08:00 am
ایک اور یو ٹرن

ایک اور یو ٹرن

08:00 am

٭آصف زرداری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری، اسمبلی کے اجلاس میں شرکتO شہباز شریف نے اسمبلی میں تین گھنٹے تقریر کی، حکومت کو ’میثاق معیشت‘ کی پیش کش!O چیف جسٹس کا معیشت، کرکٹ، سیاست پر مایوسی کا اظہارO مقبوضہ کشمیر تین بھارتی فوجیوں کی خودکشی! برطانیہ، سیاسی پناہ کے لئے اسحق ڈار کا وزارت داخلہ میں چار گھنٹے انٹرویوO سندھ میں جلسے کروں گی: مریم نوازO برطانیہ کا مجرموں کے تبادلے کے معاہدہ سے انکارO سینٹ میں ہنگامہ، سارجنٹ بلانا پڑے۔
 
٭بالآخر آٹھ روز تک چخ چخ، اسمبلیوں، سینٹ میں ہنگامہ آرائی، ہاتھا پائی، گالم گلوچ کے بعد وزیراعظم نے اپنے احکام واپس لے لئے، قومی اسمبلی کے سپیکر نے نیب کے زیر حراست آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کو اسمبلی میں لائے جانے کے ’’پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے اور وہ اسمبلی میں پہنچ گئے۔ دونوں 29 جون تک بجٹ اجلاسوں میں حاضر ہوا کریں گے۔ اس دھینگا مشتی اور مارا ماری سے کیا حاصل ہوا؟ سات روز تک بجٹ پر بحث نہیں ہو سکی۔ اسمبلی میں بار بار ہنگامے اور اجلاس ملتوی ہوتے رہے! اسمبلی کے ایک اجلاس پر لاکھوں روپے روزانہ کے اخراجات ہوتے ہیں! لڑائی جھگڑوں میں مصروف ارکان ان لڑائی جھگڑوں کی بھی تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ اپوزیشن نے تومخالفت کرنی ہی ہوتی ہے مگر اس بار خود حکومت نے ہنگامے شروع کر دیئے اور بجٹ پر بار بار بحث روک دی! وزیراعظم عمران خان ابھی تک کرکٹ کے میدان اور اسمبلی کے ایوان میں فرق ہی نہیں سمجھ سکے! ایک دن حکم جاری کیا، ’’اپوزیشن کو تقریر نہیں کرنے دیں گے، آصف زرداری کو اسمبلی میں لانے کا حکم جاری نہیں ہو گا‘‘۔ دونوںاحکام دھرے رہ گئے، اپوزیشن کے رہنما شہباز شریف نے تقریر کی اور آصف زرداری اسمبلی میں پہنچ گئے۔ مرزا غالب کے مطابق سیاست کو بچوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ اس وقت نوازشریف اور شہباز شریف کی سیاست ایک دوسرے کے الٹ جا رہی ہے۔ نوازشریف کی حکمت عملی واضح ہے کہ جان بچانے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آ رہا تو حکومت کو بھی نہ چلنے دو۔ انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت بیٹی مریم نواز کو سونپ دی ہے۔ شہباز شریف پارٹی کے صدر ہیں مگر مریم نواز پارٹی کی قائد کے طور پر آزادانہ جلسوں کا اعلان کر رہی ہیں۔ شہباز شریف اعتدال پسندانہ سیاست کر رہے ہیں۔ حالات بہتر بنانے کے لئے حکومت کو اقتصادی تعاون پیش کر رہے ہیں۔ انہیں پارٹی کے سینئر لیڈروں کی حمائت بھی حاصل ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کو دانش مندی کے ساتھ شہبازشریف کی اعتدال پسندی کا ساتھ دینا چاہئے تھا مگر وزیراعظم صاحب کو کون سمجھائے؟ ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی دھمکی! یہ نہیں کرنے دوں گا، وہ نہیں کرنے دوں گا! ملک کے حالات نہائت دگرگوں ہو چکے ہیں۔ خزانہ خالی ہے، قرضوں کا انبار لگا ہوا ہے، سرحدوں پر دشمن کھڑا ہے اور ملک میں سیاست دان جانوروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ آصف زرداری اور سعد رفیق کو پہلے دن ہی اسمبلی میں بلا لیا جاتا تو کیا فرق پڑ جاتا؟ خواہ مخوا آٹھ دن ضائع نہ ہوتے۔ محترم وزیراعظم صاحب!آپ کی اطلاع کے لئے کہ 1972ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کے لئے روانہ ہوئے تھے تو شدید اختلافات کے باوجود اپوزیشن کے سارے رہنما اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر انہیں رخصت کرنے آئے تھے۔ 1973ء کے آئین کی منظوری کے لئے بھی ساری اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ قادیانیوںکو غیرمسلم قرار دیتے وقت بھی اسمبلی نے مکمل اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا تھا۔ پشاور میں آرمی سکول کے واقعہ پر بھی تمام پارٹیاں اکٹھی ہو گئی تھیں۔ چند ماہ قبل بھارت نے آزاد کشمیر پر حملہ کیا تو شدید مخالفت کے باوجود پوری اپوزیشن حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی! محترم خان صاحب! وزیراعظم پورے ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے! اور کیا لکھوں؟
