07:59 am
منافق کی حقیقی پہچان؟

منافق کی حقیقی پہچان؟

07:59 am

’’نفاق‘‘  کے اصل معنی ہیں ظاہر‘ باطن کے مخالف ہونا‘ نفاق کی کئی قسمیں بھی ہیں اول اعتقادی نفاق‘ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر اللہ کی توحید و رسالت فرشتو ں وغیرہ پر اعتقاد ظاہر کرنے  کا دعویدار ہو‘ مگر دل میں سب کا انکار کرے‘ دوسرا عملی نفاق‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص دل سے تو توحید و رسالت‘ فرشتوںاور روز آخرت  پر اعتقاد رکھتا ہو‘ مگر اپنے دینی انحطاط کی وجہ سے ان باتوں کو بھی اختیار کرے جو منافقین کی نشانیاں اور خاصہ ہوتی ہیں‘ایسا شخص فاسق و فاجر ہوتا ہے۔
 
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور  دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں‘‘۔ دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور ایمان والوں سے اور دراصل وہ کسی کو دغا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سوچتے‘ ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لئے عذاب درد ناک ہے‘ اس بات  پر  کہ جھوٹ کہتے تھے‘ اور جب کہا جاتا ہے ان کو فساد نہ ڈالو زمین پر تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں‘ جان لو وہی ہیں خرابی کرنے والے لیکن نہیں سمجھتے اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لائو جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف ‘جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں کہ بے شک ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ ہم تو ہنسی کرتے ہیں (یعنی مسلمانوں سے) اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے ‘ترقی دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے اندھے ہیں‘ یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی گمراہی ہدایت کے بدلے‘ سونا فغ نہ ہوئی ان کی سودا گری اور نہ ہوئے راہ پانے والے‘ ان کی  مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے آس پاس کو  تو زائل کر دی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے‘ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں ‘ سووہ نہیں لوٹیں گے‘ یا ان کی مثال ایسے ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے اس میں اندھیرے میں اندھیرا (چھا رہا)  ہو اور بادل گرج رہا ہو اور بجلی کوند رہی ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے‘‘ (ابقرہ آیت نمبر8تا 19) مندرجہ بالا آیات مقدسہ کی تفسیر مفتی اعظم پاکستان حضرت اقدس مولانا مفتی محمد شفیع ؒ معارف القرآن میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیات میں پہلی دو آیتوں میں منافقین کے متعلق فرمایا کہ ’’لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں ہیں بلکہ وہ دھوکا دیتے ہیں اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیں‘لیکن حقیقت میں وہ کسی کو دھوکا نہیں دے رہے ہوتے سوائے اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔‘‘
اس میں ان کے دعویٰ ایمان کو غلط اور جھوٹا قرار دیا گیا اور یہ کہ ان کا دعویٰ محض فریب ہے‘ مگر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دے سکتا‘اور غالباً یہ لوگ بھی ایسا نہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دھوکا دے سکتے ہیں ‘مگر رسول اکرمﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی چالبازی کو ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ چالبازی قرار دیکر فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں۔ (قرطبی عن الحسن)
اسی لئے ان کا نتیجہ بتایا گیا ہے کہ یہ بے وقوف اپنے سوا اور کسی کے ساتھ چالبازی نہیں کرتے ہیں‘ کیونکہ اللہ جل شانہ تو ہر دھوکہ و فریب سے بالاتر ہیں‘اللہ کے رسولؐ اور مومنین بھی وحی الٰہی کی وجہ سے ہر دھوکا‘ فریب سے محفوظ ہو جاتے ہیں‘ کوئی نقصان ان کو نہیں پہنچتا‘ البتہ ان کے دھوکہ‘ فریب کا وبال دینا و آخرت میں خود انہیں پر پڑتا ہے۔
تیسری آیت میں فرمایا کہ ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے‘سو اور بھی بڑھا دیا اللہ نے ان کے مرض کو‘ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ان نفسانی کیفیات کو بھی مرض کہا جاتا ہے جو نفس انسانی کے کمال میں خلل انداز ہوں اور جن کی وجہ سے انسان اپنے انسانی اعمال سے محروم ہوتا چلا جائے ‘جس کا آخری نتیجہ روحانی موت و ہلاکت ہے‘ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ دلوں کے امراض ‘خواہشات نفسانی کی ابتاع سے پیدا ہوتے ہیں۔
اس آیت میں  ان کے دلوں میں مخفی کفر کو مرض فرمایا گیا ہے کہ جو روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے بڑا مرض ہے‘روحانی مرض ہونا تو ظاہر ہے کہ اول تو اپنے پیدا کرنے والے‘ پالنے والے رب کی ناشکری اور اسکے احکام سے سرکشی  جس کا نام کفر ہے...یہ خود روح انسانی کیلئے سب سے بڑا  مرض اور شرافت انسانی کے لئے بدترین داغ ہے‘ دوسرا دنیا کی ذلیل اغراض کی خاطر اس کو چھپاتے رہنا اور اپنے دل کی بات کو ظاہر بھی نہ کرنا۔
یہ بھی روح کا بڑا مرض ہے اور نفاق کا جسمانی مرض ہونا اس بناء پر ہے کہ منافق کے دل میں ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں میرا اصلی حال نہ  کھل جائے‘شب و روز اس کی فکر میں رہنا خود ایک جسمانی مرض ہے۔
چوتھی اور پانچویں آیت میں منافقین کا یہ مغالطہ مذکور ہے کہ وہ فساد کی اصلاح سمجھتے اور اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے‘ قرآن کریم میں واضح کیا کہ فساد و اصلاح زبانی دعوئوں پر دائر نہیں ہوتے‘ چھٹی آیت میں منافقین کے سامنے صحیح ایمان کا ایک معیار رکھا گیا کہ امنواکما امن الناس ’’یعنی ایمان لائو جیسے ایمان لائے اور لوگ‘‘ اس میں لفظ ناس سے مراد باتفاق مفسرین صحابہ کرامؓ ہیں کیونکہ وہی حضرات ہیں کہ جو نزول قرآن کے وقت ایمان لائے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی ایمان معتبر ہے جو صحابہ کرامؓ کے ایمان کی طرح ہو۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں