11:59 am
آہ  ! ڈاکٹر محمد مرسی شہید

آہ  ! ڈاکٹر محمد مرسی شہید

11:59 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
انسان جدت پسندی (صحیح الفاظ میں نفس  پرستی)میں جب غرق ہوتا ہے تو اس کی حیثیت ان پتنگوں کی طرح ہوتی ہے جو رات بھر شمع کے چاروں طرف منڈلاتے اس محدود روشنی میں گم،بدمست ہوتے ہیں لیکن روشنی کا منبع سورج صبح سویرے آسمان سے جیسے ہی جھانکتا ہے ان کے کمزور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔اسی طرح انسان اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کے نقصان کی پرواہ کرنا ضروری نہیں سمجھتا، اپنے سامان عیش کے لئے کسی کا حق مارنے سے نہیں چوکتا،طریق زندگی اختیا ر کرنے میں اسے کسی کی بالادستی پسند نہیں آتی۔اسی لیے جب اسلام تمام انسانیت کے حقوق کی حفاظت کے لیے، اور پاکیزہ معاشرے کو سجانے کے لیے کہیں سختی اختیار کرتا ہے تو غیر تربیت یافتہ ذہن اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو تے ہیں۔وہ اس روشنی کی تاب نہیں لاپاتے۔اسی لئے جب ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘نے قانون کا مرجع قرآن کو قراردیا تو اپوزیشن اپنے حامیوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور روز مرہ کی زندگی کو درہم برہم کرنے لگے۔ ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘نے قانون کی بالادستی قائم رکھنے، عوام کو انتشار سے بچانے اور مصر میں امن کا ماحول برقرار رکھنے کیلئے ’’ریفر ینڈم‘‘ کرایا،اس میں عوام نے اسے 60 فیصد سے زیادہ ووٹ دے کر نئے قانون پر اپنا اطمینان ظاہر کیا۔’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ نے ایسے دور میں قرآن وسنت کو قانون کا منبع تسلیم کیا جبکہ دنیا میں سیکولر، جمہوریت پسند یا بڑی بڑی جماعتیں اور خاندان حکومتیں چلارہے ہیں۔ایسے میں اسلام کا اُبھرنا اور لوگوں کا اس کی طرف راغب ہونا،کیسے پسند کیا جاتا؟
 
مصر کے امن اور ترقی کی طرف بڑھتے قدم دیکھ کر دوسرے عرب ممالک میں بھی عوامی انقلاب کی چنگاریاں چمکنے لگیں۔یورپ و افریقہ کے اہل قلم اور دانش ور صدر محمدمرسی کی تعریف کرتے نظر آنے لگے۔ عوام کے درمیان اسلامی طرز حکمرانی اور اس کے بنیادی مآخذپر مجالس و مباحث ہونے لگے جس سے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو آنے والے ایام میں مختلف مقامات پر سر اٹھاتے عوامی انقلاب نظر آنے لگے۔اسی دوران ’’فریڈم اینڈجسٹس پارٹی‘‘کی جانب سے غزہ مصر کی سرحدوں کو کھولنے اور غزہ کے انسانوں کو آزادی فراہم کرنے سے اسرائیل اور اس کے ہم نوائوں کی نیندیں اڑ گئیں۔عرب ممالک میں عوامی انقلاب کے خطرے نے عرب حکمرانوں کو مصرکی جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں میں مشغول کر دیا۔احمد شفیق،عمر و موسیٰ،محمد البرداعی اور حسنی مبارک کے اسلام دشمن نمک خواروں کو پہلے تو الیکشن میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر دوبارہ ریفرنڈم کے موقع پرعوام نے انہیں زمین پر دے ماراتھا۔اپنی ان ناکامیوں سے یہ لوگ بھی بوکھلائے ہوئے تھے۔ان سب کو صدر محمدمرسی کے خلاف سر گرم دیکھ کر ناکام سیاست دانوں اور فوج کے کرنل عبدالفتاح سیسی میں صدر بننے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ 
بالآخر ان اسباب و محرکات نے مل کر صدر مرسی کے خلاف ا یسا محاذ کھولا کہ عوام کے پاسبان ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کے افراد اپنی حکومت کو بچا نہ سکے کیونکہ فوج نے اپنے ہتھیا ر،اپنی توپوں اور اپنی بندوقوں کا نشانہ اس عوام کی طرف کر رکھا تھا جو صدر مرسی کے حق میں اپنے روزمرہ کی مشغولیات کو پس پشت ڈال کر سڑکوں پر آگئے تھے،جس مظلوم ومعتوب عوام کی فلاح و بہبود کا خواب سجائے صدر مرسی اور ان کے وزراء دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔وہ اپنے معصوم عوام کا بہتا خون کیسے دیکھ سکتے تھے؟ شہید ہوئے جوانوں،بیوہ ہوئی عورتوں، بلبلاتے بچوں  کے آنسوئوں نے صدر مرسی اور ان کے وزراء کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا، وہ ان خونی کارروائیوں کو آپسی مفاہمت سے ختم کرنا چاہتے تھے،لیکن مخالفین کے ارادے تو ان کی ہستی ختم کرنے کے تھے۔ وہ تو ’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘کا پوری طرح صفایا کرنا چاہتے تھے تاکہ کوئی دوبارہ ان کی من مانیوں کے خلاف انصاف کا علم بلند کرنے نہ کھڑا ہوجائے اور عوام ان کی شکایتوں کو لے کر کسی دوسرے کے سامنے نہ جاسکیں۔
چنانچہ جمہوری صدر محمد مرسی اور ان کے رفقاء کو جھوٹے  اوربے بنیاد الزامات کی بیڑیاں پہنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا،اور ایسی عدالتیں قائم کی گئیں جو آئے دن جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کے رفقاء کو سزائے عمر قید، یاسزائے موت سنا کر دل ہی دل میں مچلتی ہیں کہ ہم نے اپنے آقائوں کوخوش کر دیا۔غاصب اور خوں خوار صدر سیسی کو لگتاہو گا کہ میری راہ ہموار ہو گئی،لیکن کیا اس کے کانوں نے صدر مرسی کے فرزند اُسامہ مرسی کے یہ بے باک جملے نہیں سنے؟:’’ظالموں کویہ معلوم ہونا چاہئے کہ ا ن فیصلوں سے ہمارے عزائم پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں،ان سے نہ تو ہمارے قدم ڈگمگانے والے ہیں،نہ مصر کی تحریک آزادی ان سے کمزور پڑنے والی ہے،اس تحریک کا محورکبھی اشخاص نہیں رہے ہیں‘‘۔سرزمین مصر کے ان سپوتوں پر ہمیں ناز ہے، جو جہاں بھی رہے اپنے رب کی عظمت و کبریائی کے نعرے لگاتے رہے،اس کی حاکمیت کے گن گاتے رہے،اس کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزارتے رہے،اور اسی میں دل کا سکون اور زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرتے رہے! اور چلتے چلتے عزیمت وایثار کی درخشندہ داستان رقم کر تے ہوئے ڈاکٹر محمد مرسی معرکہ حق میں باطل کی قائم کردہ عدالت میں اپنا دفاع کر تے ہوئے جام ِ شہادت نوش کر گئے۔وہ شدید علیل تھے۔ علاج و معالجہ سے محروم رکھا گیا۔ اس لئے اسے حراستی قتل بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس حراستی قتل کی غیر جانبدارانہ شفاف تحقیقات کی جائے  تو سچ سامنے آ سکتا ہے۔ اللہ  پاک محمد مرسی کی شہادت قبول فرمائے۔ 

تازہ ترین خبریں