٭عجیب صورت حال ہے، اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کو اکثریت حاصل ہے، سینٹ میں اپوزیشن بنی ہوئی ہے۔ اب تو خیر حکومت اسمبلی میں بھی حکومت خود ہی اپوزیشن بنی ہوئی ہے تاہم اس کے لئے غنیمت ہے کہ ہر قانون سینٹ میں پیش کرنا ضروری ہے مگر بجٹ صرف اسمبلی منظور کرتی ہے اسے سینٹ میں پیش نہیں کیا جاتا۔ بجٹ پر بحث 29 جون تک مکمل ہونی ہے۔ آٹھ روزضائع ہو چکے ہیں صرف آٹھ دن مزید باقی ہیں۔ بجٹ میں پہلے سے زیادہ پھیلائو ہے، اس کے اس کی منظوری کے لئے زیادہ وقت چاہئے!
٭برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کے معاہدہ سے انکار کر دیا ہے۔ ایسے معاہدہ سے اسے الطاف حسین، اسحق ڈار، سلمان شہباز، حسین نواز، حسن نواز، بابر غوری،آیان علی اور دوسرے مفرور افراد پاکستان کو واپس کرنے پڑتے۔ ان لوگوں نے برطانیہ میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، وسیع پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں، برطانیہ انہیں کیسے واپس کر سکتا ہے؟ تازہ خبر یہ ہے کہ اسحق ڈار نے سیاسی پناہ کے لئے برطانیہ کی وزارت داخلہ میں چار گھنٹے کا انٹرویو دیا ہے۔ ان کے بیٹے نے سیاسی پناہ کی تردید کی ہے۔ مگر سیاسی پناہ کا معاملہ نہ بھی ہو، تو یہ صاحب کیوں واپس آئیں گے! جیل بہت اذیت ناک جگہ ہوتی ہے۔
٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی کی قید اور موت کے پیچھے اسرائیل کا کیا کردار تھا؟ جواب یہ ہے کہ ڈاکٹر مرسی مصر میں اعلیٰ اسلامی اقدار کا نفاذ چاہتے تھے۔ وہ بادشاہت کے خلاف تھے۔ حسنی مبارک 30 سال سے مصر پر سوار تھا۔ اس نے مخالفین پر بہت ظلم کئے تھے۔ ڈاکٹر مرسی اسرائیل کے بہت مخالف تھے۔ موجودہ جنرل السیسی نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو سعودی عرب، عرب امارات کے ساتھ اسرائیل نے بھی السیسی کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے تھے۔ حسنی مبارک نے فلسطین کو جانے والے واحد راستے کو بند کیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر مرسی نے وہ راستہ کھول دیا تھا، اسے اب پھر بند کر دیا گیا ہے۔ ایک بات یہ کہ ڈاکٹر مرسی نہائت روشن  خیال اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ مصری یونیورسٹی سے دھاتی علوم کی انجینئرنگ میں ایم ایس سی اور کیلی فورنیا (امریکہ) کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے!
٭کچھ دلچسپ باتیں: ایک خبر کہ پختونخوا کی حکومت نے نسوار پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس پر بازار میں نسوار کی قیمتیں دوگنا ہو گئی ہیں۔ نسوار دو قسم کی ہوتی ہے ایک ناک سے سونگھنے والی، دوسری منہ میں رکھنے والی! مجھے ان دونوں نسواروں کا کوئی تجربہ نہیں البتہ منہ میں نسوار ڈالنے کے بارے میں عام تاثر اچھا نہیں، بار بار تھوکنا پڑتا ہے، منہ کی رگیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اور عجیب سی بدبو آنے لگتی ہے! 
٭وزیراعظم نے کسی مقولے کے بارے میں فرمایا کہ یہ بات لبنان کے فلسفی خلیل جبران نے کہی ہے۔ ہر پارٹی میں ایک آدھ لکھاپڑا شخص بھی ہوتاہے۔ ن لیگ کے ایک ایسے ہی تعلیم یافتہ شخص نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ عمران خان صاحب علم و ادب کے بارے میں احتیاط کیا کریں۔ یہ مقولہ جبران کا نہیں، ٹیگور کا ہے۔ مجھے عربی کا ایک مقولہ یاد آ گیا ہے کہ بادشاہوں کا کلام، کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے! میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آ چکا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک بار لاہور کے ریلوے سٹیشن پر کہا کہ لاہور والوں کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ اُردو زبان کا پہلا شاعر سلمان لاہور میں پیدا ہوا تھا۔ میں نیا نیا مشرق اخبار میں آیا تھا۔ میں نے نیوز ایڈیٹر نذیر حق صاحب (مرحوم) سے کہا کہ ایوب خان نے غلط کہا ہے، تحقیق بہت آگے جا چکی ہے،سلمان پہلا شاعر نہیں ہے۔ نذیر صاحب بولے کہ برخوردار تم فیلڈ مارشل ہو؟ میں نے کہا کہ نہیں! کہنے لگے، پھر وہی چھپے گا جو فیلڈ مارشل کہہ رہا ہے۔ سو حضرات بات جبران کی ہو یا ٹیگور کی، سرکاری ٹی وی وہی بات کہے گا جو وزیراعظم نے کہی ہے!

تازہ ترین خبریں