11:58 am
حکم حاکم ،مرگ مفاجات

حکم حاکم ،مرگ مفاجات

11:58 am

(گزشتہ سًے پیوستہ)
    اہل درد محب وطن تجزیہ کار اورسیاست کاربخوبی سمجھ رہے ہیں کہ وطن عزیز کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ دراصل کھیل اس طرح سے کھیلا جارہاہے کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرجائے۔ پاکستان چونکہ دنیاکی بڑی سپرپاور امریکہ کا دست نگر رہاہے اس کی سرپرستی کوتسلیم کرتارہاہے اس کے اشارے پر اپنی افواج اور عوام کے سر پیش کرتارہاہے اسی لئے امریکہ نے جب جوکہاوہ ہمارے حکمران تسلیم کرتے رہے ہیں لیکن جب سے سابقہ حکمران نے اس کی بات نہ مانتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کوایٹمی قوت والاملک تسلیم کرنے پرمجبور کردیاہے تب سے تمام کلیسائی ممالک اور خصوصاً امریکہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا خواہش مندہے۔ جب سے سابقہ حکومت نے امریکی  رویوں سے بددل ہوکر چین سے ا پنی دوستی کو پائیدار اورمستحکم کرناشروع کیاہے توامریکیوں کی نیند حرام ہورہی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کے پاکستان جیسی سونے کی چڑیاان کے ہاتھوں سے نکل کرچین کے ہاتھ کیوں لگ رہی ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاہے‘ امریکہ اس سے ناخوش ہے کیونکہ اس نے اپنی ہرقسم کی چھوٹی بڑی سستی مصنوعات دنیابھرمیں اورخصوصاً امریکہ میں پھیلاکراپنا خوف امریکیوں میں بیٹھا دیاہے۔  چین سے امریکہ یوں بھی خوف زدہ ہے کہ کہیں چین عالمی سطح پر اس کی برتری نہ چھین لے کیونکہ چین بھی خطہ میں پاکستان کی اہمیت کواچھی طرح سمجھتاہے اس لئے وہ بھی پاکستان پراپنادست شفقت رکھنا چاہ رہاہے۔ چین  ہرمحاذ پر امریکہ کوپسپاکررہاہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کوپاک چین دوستی ہضم نہیں ہورہی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان سے کیسے نمٹا جائے تاکہ اس کی حیثیت واہمیت خطہ میں برقرار رہے ۔ امریکی منصوبہ سازوں نے اب منصوبہ بنالیاہے کہ پاکستان کومعاشی طور پر بدحال کرکے قابو پایاجائے۔  پہلے پاکستان کوسیاست کے میدان میں چاروں خانے چت کیا۔ تمام سابقہ حکمرانوں پر بدعنوانی کے مقدمات بنواکر انہیں نااہل کرایاگیا پھر اپنے نئے منصوبے کے تحت ایک ایسے حکمران کاانتخاب کرایاگیا جو ہرحال اور ہرطرح سے حکم کی تعمیل کرنے والاہو ‘ خواہ  وہ چاہے نہ چاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکمران کوباربار پلٹنے کے طعنے سناپڑتے ہیں ۔
 
