھی بوکھلائے ہوئے تھے۔ان سب کو صدر محمدمرسی کے خلاف سر گرم دیکھ کر ناکام سیاست دانوں اور فوج کے کرنل عبدالفتاح سیسی میں صدر بننے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ 
بالآخر ان اسباب و محرکات نے مل کر صدر مرسی کے خلاف ا یسا محاذ کھولا کہ عوام کے پاسبان ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کے افراد اپنی حکومت کو بچا نہ سکے کیونکہ فوج نے اپنے ہتھیا ر،اپنی توپوں اور اپنی بندوقوں کا نشانہ اس عوام کی طرف کر رکھا تھا جو صدر مرسی کے حق میں اپنے روزمرہ کی مشغولیات کو پس پشت ڈال کر سڑکوں پر آگئے تھے،جس مظلوم ومعتوب عوام کی فلاح و بہبود کا خواب سجائے صدر مرسی اور ان کے وزراء دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔وہ اپنے معصوم عوام کا بہتا خون کیسے دیکھ سکتے تھے؟ شہید ہوئے جوانوں،بیوہ ہوئی عورتوں، بلبلاتے بچوں  کے آنسوئوں نے صدر مرسی اور ان کے وزراء کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا، وہ ان خونی کارروائیوں کو آپسی مفاہمت سے ختم کرنا چاہتے تھے،لیکن مخالفین کے ارادے تو ان کی ہستی ختم کرنے کے تھے۔ وہ تو ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘کا پوری طرح صفایا کرنا چاہتے تھے تاکہ کوئی دوبارہ ان کی من مانیوں کے خلاف انصاف کا علم بلند کرنے نہ کھڑا ہوجائے اور عوام ان کی شکایتوں کو لے کر کسی دوسرے کے سامنے نہ جاسکیں۔
چنانچہ جمہوری صدر محمد مرسی اور ان کے رفقاء کو جھوٹے  اوربے بنیاد الزامات کی بیڑیاں پہنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا،اور ایسی عدالتیں قائم کی گئیں جو آئے دن جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے رفقاء کو سزائے عمر قید، یاسزائے موت سنا کر دل ہی دل میں مچلتی ہیں کہ ہم نے اپنے آقائوں کوخوش کر دیا۔غاصب اور خوں خوار صدر سیسی کو لگتاہو گا کہ میری راہ ہموار ہو گئی،لیکن کیا اس کے کانوں نے صدر مرسی کے فرزند اُسامہ مرسی کے یہ بے باک جملے نہیں سنے؟:’’ظالموں کویہ معلوم ہونا چاہئے کہ ا ن فیصلوں سے ہمارے عزائم پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں،ان سے نہ تو ہمارے قدم ڈگمگانے والے ہیں،نہ مصر کی تحریک آزادی ان سے کمزور پڑنے والی ہے،اس تحریک کا محورکبھی اشخاص نہیں رہے ہیں‘‘۔سرزمین مصر کے ان سپوتوں پر ہمیں ناز ہے، جو جہاں بھی رہے اپنے رب کی عظمت و کبریائی کے نعرے لگاتے رہے،اس کی حاکمیت کے گن گاتے رہے،اس کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزارتے رہے،اور اسی میں دل کا سکون اور زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرتے رہے! اور چلتے چلتے عزیمت وایثار کی درخشندہ داستان رقم کر تے ہوئے ڈاکٹر محمد مرسی معرکہ حق میں باطل کی قائم کردہ عدالت میں اپنا دفاع کر تے ہوئے جام ِ شہادت نوش کر گئے۔وہ شدید علیل تھے۔ علاج و معالجہ سے محروم رکھا گیا۔ اس لئے اسے حراستی قتل بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس حراستی قتل کی غیر جانبدارانہ شفاف تحقیقات کی جائے  تو سچ سامنے آ سکتا ہے۔ اللہ  پاک محمد مرسی کی شہادت قبول فرمائے۔ 


 

تازہ ترین خبریں