12:02 pm
بالآخر این آر او!

بالآخر این آر او!

12:02 pm

٭میثاق معیشت! نیا این آر اوO پاکستان میں ایک اورافغان امن کانفرنس! پہلے جیسا ایک اور تھیئٹر! ٹرمپ! ایران پر حملہ کا حکم پھر فوراً واپسOوزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ واپس O بجٹ پر بحث ختم، اب شق وار منظوریO پہلی ٹرینوں کے 44 حادثے،نئی ٹرین کا افتتاحO امیر قطر: پاکستان آمد، معاہدےO یوٹیلٹی سٹور کراچی، کروڑوں کا گھپلاO ایف اے ٹی ایف کی پاکستان کو آخری مہلت O ڈالر 158 روپے تک۔
 
٭گزشتہ روز، جمعہ21 جون، تین بڑے یو ٹرن ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کا حکم دے کر اسے واپس لیا بلکہ امریکی طیاروں کو ایران کے ساحلی سمندر خلیج ہرمز کی فضا میں سے گزرنے سے بھی روک دیا۔ ادھر پاکستان کی یو ٹرن حکومت نے حسبِ معمول و حسبِ توفیق اسی روز دو بڑے یو ٹرن لئے۔ وزیراعظم ہائوس کو نیشنل یونیورسٹی بنانے اور اپوزیشن کے ساتھ کوئی ’’این آر او‘‘ نہ کرنے کے فیصلے واپس لئے۔ ٹرمپ کا معاملہ تو یہ ہے کہ اس کے حکم پر امریکہ کا جنگی بحری بیڑا ایران کے ساحل پر جا پہنچا اور جارحانہ جاسوسی شروع کر دی۔ پائلٹ کے بعیر ایک جاسوس ڈرون طیارہ ایران کی فضا میں گھومنے لگا، ایرانی فوج نے اسے مار گرایا۔ تقریباً پورنے دو ارب روپے کا طیارہ زمین بوس ہوا تو ٹرمپ کا پارہ چڑھ گیا، اک دم امریکی جنگی بیڑیے کو ایران پر حملے کا حکم جاری کر دیا۔ امریکی صدر کو کسی بھی کسی کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے مگر اس فیصلہ پر عمل کرنے کی کارروائی وقت لیتی ہے۔ اس حکم پر ٹرمپ کو بتایا گیا کہ ایران پر حملہ تو ہو جائے گا مگر بہت سی تباہی پھیلے گی، دونوں طرف بہت سی جانیں ضائع ہوں گی روس اور چین ایران کی مدد کو آ جائیں گے اور پھر ذلت اور شرمندگی کے ساتھ جنگ روکنا پڑے گی!ٹرمپ کے دماغ میں یہ بات آ گئی اور ایران پر حملہ کا حکم واپس لے لیا۔
یہاں تک ٹرمپ کا معاملہ تھا، اب کچھ باتیں پاکستان کی یو ٹرن سپیشلسٹ حکومت کی! کتنا شور مچایا جا رہا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہو گا، ہر گز نہیں ہو سکتا! فردوس عاشق، شیخ رشید اور فواد چودھری نے حکومت کی فصیل پر چڑھ کر بازو اٹھا اٹھا کر بار بارمنادی کی کہ کسی این آر او کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور…اور گزشتہ روز وزیراعظم کی طرف ’میثاق معیشت‘ کے نام سے نیا ’این آر او‘ آ گیا۔ یہ میثاق معیشت کیا ہے؟ قومی اسمبلی اور سینٹ کی تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی کمیٹی مل کر بیٹھے گی، ملک کی معاشی بدحالی کو ٹھیک کرنے کے بارے میں تجاویز دے گی۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے اور دوسرے معاملات زیر غور آئیں گے۔ ظاہر ہے ان پر عمل بھی ناگزیر ہو گا! اس بارے میں مزید بات سے پہلے ایک بات کہ ایک ہی روز میں دوسرا یو ٹرن! کتنے طمطراق اور کروفر کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم ہائوس میں سائنس و ٹیکنالوجی کی نیشنل یونیورسٹی بنے گی۔ احکام جاری ہو گئے۔ تین کروڑ روپے ابتدائی رپورٹ پر خرچ کر دیئے گئے اور ٹرمپیانہ حکم آ گیا کہ نیشنل یونیورسٹی کا منصوبہ ختم، اب یہاں انجینئرنگ یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا جائے! یہی انداز رہا تو مزید تین کروڑ خرچ کرنے کے بعد انجینئرنگ کی بجائے میڈیکل یونیورسٹی بھی زیر غور آ سکتی ہے۔
اب پھر میثاق معیشت کی کچھ باتیں! قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے وقت حکومت کے سارے ممبر ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے، ’کسی کو نہیں چھوڑیں گے‘ کے نعرے لگا رہے تھے تو ایوان میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف (ایوان میں ایک سمجھ دار سیاست دان!) نے معاشی بدحالی کو ٹھیک کرنے کے لئے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر کوئی حل نکالنے کے لئے میثاق معیشت کی تجویز پیش کر دی۔ اس کی آصف زرداری نے بھی تائید کر دی۔ حکومتی تیر اندازوں نے تمسخر اڑایا کہ این آر او مانگا جا رہا ہے مگر جب حکومتی آتش فشانوں کو اندازہ ہوا کہ اور کوئی راستہ ہی نہیں، تو اسمبلی کے سپیکر کو فرمان وصول ہو گیا کہ ’شملہ معاہدہ‘ کر لیا جائے! اس کا نام ’میثاق معیشت‘ ہو گا۔ میں اس تجویز کی پرزور تحسین و تائید کرتا ہوں۔ تمام محب وطن قارئین بھی اس کی حمائت کریں گے۔یہ تجویز کیا رخ اختیار کرتی ہے؟ یہ بعد کی بات ہے مگر ایک قومی سطح کی سوچ تو سامنے آئی! بلاشبہ یک جہتی کی اس سوچ کا اعزاز شہباز شریف کو جاتا ہے۔ خدا کرے کہ حکومت اور اپوزیشن، دونوں سنجیدگی کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔ اس وقت فضا مالی کرپشن سے ہٹ کر معاشی بدحالی کی بحالی کی طرف چلی گئی ہے۔ مالی کرپشن ناقابل معافی ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر پہلے ملک کو تو پائوں پر کھڑا کر لیا جائے۔
٭دنیا بھر میں ہر ملک کی ہر پارٹی میں ایک ’ٹرمپ‘ ضرور ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ زیادہ ہی ہو گئے ہیں۔ اپنی کم علمی اور عدم بصیرت کو برتری کے جعلی رنگ میں دکھانے کے لئے یہ لوگ مختلف حربے اختیار کرتے ہیں! ہر کسی کے معاملہ میں دخل دیتے ہیں، اپنے سے زیادہ سینئر اور زیادہ بصیرت اور بصارت رکھنے والے افراد کو زندگی کے اعلیٰ رموز سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، وزیر داخلہ کا عہدہ ہو تو وزارت خارجہ کی ترجمانی، سائنس کی وزارت ہو تو اطلاعات کی وزارت کے نگران، اور کوئی حیثیت بھی نہ ہو تو وزیراعظم کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایسی ’بصیرت‘ نے فیصل آباد میں صحافی کو تھپڑ مارے، اطلاعات کی معاون خصوصی خاتون کا تمسخر اڑایا، غیر منتخب معاونین و مشیروں کو نااہل قرار دے دیا اور اب نیب کو بھرپور طعنہ دیا کہ ’’تم کیا کر رہے ہو، احتساب تو حکومت کر رہی ہے!‘‘ پرانی کہانی ہے کہ ایک سوئے ہوئے مالک کے منہ پر بیٹھی مکھی اڑانے کے لئے ایک ’جانثار‘ چوبدار نے مالک کے منہ پر ڈنڈا مار دیا تھا! یہی بات تو اپوزیشن بار بار کہہ رہی ہے کہ ’احتساب حکومت کر رہی ہے‘ اب اسے سند مل گئی ہے۔ پرانا مقولہ ہے کہ نادان کی دوستی سے عقلمند دشمن کی دشمنی بہتر ہے۔ اب نیب نے اس ٹرمپیانہ حرکت کا سخت نوٹس لیا ہے اور قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے؟ تو آئیں بائیں شائیں شروع کہ ذرا بات کا انداز بدل گیا ورنہ ہے تو یہی بات کہ نیب کا سارا موجودہ احتساب عمران خان کے آنے سے ہی شروع ہوا ہے، ورنہ پہلے کہاں تھا؟ اب نیب جانے اور ’ٹرمپ‘ جانے مگر بھان متی کے کنبے نے کیسے کیسے عجوبے جمع کر لئے ہیں۔
٭خدا خیر کرے! وزیرریلوے شیخ رشید نے ایک اور اعلان جاری کیا ہے کہ 3 جولائی کو وزیراعظم راولپنڈی سے کراچی براستہ فیصل آباد ایک اور ٹرین کا افتتاح کریں گے! غالباً وزیر ریلوے 30 مارچ کو وزیراعظم کو ہاتھوں افتتاح شدہ پرانی بوسیدہ بوگیوں والی جناح ایکسپریس کی اب تک کارکردگی سے بہت شادمان ہو رہے ہوں گے! تین روز قبل خوفناک حادثہ، ٹرین کا انجن مکمل تباہ، تین ڈرائیور جاں بحق، متعدد زخمی، بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، سینکڑوں مسافر، بزرگ و خواتین بچے کئی گھنٹے بھوکے پیاسے شدیید گرمی میں بے حال، دو گھنٹے تک کوئی امدادی ٹرین، کوئی ریلوے افسر نہیں آیا۔ مین لائن کی تمام ریلوے ٹریفک گھنٹوں رکی رہی۔ بہت کچھ چھپ چکا ہے۔ اور اب ایک پرانی بوگیوں والی نئی ’’سرسید ایکسپریس‘‘ کا افتتاح!! پنجابی زبان کا ایک محاورہ ہے ’’آگے دوڑ پیچھے چَوڑ یعنی پیچھے سب کچھ گڑ بڑ۔‘‘ اس وزارت ریلوے کے ہاتھوں 10 ماہ میں ٹرینوں کے 44 حادثے ہو چکے ہیں۔ اور اب ’سرسید ایکسپریس!خدا تعالیٰ رحم فرمائے!!
٭ دنیا بھر میں ہوائی اڈوں کے رن وے اتنے گہرے اور مضبوط بنائے جاتے ہیں کہ ہزاروں ٹن وزنی نہائت بھاری بھر کم بڑے بڑے طیارے بھی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ مسلسل یکے بعد دیگر اترتے چلے جاتے ہیں مگر رن وے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا! اور! اور! لاہور اور سیالکوٹ کے رَن وے آج سے اس لئے بند کئے جا رہے ہیں کہ یہ استعمال کے قابل نہیں رہے۔ لاہور کا مرکزی رن وے روزانہ 9 بجے سے 5 بجے شام تک اور سیالکوٹ کا رن وے 24 جون سے 3 جولائی تک مسلسل دس روز بالکل بند رہے گا! بدقسمتی! رن وے بھی کرپشن کے شکار ہو گئے! الامان!

تازہ ترین خبریں