  امریکی منصوبہ سازوں نے اپنے معاشی ادارے آئی ایم ایف جوایک یہودی تنظیم کے زریعہ اپناسودی کاروبار کرتاہے وہ بھی تمام مقامی غیر مقامی بنکوں کی طرح قرضہ دینے سے قبل اپنے سرمایہ کا تحفظ چاہتاہے اور ساتھ ہی اس پر ملنے والے سودکی بروقت ادائیگی کی ضمانت بھی چاہتا ہے۔ اس طرح وہ اور اس کے اصل سرپرست امریکہ اپنی من مانی شرائط عائد کر کے متعلقہ ملک کے اقتدار پر درپردہ قابض ہوجاتاہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وطن عزیزکے ساتھ ہورہاہے۔ پاکستان تو امریکہ کادوہرا مجرم ہے پہلے ایٹمی پروگرام‘ پھر منع کرنے کے باوجود دھماکہ کرنا پھر چین کی دوستی میں اس قدر بڑھنا کہ اپنی بندرگاہ تک ناصرف سی پیک کے ذریعہ رسائی دینا اورگوادر چین کے سپرد کردینا یہ پروگرام توناقابل برداشت ہوگیا اس لئے پاکستان پرایسی حکومت قائم کی گئی جو بظاہر توان کی مخالفت کرے لیکن درحقیقت اس کی تابع فرمان رہے۔ حکمران وقت جومدت سے اقتدار کے خواب دیکھتا رہاتھا اس کے بھاگوں چھیکاٹوٹنے سے اسے تعبیر ملی جسے وہ ہرحال ہرقیمت پربرقراررکھناچاہے گا حالانکہ ان کی ذاتی خواہشات ان کے سیاسی عمل کے برعکس ہیں۔ وہ جیساچاہتے ہیں وہ کرنہیں پارہے۔  آئندہ وطن عزیز پر آئی ایم ایف حکمرانی کرے گی  کیونکہ مقروض کوقرض دینے والوں کی شرائط کوماناہی پڑتاہے۔  اس لئے ہی ملکی خزانہ آئی ایم ایف کے سپرد کردیا گیاہے۔ اپنے سرمائے کی حفاظت کے لئے  بنک دولت پاکستان بھی آئندہ آئی ایم ایف کی مامور ‘ وزارت خزانہ کاچارج اور بنک دولت پاکستان کاقبضہ دیاجاچکاہے ان کی مشاورت سے بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنے مفادات کے عین مطابق آنے والے برس کے لئے بجٹ بھی پیش کردیاہے جس سے عوام کی چیخیں ابھی سے نکلنا شروع ہوچکی ہیں۔ حکومت اپنااقتدار بچانے کیلئے تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حزب اختلاف شور مچارہی ہے لیکن سود خور کیسے اپنامنافع دائو  پرلگاسکتاہے۔ وطن عزیزکوہرآنے والے اور ہرجانے والے نے اپنی استعداد کے مطابق مقروض ہی کیاہے اب بال بال قرضوں میں جکڑاجاچکاہے اب کوئی آئے یاجائے کچھ فرق پڑنے والا نہیں ۔
اب اگر تمام سیاسی جماعتیں مل کربھی حکومت مخالف تحریک چلالیں تب بھی فی الحال کچھ فرق پڑھنے والانہیں ہے جوکام امریکیوں نے کرناتھاوہ کرچکے اب صرف ایک مسئلہ  چین سے تعلق توڑنے کارہ گیاہے وہ بھی امریکی نمائندگان جن کووطن عزیزکاقبضہ دیاجاچکاہے یہ کام وہ باآسانی  خودبھی کرسکتے ہیں شاید وہ وقت قریب آرہاہے جب وزیراعظم پلٹ پلٹ کردیکھ رہے ہوںگے اپنے گمشدہ اقتدار کو۔  آنے والے کسی کے دوست نہیں وہ صرف اورصرف اپنے مفادات کے دوست ہیں انہوں نے اگر پاکستان کوقرضہ دیاہے تواس کامطلب دوستی یاکسی قسم  کی مروت نہیں ہے۔ انہیں اپنے سرمایہ اور اس سے ملنے والے منافع سے مطلب ہے۔ عوام اورمقروض ملک جہنم میں جاتاہے توجائے‘ بس ہرحال میں ان کاسرمایہ محفوظ رہنا چاہیے۔ اس کے لئے اس ملک کی اس کے عوام کی چمڑی ہی کیوں  نااترناپڑے ۔اللہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور ہمارے اہل سیاست کوعقل سلیم سے نوازے ۔آمین 

تازہ ترین خبریں