12:00 pm
  نفرتوں  کے بیوپاری 

  نفرتوں  کے بیوپاری 

12:00 pm

  کہا جاتا ہے کہ گھوڑا اگر گھاس سے یاری کرلے گا تو کھائے گا کیا ؟ ہوٹل یا ڈھابے کا مالک مفت کھانا بانٹنا شروع کر دے تو اپنی روزی روٹی کیسے چلائے گا ؟ طبیب کی تجویز کردہ دوا سے ہر مریض بھلا چنگا ہو جا ئے  تو پھر کفن دفن کا سامان بیچنے والے اور قبر کھودنے والے گورکن کی روزی روٹی کا بندوبست کیسے ہو پائے گا؟  ناپسندیدہ واقعات یا حادثات سے بھی بعض حلقوں کا روزگار وابستہ ہے۔ بیماری کسے پسند ہے ؟  اپنے نسخے سے مریض کی شفا کا اہتمام کرنے والا طبیب اپنے مطب میں مریضوں کی راہ تکتا ہے۔ گورکن کدال تھامے میتوں کا انتظار کرتا ہے۔ کسی ایک کی بیماری کئی لوگوں کا روزگار بن جاتی ہے! طبیب نے معائنے کا معاوضہ پایا ۔ اسی معاوضے سے کمپائونڈر یا معاون ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں گی ۔ مریض نے دوا خریدی جس کی بدولت میڈیکل سٹور ، ڈرگ ہول سیلرز اور دوا ساز کمپنیوں کے کاروبار کو سرمایہ فراہم ہوا ۔ شفایاب ہوئے تو خوش نصیبی چل بسے تو رب کی مرضی ۔ مرگ انسانی بھی کئی افراد کی دال روٹی کا اہتمام کروا تی ہے۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ کوئی طبیب اپنے ہاتھوں کسی مریض کو خود بیمار نہیں کرتا ۔ کفن فروش یا گورکن کسی ذی روح کو قتل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت نہیں دیتے۔ دوا فروش لوگوں کے بیمار پڑنے کی دعائیں نہیں کر و ا تے ۔  تاہم ایک شعبہ حیات ایسا ہے کہ جس کا مکمل دارومدا ر انسانوں کی بربادی سے ہے! کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ! ہمارے یارِ خاص تبریز میاں کا کہنا ہے کہ سب تو نہیں لیکن اکثر اہل ِ سیاست کی کھوپڑی میں دماغ بھی نہیں ہوتا ۔ البتہ زبان کی درازی کا معاملہ مختلف ہے‘ بہت سے پیشہ ور ترجمان نما سیا ستد ا ن  اپنی زبان درازی کی کمائی کھا رہے ہیں ۔ 
 
سیاست کے سینے میں دل نہ ہونا بھی ایک تشبیہ  یا اشارہ ہی تو ہے ۔ سیاست کے سینے میں نہ سہی لیکن سیاست دانوں کے سینے میں دل ضرور ہوتا ہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اکثر یہ سیاسی دل درد مند نہیں بلکہ بے درد ثابت ہوتا ہے !  اور اسی  سیاسی دل  کی  بے دردی یا سفاکیت نے اس مقولے کو جنم دیا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔ مطلب تو یہی سمجھ آتا ہے کہ انفرادی یا گروہی  مفادات کے حصول کے لیے مخالفین کی گردنیں مار کے بھی کامیابی ملے تو گریز نہیں کیا جائے گا۔ یا سیاسی دل میں درد مندی کی جگہ کامیابی کی ہوس ہر پل انگڑائیاں لیتی ہے۔ مقامی سیاست کا رونا بھی یہی ہے لیکن آج کچھ ذ کر پڑوسی ملک پر حکومت کرنے والے اس سیاسی گروہ کا کر تے  ہیں جس نے اپنے سمیت کروڑوں بھارتیوں کے دل مذہبی نفرت کے زہر سے آلود کر دئیے ہیں۔
 آپ سمجھ تو  گئے ہوں گے کہ اشارہ بی جے پی کی جانب ہے جس نے حال ہی میں نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے قاتلوں کی سربراہی میں دوبارہ الیکشن جیت لیا ۔ اقلیت دشمنی بی جے پی کی پہچان ہے ۔ اقلیتوں سے نفرت کو ہندوتوا اور بھارتی نیشنل ازم کا نقاب پہنا کر الیکشن تو جیت لیا گیا ۔ الیکشن کے دوران ووٹ بٹورنے کے لیے جہاں موقع ملا امن کی باتیں کرنے کا ڈھکوسلا بھی خوب کیا گیا ۔ یہ وہی دن تھے کہ جب پاکستان نے سکھ برادری کے دیرینہ مطالبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرتار پور راہداری کھولنے کی فراخ دلانہ پیشکش کی‘ چونکہ الیکشن سر پر تھے اور بھارتی حکومت سے بیزار سکھ برادری کے ووٹ درکار تھے لہٰذا مودی سرکار نے بادلِ نخواستہ راہداری کے قیام کے لیے حامی بھر لی ۔ راقم نے انہی صفحات پر کالم میں کرتار پور راہداری منصوبے کے متعلق بھارتی حکومت کی متوقع بد نیتی کا ذکر کیا تھا ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت کا خبثِ باطن ظاہر ہونے لگا ۔ الیکشن گذر گئے اور بی جے پی اپنے منافقانہ نعروں کے بل پر کامیاب ہو چکی ہے ۔ کرتار پور راہداری کا منصوبہ کھٹائی میں پڑتا  دکھائی دے رہا ہے ۔ یہ کھٹائی بھارت نے بڑی محنت سے تاخیری ہتھکنڈوں کے مرتبان میں تیار کی ہے۔ کبھی متعلقہ حکام کا دورہ منسوخ کر دیا جاتا ہے تو کبھی تاریخیں بدل دی جاتی ہیں ۔ یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ مودی سرکار ایسا کیوں کر رہی ہے۔ کالم کا ابتدائی حصہ ذہن میں ر کھیے !  
بی جے پی جیسا شدت پسند  اقلیت دشمن گروہ اگر کرتار پور راہداری کا پاکستان کا تجویز کردہ  امن دوست منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دے تو پھر اُس کی اپنی زہریلی سیاست کیسے پھلے پھولے گی ۔ سیدھی سادھی بات ہے کہ منصوبہ اُس پاکستان نے تجویز کیا ہے  کہ جس کی بربادی بی جے پی کی قیادت کا اولیں نصب العین ہے ! راہداری کے قیام سے سکھ برادری کے مذہبی جذبات کی تسکین بھی ہو گی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے مثبت پیش رفت بھی ہو گی ۔ منصوبے کا یہ پہلو بھی بی جے پی کی نظریاتی فکر کے بر عکس ہے۔ ہندو مذہب کے مقابل بی جے پی کے نظریاتی کارکن کسی اور مذہب کے پیروکاروں کو برداشت کرنے کے قائل نہیں ۔ اس منصوبے کی تکمیل سے  پاکستان اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اور سکھ مذاہب پیروکاروں میں مذہبی ہم آہنگی بڑھے گی ۔ 
پاکستان سے بھارت کی ازلی ابدی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جبکہ سکھ برادری کے دلوں میں گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی اور اسی کی دہائی میں کی گئی ریاستی نسل کشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید تحفظات بھی متعصب مودی سرکار کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں۔ بی جے پی کو سیاسی کامیابی کے لیے مذہبی رواداری ، امن ، بقائے باہمی اور بھائی چارہ  کی ضرورت نہیں ۔ ہندوتوا بریگیڈ  کو سیاست چمکانے کے لیے مذہبی نفرت ، تشدد ، غارت گری اور بے بس  اقلیتوں کا خون درکار ہے۔ مودی جی امن کے پرچارک نہیں بلکہ نفرتوں کے بیوپاری ہیں۔     

تازہ ترین خبریں